کاش کوئی جا کر خبر دے پاکستان کو
                                                                                 تیری محبت میں کوئی جان دے چلا ہے
قیا م پاکستا ن سے پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جماعت اسلامی پاکستان مخالف ہے، لیکن 1971میں پاکستان کے دفاع اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے خلاف ان کے کارکنوں نے سردھڑ کی بازی لگا دی۔ ارض پاکستان کے دفاع کے لیے لہو دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔ لیکن ان کی اس قربانی کو ان کا جرم بنایا گیااور کہا گیا کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں قتل عام میں حصہ لیا۔ البدر اور الشمس نامی ’’دہشت گرد‘‘ تنظیمیں بنائیں لیکن آج وقت نے گواہی دی کہ یہی لوگ حق پر تھے باقی لوگ باطل ہیں۔پاکستان کی محبت میں اپنی جان قربان کرنے والا شخص آج ہم پاکستا نیوں کی نظر میں اجنبی ہے ۔نئی نسل سے تعلق رکھنے والا ہر نوجوان اس کی صورت سے نا آشنا ہے۔ وہ شخص جو اسلام اور پاکستان کی محبت کی خاطر پھانسی کے پھندے پر ہنستا مسکراتا جھول گیا اس کی پھانسی کی خبر ہمارے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا نے جنگی جرائم میں مرتکب قرار دے کر پھانسی دیئے جانے کی نشرکی۔ لیکن افسوس کہ پاکستانی حکمران اور میڈیا ہمارے اس محب وطن کے لیے کچھ نہ کرسکا۔
ملا عبدالقادر کا قصور کیا تھا یہی نا کہ اس نے پاکستان سے محبت کی، وہ پاکستان کے دولخت ہونے کا مخالف تھا ۔اس محب وطن پاکستانی کا خیال تھا کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت سے ساز باز کر کے پاکستان کو توڑنے کی سازش کررہا ہے اور وہ اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس باہمت نوجوان نے پاکستانی عوام اورفوج کاساتھ دیتے ہوئے پاکستان ، نظریہ پاکستان اور اسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا مگر شیخ مجیب الرحمان اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا ۔ نوے ہزار سے زائدپاکستانی فوجی شیخ مجیب کی غدارانہ حکمت عملی کی وجہ سے بھارت کی قید میں چلے گئے ۔ ملا عبدالقادر جیسے ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کو پاکستانی فوج کی مدد کرنے پر چن چن کر مارا گیا۔سرعام چوکوں میں پھانسیاں دی گئیں ۔ ان کا جرم صرف اسلام ، پاکستان اور پاکستانی فوج سے محبت ٹھہرا۔پھر ایک ایسا وقت بھی آیا جب شیخ مجیب الرحمن کو بپھرے ہوئے بنگلہ دیشی عوام نے پاکستان توڑنے کی سزا دی اور اس کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔ شیخ مجیب کو اس کے اپنے ہی فوجیوں نے قتل کردیا۔ اس وقت اس کی بیٹی بیرون ملک تھی۔بنگلہ دیش واپس آکر اس نے سیاست میں حصہ لیا تو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بن کر اپنے باپ کا انتقام لینا شروع کردیا۔ جن لوگوں پر آج جنگی جرائم میں مقدمات چلائے جارہے ہیں وہ تو دو دوبار پارلیمنٹ کے ممبران بھی رہ چکے ہیں۔ شہیدملاعبدالقادر بنگلہ د یش کے آئین کے تحت دو دفعہ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے تو کیا اس وقت کسی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ محبت وطن ہے یا غدار ہے۔
میرا سوال آپ جیسے محب وطن لوگو ں سے ہے کہ کیا عبدالقادر ملاجان بچانے کے لیے ان ظالم اور جابر حکمرانوں سے معافی نہیں مانگ سکتا تھا۔ کیا یہ کام اس کے لیے مشکل تھا۔ اگراس کو اپنی جان عزیز ہوتی تو وہ بنگلہ دیش میں تختہ دار پر کیوں چڑھتے مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس نے ایک نظریہ پر جان دی۔ اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ’’میں نے ایک سب سے بڑی اسلامی ریاست کو بچانے کی جدوجہد کی۔میں نے ان لوگوں اور فوجیوں کا ساتھ دیا جو رنگ میں، نسل میں، زبان میں مجھ سے مختلف تھے مگرمیرے ہم مذہب تھے ‘‘ لیکن افسوس صد افسوس پاکستانی حکمرانوں پر جنہوں نے اپنے اس محسن کے لیے بالکل بھی آواز نہیں اٹھائی۔پاکستان سے زیادہ تو اسلام محبت کا ثبوت ترکی والوں نے دیا جنہوں نے بنگلہ دیشی سفارت خانے کا گھیراؤ کیا۔پاکستان جو بنگلہ دیش کو اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہے جو اس کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کے لیے میچ ہار جاتا ہے کیا یہ اس کا صلہ مل رہا ہے حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں۔بنگلہ دیش پاکستان سے وہی سلوک کررہا ہے جو شیخ مجیب کے دور میں ہوا تھا۔ کل شیخ مجیب بھارت نواز تھے اور آج بھی اسکی بیٹی کی حکومت ہے اور یہ بھی انہی بھارتیوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر اپنے دشمنوں سے انتقام لیتے ہوئے بنگلہ دیش کودلدل میں دھکیل رہی ہے۔ اگرہم لوگ ملا عبدالقادر کی پھانسی کو مدنظر رکھ سوچیں تو حقیقت خودبخود آپ کے سامنے آجائے گی۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی صورت میں ملا عبدالقادر کو پھانسی دی گئی ہے تو بنگلہ دیش نے کونسی جنگ لڑی ہے اور کس ملک سے لڑی ہے اگرجنگ لڑی گئی تو پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئی توپھر ملا عبدالقادر نے بھارت کا ساتھ تو دیا نہیں ساتھ دیا ہے تو پاکستان کا۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ ملا عبدالقادر نے جو شہادت کا راستہ اختیار کیا وہ کس کے لیے جی صحیح سمجھے یہ اسلام اورپاکستان کی محبت تھی جس کے لیے اس نے پھانسی کے پھندے کو پھولوں کی مالا سمجھ کر بخوشی اپنے گلے میں پہن لیا۔ پھر ایسے بندے کو شہید پاکستان کا نام نہ دیا جائے توکیا دیا جائے گا۔ملا عبدالقادر کی شہادت کے ساتھ ہی ان کا آخری خط بھی منظر عام پر آگیا ہے۔میں صدقے جاؤں ایسے شہیداسلام کے جس کو معلوم ہے کہ آج اس کی زندگی کی آخری رات ہے مگر وہ ڈرے نہیں ، لرزے نہیں بلکہ کیا سنہری الفاظ لکھ بھیجے’’زندگی اور موت کے درمیان کتنی سانسیں ہیںیہ رب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا‘‘بات یہی نہیں ختم ہوئی بلکہ پاکستان سے محبت کے الفاظ اب بھی باقی تھے او رلکھ دیا’’اللہ تعالیٰ پاکستان کے مسلمانوں اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں پر آسانی فرمائے‘‘کیااب بھی شک ہے ملاعبدالقادر کی پاکستان سے محبت میں۔
پاک فوج جو دنیا کی بہادر ترین فوج ہے اس کو ایک یحییٰ جیسے جرنیل کی وجہ سے سرنڈر کرنا پڑا ، اس کی حفاظت عبدالقادر ملا جیسے جوانوں نے کی ۔ اور پاک فوج سے محبت ہی ان کا جرم بنا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس کی شہادت پر تمام اداروں کو سانپ سونگھ گیا ۔ عوام، سیاستدان، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر سب لوگ کہاں گم ہیں ۔ کیا امریکہ کی آنکھوں میں دھول گر گئی ہے ہاں صرف جماعت اسلامی جس نے ایسے سپوت اس امت کو دیے ان کو سلام کہ انہوں نے جگہ جگہ اپنی مقدور بھر اس امت کو احساس دلایا کہ ہمیں ایک امت بن کر زندہ رہنا ہوگا ورنہ اسلامی تشخص کو بگاڑنے کے لیے غیر مسلم طاقتیں ایسے ہی وار کرتی رہیں گی۔ملا عبد القادرنے اپنے لئے جس راستے کا انتخاب کیا وہ دنیاپرستوں کا راستہ نہیں ہے بلکہ وہ تو یحییٰ ابن زکریا کا راستہ ہے جن کے سر کو دھڑ سے الگ کردیا گا۔ وہ خبیب ابن عدی کا راستہ ہے جنہں مکہ میں سولی پر لٹکادیا گیا تھا ۔ملاعبدالقادر ہم شرمندہ ہیں کہ ہم تیرے لیے کچھ نہ کرسکا پر اپنے رب العزت سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ،آمین ۔

877
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...