ملالہ یوسفزئی سوات کی وہ خوش قسمت لڑکی تھی جس نے بہت کم عمر میں پورے پاکستان سے ستائش بھی حاصل کی اور پیار بھی۔ طالبان نے اُس پر حملہ کیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئی تو دعائیں بھی بے شمار اُس کے نام ہوئیں ۔ میں نے خود بھی ملالہ کے حق میں اور طالبان کے اس عمل کے خلاف ایک مضمون لکھا اور مجھے آ ج بھی طالبان کے اُس حملے اور نکتۂ نظر سے اختلاف ہے جس کو بنیاد بنا کر ملالہ کو نشانہ بنایا گیا اور اُس توجیہہ کے لیے بھی جو اِس بچی پر حملے کے لیے دی گئی یعنی )واقعہ موسیٰؑ و خضرؑ )زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے نہیں قاتل موت کا ذریعہ تو بنتا ہے لیکن مالک نہیں ملالہ بھی طالبان کے حملے میں بچ گئی اور اپنی پچھلی شہرت سے کہیں زیادہ شہرت حاصل، کی اس کے حق میں بھی آ وازیں اُٹھیں اور مخالفت بھی ہوئی لیکن اس حملے کی مذمت سب نے کی۔ وہ وقت گزر گیا ملالہ کے علاج پر انتہائی توجہ دی گئی، اللہ نے اُس کو شفا دی اور وہ صحت یاب ہو گئی۔ ملالہ کے طالبان کے بارے میں خیالات اور خوف کی وجہ سے مغرب نے اُس بچی کو ہاتھوں ہاتھ لیا پہلے ڈائری کے ذریعے اور پھر انعامات کے ذریعے ۔ ڈائری لکھنے کی بات مانی جا سکتی ہے بہت سے بچے بہت خوبصورت تحریریں لکھتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ان میں ہر لکھنے والا مشہور بھی ہو جائے، یہ نا ممکنات میں سے نہیں لہٰذا اس کا ڈائری لکھنا تو ممکن ہے اور تعلیم سے اُس کی محبت بھی قابل تحسین ہے لیکن قابل اعتراض یہ بات ہے کہ پاکستان میں یا خیبر پختون خواہ یا سوات میں کیا ایک ہی لڑکی پڑھ رہی تھی۔ سوات میں تو آُ پ مینگورہ سے چل کر کالام تک پہنچیں تو ہر جگہ پر آُ پ کو سکول نظر آ ئیں گے سیدو شریف اور مینگورہ تو سکولوں کے معاملے میں اس قدر خود کفیل ہیں کہ لگتا ہے کہ سکول زیادہ اور طلبہ کم ہیں اور یہ سب آ ج سے نہیں بلکہ والئی سوات کے زمانے سے ہے پھر یہ سہرا ملالہ کے سر باندھنے میں اتنا جوش کیوں دکھایا جا رہا ہے کیا دُنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ اس بچی سے پہلے سوات میں کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھی ۔ یقیناملالہ کی والدہ بھی کچھ نہ کچھ پڑھی لکھی تو ہوں گی اوراگر ملالہ واقعی پاکستان یا سوات میں تعلیم کے لیے کچھ کرنا ہی چاہتی ہیں تو بے شمار انعامات میں ملنے والی رقم سے وہ واقعتابہت کچھ کر سکتی ہیں ورنہ کیا اُن خواتین اساتذہ کی خدمات زیادہ قابل قدر نہیں جو جنگ زدہ علاقے کے سکولوں میں پڑھا رہی ہیں ۔ میں ایک ایسے سکول کے بارے میں جانتی ہوں جسے اُڑا دیا گیا تو اُس کی پرنسپل اور اساتذہ نے خیمے لگا کر بچیوں کی تعلیم جاری رکھی اور میٹرک کا امتحان دلوا کر اُن کا سال ضائع ہونے سے بچایا لیکن شاید کسی ٹی وی چینل یا کسی اینکر کی تعلیم کے لیے عملی طور پر کام کرنے والی خواتین پر نظر نہیں پڑی ۔ میں یہ سب ملالہ کی مخالفت میں نہیں لکھ رہی، مجھے اُس بچی سے آ ج بھی ہمدردی ہے اور اُس وقت تک رہے گی جب تک وہ اُ س عمر کو نہ پہنچ جا ئے جب وہ اپنی عقل سے بات کر نا سیکھے گی اور اگرپھر بھی وہی کچھ کہے گی جو وہ آ ج کہتی ہے تو میری ہمدردی بھی ختم ہو جائے گی۔ آ ج تو مغرب نے اُس کے منہ میں اپنی زبان اور اُ س کے ذہن میں اپنے خیالات رکھے ہوئے ہیں داڑھی سے خوف پر مجھے اعتراض اس لیے نہیں تھا کہ دہشت گرد جو بھی ہیں اُن کو داڑھیاں رکھوا کر مسلمان نما بنا دیا گیا ہے جس نے اس بچی کو خوفزدہ کیا ہو گا لیکن داڑھی کا مذاق بزبانِ ملالہ اور بقلم کرسٹینا لیمب ہر گز قابل قبول نہیں۔ اُ س کی کتاب پڑھنے کا ابھی مجھے موقع تو نہیں ملا لیکن اُس کے اقتباسات پڑھ کر اہل مغرب کی ذہنیت کھل کر سامنے آرہی ہے کیوں کہ جن جن موضوعات و معاملات پر اُس لڑکی سے بات کروائی گئی وہ اُس کی عمر سے بہت بڑے ہیں اور بظاہر اُ س کی سمجھ سے بھی ورنہ جس لڑکی نے ابھی تک دوپٹہ اور اپنالباس نہیں چھوڑا ، اگرچہ کل کی کچھ خبر نہیں وہ کیسے اپنے مذہب اور اپنی معاشرتی روایات کی تضحیک کرنے پر اُتر آئی ہے اور داڑھی کو لا لٹین اور برقعے کو کیتلی سے تشبیہ دے رہی ہے۔
در اصل ضیاء الدین یوسف زئی مغرب کا آلہ کار بن کر یا تو پیسے کی محبت میں یا شہرت کی خواہش میں بیٹی کو استعمال کر رہا ہے اور مغرب کے لیے تو یہ ایک پسندیدہ مشغلہ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دے بلکہ ہر ایسے موقع کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرے اور ملالہ پر حملے کو بڑھ چڑ ھ کر اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا دراصل اُسے پاکستانی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ طالبان اور بالواسطہ پاکستان کی مخالفت میں ہر انعام کا حقدار قرار دیا گیا اورپندرہ سولہ سال کی لڑکی کے اوپر کتاب بھی لکھ دی گئی ابھی اُسے کچھ کام تو کرنے دیتے لیکن لگتا یہ ہے کہ ملالہ نے یا تو اِس کتاب کو پڑھا نہیں اور یا یہ باتیں اُس کی عمر کی طرح اُ سکی سمجھ سے بھی بالا تر ہیں اور یا وہ طالبان کی مخالفت میں اسلام کے بنیادی اُصولوں کو بھی بھول چکی ہے ورنہ وہ نبی پاک ﷺکے نام کے ساتھ ﷺلکھنا نہ بولتی بلکہ اگر کرسٹینا لیمب بھول بھی گئی تھی تووہ اُس کتاب کو اپنانے سے انکار ہی کردیتی۔
ملالہ یوسف زئی کی مغرب میں پذیرائی پر پاکستانیوں کو پہلے تو عام سی شکایات تھیں لیکن اب اُنہیں تشویش ہے کہ آ خر اس کی یہ غیر معمولی پذیرائی کیا معنی رکھتی ہے اور اُس سے اپنی مرضی کی بات کیوں کہلوائی جا رہی ہے اور مستقبل میں یہ سلسلہ کہاں تک لے جایاجائے گا۔اس کے والد آ خر اپنی بیٹی کی خدمات کیوں مغرب کے حوالے کررہے ہیں اگر وہ حقیقتا با صلاحیت ہے اور اُس کی ذہانت پاکستان کے لیے وقف ہو تی تو عزت بھی حاصل کرتی اور بے شمار دعائیں بھی لیکن اِ س خاندان نے وہ تمام محبتیں بھلا دیں جو اُس کو ملی تھیں اور اپنے ذاتی فائدے اور شہرت کے لیے ایک بار بھی یہ وضاحت نہیں دی کہ پاکستان میں خواتین کی تعلیم کے لیے اکیلی ملالہ ہی کوشاں نہیں رہی بلکہ سوات میں کئی ایسے سکول ہیں جو ہر صورت کھلے رہے۔ ملالہ نے اپنی کتاب پر اعتراضات کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی مسلم دُنیا میں ہونے والے امریکی یا اسرائیلی مظالم پر آواز اُٹھائی اوبامہ سے ملاقات میں صرف ایک بار ڈرون حملوں کے بارے میں بات کی اور بس۔ اِن دونوں باپ بیٹی سے دست بستہ عرض ہے کہ بہت انعامات جیتے جا چکے، بینک بیلنس بھی کافی ہو چکا اور شہرت کاتو کوئی حساب ہی نہیں، اب دُنیا کو پاکستان کی اصل صورتِ حال بتائیے کہ پورا پاکستان دہشت گرد نہیں یہ اُس اسلام کا پیروکار ہے جو سرا سر امن وسلامتی ہے ۔یہاں بُرائیاں تو ہوں گی لیکن تعلیم بھی ہے، نرمی بھی، محبت بھی ہے، اچھائی اور نیکی بھی اور پاکستان دہشت گردی کا ذمہ دار نہیں بلکہ اس کا شکار ہے۔

3,102
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 7
Loading...