24نومبر کو جب ویانا میں ایران اور دنیا کے چھ اہم ممالک کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالہ سے معاہدہ طے پایا تو عالمی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر عام رہا کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ پر اہم تبدیلیوں کا باعث ثابت ہو گا۔ یہ تاثر گذشتہ (تقریباً) تین ہفتہ کے مختصر عرصہ میں ہی بجا طور پر درست اور سچ ثابت ہو چکا ہے ۔ معاہدہ کے فوراً بعد عالمی سطح پر جو رد عمل ظاہر کیا گیا اس کا تجزیہ اور مطالعہ یہ دلچسپ مگر نہایت فکر انگیز حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ریاستوں سمیت عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کی طرف سے اس ضمن میں تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔ اسرائیل نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جس پر مبصرین کو ہر گز حیرت نہیں ہوئی کیونکہ تل ابیب کا رویہ ایران کے بارے میں ہمیشہ غیر مہذب حد تک سخت گیر رہا ہے ۔ اس تناظر میں ایرانی حکومت نے اپنے ہمسایہ عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مذکورہ معاہدہ سے ان کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوں گے اور تہران کا مقصد اپنی خود مختاری اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے ان اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا ہے جو مغرب کی جانب سے اس پر عائد کی گئی پابندیوں کے نتیجہ میں سامنے آئی ہیں۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی اپنے عرب دوستوں اور اپنے ’’مرغ دست آموز ‘‘یعنی اسرائیل کو یقین دلایا کہ جنیوا معاہدہ دراصل عالمی امن کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور اس معاہدہ سے امریکہ کے دوستوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا ۔
ادھر 24نومبر کو طے شدہ معاہدہ کے تحت اب ویانا میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات تک زیادہ سے زیادہ رسائی اور مانیٹرنگ کا عندیہ دیا ہے ۔ امریکہ کی ایک اعلیٰ سفارت کار وینڈی شرمین جو جنیوا میں جوہری تنازعہ بارے مذاکرات اور سفارت کاری کا حصہ رہی ہیں کہا کہ امریکہ کو ایرانی جوہری پروگرام کی بن بلائے اور بلا اجازت انداز میں مانیٹرنگ پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عشروں پر پھیلی عدم اعتماد کی فضاء کی موجودگی میں امریکہ کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کی مانیٹرنگ اور تصدیق پر بھروسہ کرے ۔ وینڈی شرمین نے یہ بھی کہا کہ ایسی مانیٹرنگ کا ہمیں پہلے ہی مرحلے پر اہتمام کرنا ہو گا اور اس جوہری مانیٹرنگ کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود تر کرنا اور تنصیبات کو مسلسل زیر معائنہ رکھنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وینڈی شرمین نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے پہلے اور بعد میں ہر مرحلے پر امریکہ اپنے عرب دوستوں کے ساتھ ہو گا لیکن ایران کے ساتھ چھ طاقتوں کے مذاکرات کا بنیادی موضوع ایک ہی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کو کیسے روکا جائے ۔ ایران پر سے اٹھائی جانے والی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے وینڈی شرمین نے کہا کہ محض چند پابندیاں اٹھائی جائیں گی اور ایران کے منجمد کئے گئے 100ارب ڈالروں میں سے ایران کو صرف چند فیصد واپس ملیں گے ۔
تہران میں طلباء سے خطاب کے دوران ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ نومبر میں طے پانے والے ایٹمی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میری حکومت اعتدال پسندی کی پالیسی جاری رکھے گی ۔ عالمی برادری سے روابط اور تعلقات کے بغیر اقتصادی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی 24نومبر کے معاہدہ کے بعد پڑوسی ممالک کا دورہ کیا اور اپنی حکومت کے موقف کو صراحت کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایران کا مقصد عالمی امن کو فروغ دینا اور خطہ کے ممالک کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھانا ہے ۔ ایرانی حکومت اور عوام امن پسند ہیں اور وہ کسی صورت میں امن کو ناکام ہونے نہیں دیں گے ۔ تہران کی طرف سے جس نرم اور لچک دار رویہ کا اظہار کیا جا رہا ہے ، سفارتی اور سیاسی مبصرین نے اس کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔ عام تاثر ہے کہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی بھرپور کوشش ہے کہ عالمی رائے عامہ پر ثابت کیا جائے کہ ایران کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران یہ حقیقت بھی اجاگر کرنے کا متمنی ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور قوم کی طرح ایران کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے سلسلہ میں اپنے وسائل اور اپنی مہارت کو بروئے کار لائے ۔
دریں اثناء بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مڈل ایسٹ پولیٹیکل سینٹر میں ایک تقریب سے خطاب اور اپنے ایک بیان میں امریکی صدر باراک اوباما نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے متعلق اسرائیل کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے گرد ویری فکیشن میکنزم مثالی ہے ۔ ووہ اس طریقے سے ایٹمی ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا جس طرح پاکستان اور شمالی کوریا نے حاصل کر لئے تھے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے نہ تو معائنے کے انتظامات تھے اور نہ ہی اس وقت بین الاقوامی پابندیاں اور اقوام متحدہ کی قرار دادیں موجود تھیں۔ اسی طرح شمالی کوریا کے ساتھ امریکہ نے جب معاہدہ کیا تو وہ پہلے ہی ایٹمی ہتھیار بنا چکا تھا۔امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ایران کے جوہری تنازعہ کا مثالی حل نا ممکن ہے تا ہم انہوں نے کہا کہ ہماری مساعی کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو پر امن مقاصد تک محدود رکھنا ہے ۔ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ناخن برابر جوہری خطرے کو بھی ختم کر دیتے تا کہ جوہری پروگرام کا فوجی مقاصد کے لئے استعمال کا معمولی امکان بھی نہ رہتا لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے ہیں چنانچہ ہم ایران کو پر امن جوہری توانائی کے حصول تک محدود کریں گے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ایران کے جوہری پروگرام کا ایک مثالی حل تلاش کریں جس میں ہم ایرانی جوہری پروگرام کے تمام عناصر ترکیبی کو تباہ کر دیں تو میرے خیال میں ایسا عملاً نا ممکن ہے ۔ ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کو بعض شرائط کے اندر محدود کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے میکنزم بھی تیار کرلیا ہے۔ اس کے عوض میں ایران کو محدود پیمانے پر یورینیم افزودگی کا حق دیا جائے گا۔ 24نومبر کے جنیوا معاہدہ کے بعد امریکی حکومت سفارتی سطح پر متحرک مشاہدہ کی گئی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر دفاع چک ہیگل نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ فوری طور پر رابطہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ امریکہ اپنے دوستوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا بلکہ ان کے مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے پیچھے فوجی طاقت بھی ہونی چاہیے۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر عبوری معاہدے کے باوجود ایران کی جانب سے لاحق سیکورٹی خدشات ختم نہیں ہوئے ۔امریکہ خطے میں 35ہزار فوجیوں کے ساتھ موجود رہے گا۔ چک ہیگل نے خلیجی عرب ممالک کو میزائل دفاعی نظام اور دیگر ہتھیاروں کی فروخت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کو لا حق خطرات سے واقف ہے۔ خطے میں امریکی فوج موجود ہے اور مختصر نوٹس پر کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ امریکی وزیر دفاع متحدہ عر ب امارات بھی گئے اور سلامتی کے حوالے سے یقین دہانی کرائیں۔ چک ہیگل نے متحدہ امارات میں سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کر کے اپنے عرب دوستوں کو اطمینان دلایا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ خطے میں پوری طاقت کے ساتھ موجود رہے گااوراس کا خطے میں اپنی فورسز اور اسلحے کی موجودگی میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ بعد ازاں چک ہیگل سعودی عرب بھی گئے ۔
ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلہ میں جو معاہدہ طے پایا، اس کے اثرات وطن عزیز پر بھی مرتب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک عام تاثر ہے کہ مذکورہ معاہدہ کے بعد امریکہ آئندہ برس افغانستان سے انخلاء کی صورت میں پاکستان کی بجائے ایران کا راستہ اختیار کرے گا۔ حالیہ دنوں میں نیٹو سپلائی لائن کی بندش کے بعد امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے اسلام آباد میں حکومت کو جس انداز میں واشنگٹن کے عزائم سے آگاہ کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر بعض امور پیچیدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں افغان صدر حامد کرزئی نے بھی ایران کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کا عندیہ دیا۔ ایک افغان سفارت کار نے اسلام آباد میں بتایا کہ پاکستان میں ریل روڈ روابط اور امن کے فقدان، راہداری ڈیوٹی میں اضافے، بھارت کیساتھ تجارت کی عدم اجازت اور امریکہ ایران کے معاہدے ے بعد افغان تاجر ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کی طرف مائل ہو گئے۔افغانستان کے تجارتی حجم میں 35فیصد اضافہ ہو گا۔ بھارت نے بھی گوادر کے مقابلے کے لئے 10کروڑ ڈالر سے زائد لاگت سے ایران افغان شاہراہ کی تعمیر مکمل کر لی اور مزید 10کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایرانی بندر گاہ کو جدیدبنایا جائے گاجبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، ایران اور بھارت کے مشترکہ تعاون سے ایران افغان 124کلو میٹر طویل ریلوے لائن 2015ء میں مکمل کر لیا جائے گا۔ افغانستان اور ایران کے مابین تجارتی روابط کے فروغ اور بیرونی تجارتی حجم میں اضافے کے لئے چاہ بہار کی بندر گاہ کو کافی عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے تا حال پاکستان سے افغان درآمدات کا حجم 34فیصد اور ایران سے 41فیصد ہے جو بھارت کی طرف سے چاہ بہار کی بندر گاہ کی بہتر ی اور چاہ بہار، ہیرات شاہراہ و ریلوے لائن کی تعمیر سے 35فیصد مزید بڑھ جائے گی۔ افغان سفارت کا ر کا کہنا تھا کہ بھارت چاہ بہار، ایران شہر، زاہدان اور میلاق سے گزرنے والی 220کلو میٹر چاہ بہار۔ قندھار۔ ہرات( دل آرام تا زرنج) شاہراہ کی تعمیر 10کروڑ 35لاکھ ڈالر کی لاگت سے مکمل کر چکا ہے اور حال ہی میں چاہ بہار کی بندر گاہ پر مزید تین برتھوں ، کنٹینرز ٹر مینل اور جدید کرینز کی تنصیب کے لئے 10کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں بھارتی ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف سی سی آئی ، ٹکی) کی فنڈنگ بھی شامل ہے ۔چاہ بہار تا فاہراج ریلوے لائن کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے جسے بعد ازاں بام تا زاہدان ریلوے لائن کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا جبکہ ایران، بھارت، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور وسط ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (سی اے آر سی) پروگرام کے تحت 7کروڑ 50لاکھ ڈالر کی لاگت سے افغان تا ایران( 124کلو میٹر طویل) ریلوے ٹریک کی تعمیر کے حتمی مراحل میں ہے اور اس کو 2015ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔
افغان تاجروں کی طرف سے ایران اور بھارت کو پاکستان پر ترجیح دینے کی وجوہات کے حوالے سے سفارت کار موصوف نے بتایا کہ پاکستان میں آئے روز سرحدی بندش اور افغان تاجروں کے سامان کو پہنچنے والے نقصان سمیت کئی مسائل کی موجودگی کے باعث افغان تاجر ایرانی تجارتی راہداری کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ امریکہ و ایران کے مابین بہتر تعلقات سے افغان تاجر و کاروباری طبقے کو فائد اور افغان معاشی و اقتصادی مشکلات کا ازالہ ہو گا۔پاکستان کی طرف سے واہگہ کے راستے بھارت کے ساتھ تجارت کی اجازت نہ دینا، صرف کراچی کی بندر گاہ کے استعمال پر اصرار، راہداری ڈیوٹی میں اضافے اور مالیاتی ضمانتوں کی فراہمی کی شرائط کے باعث افغان تاجر اور کاروباری طبقہ ایران میں چچاہ بہار کے آزاد تجارتی و صنعتی زون کو ترجیح دے رہا ہے اور امید ہے کہ ایرانی صوبے سیستان۔ بلوچستان میں امن و استحکام کے باعث تجارتی سامان کی نقل و حمل آسان اور بھارت کے ساتھ تجارتی روابط میں بہتری آئے گی۔ افغان سفارت کار نے اعتراف کیا کہ گوادر کی بندر گاہ افغانستان کے لئے کراچی کے مقابلے میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے تا ہم بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال ، تاحال گوادر تک مناسب سڑکوں، ریلوے لائن کی ابتری اور بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی، سیاسی و سیکورٹی وجوہات کے باعث سرحدی مشکلات نے گوادر کی اہمیت کو ماند کر دیا ہے ۔
یہ حالات اور واقعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ 24نومبر کو ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان جو معاہدہ طے پایا وہ اگرچہ چھ ماہ کی مدت کے لئے ہے لیکن اس کے اثرات عالمی سیاسی حالات پر نہایت گہر ے اور دور رس مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ تجزیہ اور خیال ایک حقیقت کا روپ اختیار کر گیا کہ آئندہ برس یعنی 2014ء میں امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان سے انخلاء کے لئے ایران کا راستہ اختیار کریں گی تو یقینی طور پر پاکستان کی حکومت کو سفارتی ہی نہیں بلکہ اقتصادی سطح پر بھی نہایت غیر معمولی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا ۔ اس سلسلہ میں پالیسی ساز شخصیات اور ادارے اپنے فرائض کس سطح پر اور کس انداز میں ادا کر رہے ہیں ، اس کا علم تو وقت آنے پر ہی ہو گا ، فی الحال اس جہت میں خاموشی کا راج ہے ۔

871
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...