24نومبر کو جنیوا میں ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلہ میں ایک معاہدہ طے پایا جس کو بین الاقوامی برادری اور سفارتی حلقوں میں نہایت تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ تجزیہ کاروں نے اس پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ۔اکثر کا خیال رہا کہ ایرانی قیادت نے نہایت دانشمندی اور تدبر سے کام لیتے ہوئے اپنی قوم کو شدید اقتصادی اور معاشی مشکلات کا شکار ہونے سے بچا لیا ہے کیونکہ اس معاہدہ کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی آئے گی اور ایرانی حکومت کو منجمد کردہ 100ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 7ارب ڈالر دستیاب ہو جائیں گے ۔ دوسری طرف یہ تجزیہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ معاہدہ کی مدت محض چھ ماہ ہے جس کے دوران امریکہ ایران کی سرزمین کو افغانستان سے اپنی فوجوں اور عسکری ساز و سامان کی واپسی کے لئے استعمال کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کے بعد واشنگٹن کا رویہ کیا ہو گا؟۔
مستقبل کے حوالہ سے تو حقائق اور واقعات رفتہ رفتہ اور خود بخود سامنے آئیں گے لیکن 24نومبر کے معاہدہ کے فوراً بعد جو حقیقت فوری طور پر مشاہدہ کی گئی وہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک کا رد عمل تھا ۔ اسرائیل نے تو واضح الفاظ میں عندیہ دیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اس کے لئے ناقابل قبول بلکہ پریشان کن ہے ۔ دوسری طرف بعض عرب ممالک کی طرف سے خیال ظاہر کیا گیا کہ ایران کے ساتھ معاملہ طے کرتے وقت مذکورہ عرب مفادات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا اور خاص طور پر شام اور لبنان کے سیاسی حالات اور عوامی رجحانات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا ۔ ایسی صورت حال میں مستقبل میں سنگین نتائج سامنے آئیں گے ۔ واشنگٹن کی طرف سے اس صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کے لئے جو مشکلات پیدا ہو رہی ہیں ان کا ازالہ فوری طور پر ممکن نہیں ہے ۔
امریکہ نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے فوراً بعد ناراض اسرائیل کو منانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور دیگر اعلیٰ حکام اسرائیل سے سیکورٹی معاملات پر مذاکرات کے لئے اسرائیل پہنچے۔ یہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے ہونے والے ایٹمی سمجھوتے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اسرائیل تھا۔ امریکہ نے اسرائیل کو یقین دلایا کہ ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ عبوری ایٹمی معاہدے کے باوجود اس کے خلاف پابندیاں برقرار رہیں گی۔ وزیر خارجہ جان کیری اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیت المقدس میں بات چیت کے دوران اپنی دوستی پر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جان کیری نے اسرائیل کو یقین دلایا کہ ایران کے خلاف بنیادی پابندیاں بدستور برقرار ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ ایران سے ایٹمی مذاکرات میں اسرائیل کی سلامتی ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہیں اٹھائی جائیں گی ۔ جان کیری نے کہا کہ پیچیدہ ہونے کے باوجود اسرائیل امن مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے ۔
ایران کے ساتھ جنیوا معاہدہ کے بعد امریکی وزیر خارجہ کے علاوہ وزیر دفاع چک ہیگل بھی عرب دنیا کو سلامتی کے حوالے سے یقین دہانیاں کرانے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔ چک ہیگل نے متحدہ امارات میں سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کر کے اپنے عرب دوستوں کو اطمینان دلایا کہ امریکہ اپنے دوستوں کے شانہ بشانہ خطے میں پوری طاقت کے ساتھ موجود رہے گا۔ نیز امریکہ کا اس خطے میں اپنی فورسز اور اسلحے کی موجودگی میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے ساتھ موجود حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ خطے کے لئے قدرے مشکل وقت ہے اور اسی وجہ سے امریکی پالیسی کے حوالے سے بھی بہت سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ ایران کے جوہری معاہدے کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی وزیر دفاع نے اپنے دوستوں کو ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی کہ جنیوا معاہدے سے ایسا کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے جس سے پریشان ہوا جائے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وطن عزیز میں نیٹو سپلائی لائن کو سخت مشکلات اور مزاحمت کا سامنا ہے جس کے بعد متبادل راستہ تلاش کرنا امریکہ کے لئے ناگزیر لیکن بڑی حد تک درد سر بنا ہوا ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جنیوا معاہدہ کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی کم ہوئی ہے لہذا اب واشنگٹن کی کوشش ہے کہ پاکستان کی بجائے ایران کی سرزمین کو افغانستان سے واپسی کے راستہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ پاکستان سے سپلائی لائن بند ہونے کی صورت میں سپلائی کا دوسرا قریب ترین راستہ ایران کی بندر گاہ بندر عباس سے قندھار ہے ۔ بندر عباس سے قندھار جانے کے لئے افغانستان کے صوبوں فرح، نمروز اور ہلمند سے گزرنا پڑتا ہے حالانکہ یہ علاقے بھی سیکورٹی کے حوالے خطرناک ہیں۔ قندھار سے کابل کے راستے میں آنے والے علاقوں میں طالبان کا نفوذ ذیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ روٹ بھی زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے البتہ بھارت کے تعاون سے ایران کے علاقے چاہ بہار میں تعمیر ہونے والی نئی بندر گاہ کو گوادر کا متبادل سمجھا جا رہا ہے ۔ بعض ماہرین کاخیال ہے کہ اس بندر گاہ کے ذریعے کارگو کی ترسیل کی جا سکتی ہے ۔ بھارت نے اس نئی بندر گاہ اور اس سے ملحقہ سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تعاون فراہم کیا ہے اور اسے گوادر کی متبادل بندر گاہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
افغانستان کے پڑوسی وسطی ایشیائی ممالک میں ازبکستان اور تاجکستان شامل ہیں۔ ازبکستان سے ہیرا تان بارڈر کے ذریعے اور تاجکستان سے شیر خان بندر کے راستے کار گو کی کابل تک سپلائی لائن موجود ہے لیکن اس راستے میں قندوز، بلخ، بغلان اور پروان کے علاقے آتے ہیں جن میں زیادہ تر علاقے چھ ماہ تک مکمل طور پر برف سے ڈھکے رہتے ہیں اور آمد و رفت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں ۔سال کے باقی 6ماہ میں دوبارہ سے راستے بنانے اور کارگو سپلائی کرنے میں اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ بہت طویل روٹ ہے جو روس کے بندر گاہ سینٹ پیٹرٹس برگ یا پھر ترکی بندر گاہوں پر ختم ہو جاتا ہے اور اس روٹ پر ٹرانسپورٹ کے اخراجات پاکستان کی نسبت 5گنا سے بھی زائد ہیں۔ کارگو کی ترسیل کے لئے پاکستان دراصل امریکہ کی مجبوری ہے اور اس روٹ کے ذریعے کارگو کی انتہائی سستے ریٹ پر کم وقت میں ترسیل ممکن ہے۔ اس وقت پاکستان سے افغانستان جانے والی اور افغانستان سے پاکستان آنے والی تمام گاڑیاں بند ہیں او ر مظاہرے دھرنے ختم ہونے کے بعد کارگو کی ترسیل شروع ہونے کی صورت میں گاڑیوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کراچی کی بندر گاہوں پر اکٹھا ہو جانے والا کارگو لے جانے کے لئے بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ضرورت ہو گی جو فوری طور پر شاید دستیاب نہ ہو سکیں۔ اسی طرح کابل سے کارگو پاکستان لانے کے لئے بھی گاڑیوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
وطن عزیز میں نیٹو سپلائی کی بندش کے حوالہ سے یہ پہلو نہایت قابل ذکر ہے (جس کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ) کہ افغانستان سے بھاری عسکری ساز و سامان کو منتقل کیا جا رہا ہے اور افغانستان کی طرف لے جایا جانے والا سامان ہلکی نوعیت کا ہے جس میں اشیائے خورد و نوش ، ادویات اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء شامل ہیں ۔جس سیاسی جماعت نے نیٹو سپلائی لائن کو روکنے کا فیصلہ کیا اس کی طرف سے یقینی طور پر مناسب ہوم ورک نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ یہ رہا کہ ’’دھرنا‘‘ رفتہ رفتہ بے اثر ہو کر رہ گیا اور مذکورہ سیاسی جماعت کو پشاور کی بجائے اسلام آباد کا رخ کرنا پڑا۔ اس سیاسی جماعت کے اکابرین اگر حقیقت پسندی اور ملک و قوم کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی حکمت عملی وضع کرتے تو مطلوبہ نتائج کا حصول بہتر اور سہل ہوتا ۔ اس وقت بقول وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید ’’ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے‘‘۔
24نومبر کو ہونے والے جنیوا معاہدے کے نتیجہ میں تہران کو اخلاقی اور سفارتی سطح پر بلاشبہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ عالمی رائے عامہ کی طرف سے ایرانی قیادت کے تدبر اور دور اندیشی کو سراہنے کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف امریکہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایسے میں وطن عزیز کی حکمت عملی تیار کرنے والی شخصیات اور ادارے کیا کر رہے ہیں ؟۔ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے ۔ بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ اس ضمن میں معروضی حالات ہی نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا ۔ رائے عامہ کا احترام اپنی جگہ لیکن قومی قیادت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرے تا کہ محض نمبر سکورنگ اور سستی شہرت کے دلدادہ قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچا سکیں ۔

729
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...