عین اس وقت جب پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ایران کی طرف سے اس سلسلہ میں 500ملین ڈالر کی مالیت کیقرضہ کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ ایفاء نہیں ہو سکے گا تو یہ خبر نہایت مسرت انگیز قرار پائی کہ جہان پارس انجینئرنگ و کنسٹرکشن نامی ایک ایرانی کمپنی نے اس منصوبہ کے لئے 1.8بلین ڈالر فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے ۔یہ کمپنی ایسے بڑے منصوبوں کے لئے فنی اور مالی تعاون فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس حوالہ سے اس کی ساکھ نہایت قابل اعتماد تصور کی جاتی ہے البتہ یہ امر ہنوز قابل غور ہے کہ مذکورہ منصوبہ دراصل ایران اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان طے پایا تھا ۔ اس پس منظر میں عام خیال یہی ہے کہ پاکستان کی حکومت جہان پارس کمپنی کو یہ بات باور کرائے گی کہ وہ اس منصوبہ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تہران کے توسط سے پیشرفت کرے ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ مذکورہ پائپ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ ایران کی ایک کمپنی تدبیر انرجی کو دیا جائے گا جو پاکستان میں پائپ لائن بچھانے کے لئے 500ملین ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گی۔ اس معاملہ بارے سابق حکومت نے وزیراعظم کے مشیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے ایرانی حکومت سے 500ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کی راہ ہموار کی تھی اور جب ہم نے حکومت چھوڑی تھی تو اس وقت قومی خزانہ میں مذکورہ منصوبہ کے لئے 470ملین ڈالر موجود تھے ۔ اب یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی اہمیت اور افادیت کے اس منصوبہ پر کام کو آگے بڑھائے ۔ اس وقت ملک میں توانائی کا جو بحران مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجہ میں صنعتی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہو رہی ہے ، اگر اس منصوبہ پر کامیابی سے عملدرآمد کیا گیا تو توانائی کے اس بحران پر قابو پایا جا سکے گا ۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اگر فرنس آئل سے پیدا کی جانے والی توانائی کی پیداوار کو درآمد شدہ گیس پر تبدیل کر دیا جائے تو اس سے 2.4بلین ڈالر سالانہ کی بچت نہایت آسانی سے ہو سکے گی۔
مبصرین کا یہ خیال بڑی حد تک حقیقت پر مبنی ہے کہ پاک ایران گیس پائپ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے حوالہ سے اب ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔قبل ازیں ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں آئل ریفائنری قائم کرے گا۔ گوادر بندر گاہ پر 4ارب ڈالر مالیت سے آئل ریفائنری کے قیام کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جا چکے ہیں۔ ایران گوادر تک تیل کی پائپ لائن بچھائے گا جس کے ذریعے ایران سے تیل لا کر پاکستان میں صاف کیا جائے گا ۔ پاک ایران گیس پائپ لائن پر دنیا بھر میں امریکہ کے سوا کسی کو شکایت اور اعتراض نہیں ہے ۔ گذشتہ دنوں امریکہ نے ایک بار پھر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدر آمد کی صورت میں اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی تھی تا ہم پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ منصوبہ دباؤ کے باودجود بروقت مکمل کیا جائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن منصوبہ ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور ونڈے شرمین کے مطابق پاکستان کو ہمارا مؤقف سمجھنا ہو گا ورنہ منصوبے پر کام کرنے کی صورت میں پاکستان کو بھی معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ سینیٹ کی بین الاقوامی تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے ونڈے شرمین نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ امریکہ ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا اور پاکستان سمجھتا ہے کہ ان پابندیوں کا مطلب کیا ہو گا۔ صرف پاکستان نہیں بلکہ جو بھی ملک امریکہ کی مخالفت کے باوجود اس طرح کا کوئی بھی کام کرے گا تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا ۔ اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ میننڈز نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے دورہ امریکہ کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ پاکستان کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے اور ہم اس سلسلے میں کسی بھی طرح کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو گی جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔
قارئین کو ضرور یاد ہو گا کہ سال رواں کے آغاز میں یعنی مارچ 2013ء میں پاک ایران سرحد پر ایران کے ساحلی شہر چاہ بہار میں ایک روشن اور خوشگوار دن ایک تاریخ ساز باب یوں رقم ہوا کہ اس روز ایران اور پاکستان کے سربراہوں یعنی صدر آصف علی زرداری اور صدر محمود احمدی نژاد نے پاک، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کا افتتاح کیا اور اس کو امن گیس پائپ لائن کا نام دیا جو حقیقی معنوں میں تاریخی واقعہ اور اس خطے میں نمودار ہونے والی تبدیلیوں کی پہلی جھلک ہے۔اس عظیم منصوبے کو امن کے نام سے منسوب کرنا بلاشبہ درست فیصلہ اور وقت کی بنیادی ضر ورت ہے۔42 انچ قطر کی اس پائپ لائن کی کل لمبائی 2778 کلومیٹر ہے جس میں 785 کلومیٹر طویل لائن پاکستان میں بچھے گی۔ ایران نے اپنے علاقے میں اب تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھالی ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کو ایران یومیہ 750 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کرے گا جس سے بجلی کی پیداوار میں 4 ہزار میگاواٹ اضافہ ہوگا۔ بعدازاں گیس کی فراہمی بڑھا کر ایک ارب کیوبک یومیہ کر دی جائے گی جس سے بجلی کی پیداوار بڑھ کر 5 ہزار میگاواٹ ہو جائے گی۔قدرتی گیس کے استعمال سے سالانہ ایک ارب ڈالرز زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ پاکستانی علاقے میں پائپ لائن بچھانے میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ ایران 50 کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا ۔اس منصوبہ سے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔
یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ 16 مارچ 2010ء کو انقرہ میں ایران پاکستان نے گیس پائپ لائن کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔جولائی 2011ء میں ایران نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ معاہدے میں یہ طے پایاہے کہ 2014ء کے اختتام تک تہران اپنے مشرقی ہمسائے ممالک کو یومیہ 750 کیوبک فٹ گیس فروخت کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے علاقہ صلاحی  سے پاکستانی سرحد تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ خلیج میں ایران کے جنوبی فارمس فیلڈ سے اس گیس کو حاصل کرنے کے لیے ایک اور 800 کلومیٹر پائپ لائن پاکستان کے اندر بچھانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ایران کے پا س دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گیس کے ذخائر ہیں لیکن پائپ لائن نہ ہونے کے سبب وہ اس کا معمولی حصہ درآمد کرتا ہے۔پاک ایران گیس پائپ لائن پر امریکہ کو(بلا جواز) اعتراضات ہیں۔ واشنگٹن نے پوری کوشش کی پاکستان بھی اس شامل نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے دباؤ، دھمکی اور زبانی جمع خرچ کی حد تک ترغیب و تحریص سے بھی کام لیا گیا لیکن اس ضمن میں پاکستان اور ایران کی قیادت نے بلاشبہ جرأت مندانہ طرز عمل اختیار کیا۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے کسی بھی دباؤ کی پروانہ کرتے ہوئے صرف اور صرف اپنے عوام کے مفادات اور قومی ترجیحات کو مدنظر رکھا ہے۔امن گیس پائپ لائن منصوبہ کے سنگ بنیاد پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کو غلط سمت میں لے جائے گااور ہم نے اپنے تمام خدشات سے پاکستان کو کھل کر آگاہ کر دیا ہے ۔
زمینی حقائق کا معروضی تجزیہ نشاندہی کرتا ہے کہ اگرایران اور پاکستان، افغانستان میں امریکی منصوبوں کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیں تو امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کرسکے گا اور وہ یہ قیمت ہے جو امریکہ 10سال کی طویل جنگ اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد کبھی برداشت نہں کر سکے گے ۔ پاکستان کیلئے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کئی راستے ہوں گے۔ وہ ایران سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکے گا۔اگر روس ساری پابندیوں کے باوجود ایران سے تجارت کر رہا ہے تو وہ بھی اسلام آباد کی مدد کو تیار ہو سکتا ہے۔اسی طرح چندپاکستانی درآمدات پر پابندیاں لگیں گی تو ان کا متبادل چین آسانی سے فراہم کر دے گا۔گویا پاکستان کو مجبور کر کے دوری کے راستے پر دھکیل دینا خود امریکہ کو بہت مہنگا پڑے گا۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ امن گیس پائپ لائن کا منصوبہ نہ صرف ہر اعتبار سے ایک انقلابی پیش رفت ہے بلکہ یہ پاک ایران دوستی کا نہایت شاندار ثبوت بھی ہے۔

765
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...