پاکستان مسائل ومصائب کے نہ ختم ہو نے والے سلسلے میں عرصہ دراز سے گھرا ہوا ہے اور اس کی بد قسمتی کہ بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایسے ایسے کردار موجود ہیں جو اس کے مسائل کو ختم نہیں ہونے دیتے کبھی ایک اور کبھی دوسری طرح سے اس کی اساس اور اس کی نیک نامی کے خلاف سر گرم رہتے ہیں۔وہ اپنے خیالات تبدیل نہیں کر تے بلکہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ہم انہیں بھول کر سمجھتے ہیں کہ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ اُنہیں پاکستان کے خلاف کچھ بولنا ہے یا اس کی سُبکی کرنی ہے حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے اور وہ موقع ملتے ہی اپنا چہرہ پھر دکھا دیتے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی کردار حسین حقانی کا ہے جو نہ تو اپنی ذاتی زندگی میں قابل اعتبار ہیں نہ ہی سیاسی زندگی میں اور نہ ہی اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ان کا صرف ایک ہی دین و ایمان ہے اور وہ ہے شہرت اور دولت۔حسین حقانی نواز شریف کے دورہء امریکہ کو غنیمت جانتے ہوئے مختلف جگہوں پر بولتے نظر آ ئے، کہیں انٹرویو دئیے ،کہیں لیکچر دیئے ،کہیں مضامین لکھے جس میں وہ امریکہ کو پارسا اور پاکستان کا خیر خواہ ثابت کرتے رہے اس کی اہمیت جتاتے رہے اور تعلقات کی خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے رہے ۔ بلکہ مضمون نگار جیفر گولڈ برگ نے تو حسین حقانی کے بیان کہ ان کا ملک یعنی پاکستان دہشت گردی کی حمایت کر تا ہے کو اوبامہ کے لیے بچاؤکا ذریعہ بتایا۔جیفر گولڈ برگ نے اوبامہ نواز ملاقات سے پہلے اپنے مضمون میں لکھا کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے بعد اوبامہ نواز کے سامنے دفاعی پوزیشن پر ہونگے تا ہم وہ حسین حقانی کے مذکورہ بیان کا سہارا لے سکتے ہیں۔ اور یوں حسین حقانی کی دونوں خواہشات پوری کر دیں یعنی شہرت اور دولت۔
حسین حقانی اور ان جیسے دوسرے کردار اگر اپنی ذات کی بجائے اپنے ملک کے لیے کام کرتے اور اپنی صلاحیتیں وقف کرتے تو یقینااُن کی عزت میں اضافہ ہوتا اور قومی مسائل میں کمی بھی ہوتی ہاں ان کی ذاتی دولت کی فراوانی اثر انداز ہو سکتی تھی۔حسین حقانی جنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم اے کیا، ایک اچھا طالب علم تھا اور اُس نے بطور طالب علم لیڈر اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے شہرت پائی اور اسی زمانے میں اس کا امریکی قونصلیٹ کی لائبریری میں بہت آنا جانا رہا اور جب ایک بار طلبہ نے اس قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا پروگرام بنایاتو اُس نے اپنی تنظیم کا بھی ساتھ نہیں دیاشاید یہی وہ وقت تھا جب سی آئی اے نے اُس کی خدمات حاصل کر لی تھیں اور اسکے بعد وہ ہمیشہ امریکی مفادات کا تحفظ ہی کرتے ہوئے پائے گئے اور آج بھی وہ یہی فریضہ سر انجام دے رہے ہیں بلکہ امریکہ میں وہ پاکستانی سفیر کم اور امریکی سفارت زیادہ سر انجام دیتے رہے اور اب بھی امریکہ کی ہی تعریف میں رطب للسان رہتے ہیں۔ صرف یہی وفاداری ہے جو اُس نے نہیں بدلی ورنہ وہ ذاتی ،سیاسی اور قومی وفاداری بدلنے کے معاملے میں ایسی شہرت کما چکے ہیں جو کہ کم ہی کسی کے حصے میں آ ئی ہو گی۔ اپنے ہر نئے آقا کو وہ بڑی مہارت سے اپنا قائل کر کے اہم عہدہ حاصل کر لیتا ہے لیکن بہت جلد دوسری بڑی آفر پر اپنی وفاداری تبدیل بھی کر لیتا ہے۔ جماعتٖ اسلامی کے ساتھ کام کر کے اور شہرت حاصل کر کے حقانی نے اپنے مزید سیاسی فائدے کے لیے مسلم لیگ نون سے عہدوفا باندھا اور اس زمانے میں اُس نے اخلاق سے گرے ہوئے انداز میں پیپلز پارٹی کے خلاف میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جس کو پارٹی لیڈر نواز شریف نے بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھااور اُ س سے جان چھڑا نے کی کوشش کی اور اُ سے سری لنکا میں پاکستان کا ہائی کمشنر بنا کر بھیج دیا۔ نواز حکومت کے بعد اُ س نے اپنی خدمات جنرل مشرف کو بھی پیش کیں لیکن یہاں اُسے کامیابی نہ ملی اور جب پی پی پی کی حکومت آئی تو بی بی اور نصرت بھٹو کے اخلاق تک پر وار کرنے والا یہ شخص پھر اپنی چرب زبانی کے باعث اس حکومت کا منظور نظر بن گیااور امریکہ جیسی اہم سفارت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیاجہاں وہ امریکی مفادات کا مکمل تحفظ کرتا رہا اور فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ہرزہ سرائی کی بناء پر مغربی دنیا میں مقبولیت بھی حاصل کرتا رہا لیکن اس بار اُ س کا ٹکراؤ اُس سے سے بڑے ایجنٹ یعنی منصور اعجاز سے ہو گیا، اگرچہ اُس کی وفاداری بھی قابل بھروسہ نہیں اور اس پاکستانی نژاد امریکی نے پاکستان کے مفاد میں تو ہر گزنہیں لیکن معلوم نہیں اپنے کس فائدے کے لیے اُس میمو کا بھانڈا پھوڑ دیا جو حسین حقانی نے اُسے امریکی حکام تک پہنچانے کے لیے دیا تھا اور درخواست کی تھی کہ امریکی فوج پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کاروائی کرے اور سول حکومت کو بچائے بلکہ ایٹمی اثاثوں کی نگرانی بھی اپنے ہاتھ میں لے لے یعنی بہ الفاظ دیگر پاکستان کو امریکی نو آبادی بنا دیا جائے۔ اس معاملے کے بعد حسین حقانی کی اصلیت سب کے سامنے آ گئی اور اُسے سفارت سے استعفی کے بعد پاکستان لایا گیا لیکن پھر بحفاظت نکال کر واپس امریکہ پہنچا دیا گیا ۔ ایک شخص ملکی مفاد کے خلاف مکمل طور پر ظاہر ہو چکا ہے تو حکومتٖ پاکستان اور پاکستانی میڈیا کو اُس کے خلاف نہ صرف عوام کو آ گا ہ رکھنا چاہیے بلکہ ملک،فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف اس کے پروپیگنڈے کا توڑ بھی کرنا چاہیے اگر وہ یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان دہشت گرد ی کی حمایت کرتا ہے تو اُس سے پوچھا جانا چاہیے۔ بقول حقانی کے اس سے کسی امریکی نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایٹم بم نہ ہو تو اُسکی اہمیت امریکہ کے لیے اُتنی ہے جتنی پاکستان کے لیے مالدیپ کی اور جناب حقانی اس کی مکمل تائیدکرتے ہیں ۔ اُن کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ ہمیشہ خلوص سے پاکستان کے لیے کوشش کرتا لیکن پاکستان میں ہمیشہ امریکہ مخالف جذبات اُبھارے جاتے ہیں۔ کیا وہ ڈرون حملوں،2 مئی کے واقعے یاسلالہ پر بمباری کی کوئی توجہیہ پیش کر سکتے ہیں اور کیا امریکہ کو افغانستان میں اپنی جنگ لڑنے کے لیے کسی اور راستے اور سڑک کی پیش کش کر سکتے ہیں۔اُنہیںیہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ اپنی افغان جنگ کے لیے پاکستان کا دست نگرہے لیکن پاکستان مالدیپ سے اپنی ایسی کوئی ضرورت پوری نہیں کروا رہا ہاں یہ اور بات ہے کوئی پاکستانی اس امریکی خدمت پر خوش نہیں ہے اور نہ فخر کرتا ہے۔
مسٹر حقانی تو اپنے خاندان ، اپنے سیاسی دوستوں اور نظریات بلکہ اپنے مذہب تک سے وفادار نہیں جس کا اظہار وہ مختلف حیلوں بہانوں سے کرتے ہیں تو وہ بغیر کسی وجہ و اُجرت کے کیسے امریکہ کے لیے وفاداری نبھارہا ہے۔مغرب میں آخر انہی لوگوں جو پاکستانی ہو کر پاکستان کی کسی بھی طرح سُبکی کا باعث بنتے ہیں کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے اوپر ہماری حکومت اور میڈیا کا رویہ کیوں سر د ہو جاتا ہے۔کیوں نہیں مغربی میڈیا اور اس شخصیت سے پوچھ گچھ ہوتی ہے اگر ہم ایسا کریں گے اور ان کا بھر پور جواب دیں گے تو شاید ہم اس قسم کے منفی پروپیگنڈہ کو کم کرسکیں، پاکستان کا تا ثر جو بین الاقوامی طور پر بگاڑا جا رہا ہے اس کو بہتر کیا جا سکے گا اور ہم بین الاقوامی سطحُ پر اپنا اور اپنے اداروں کا مقدمہ کامیابی سے لڑسکیں گے ۔یقیناپاکستان میں حسین حقانی سے زیادہ ذہن اور با صلاحیت لوگ موجود ہیں جو اس کا جواب زیادہ مدلل انداز میں دے سکتے ہیں اوراُنہیں یہ جواب قومی خدمت سمجھ کر دینا چاہیے۔

1,762
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...