حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کا چار روزہ سرکاری دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات کی ۔ یہ ملاقات ہر اعتبار سے مذکورہ دورے کا نکتۂ عروج تصور کی گئی کیونکہ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور ’’مسائل‘‘ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور بعد ازاں اس حوالہ سے میڈیا کے ساتھ گفتگو بھی کی ۔ یوں تو اس ملاقات میں کئی موضوعات زیر بحث رہے لیکن ان میں ایک نمایاں موضوع جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی شخصیت کے بارے میں بھی تھا ۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ حافظ محمد سعید واحد ایسی شخصیت ہیں جو ان دو ممتاز رہنماؤں کی باہمی گفتگو اور مذاکرات میں زیر بحث آئی ۔ امریکی صدر نے حافظ محمد سعید کے بارے میں اپنی حکومت کے تحفظات کا اظہار کیا ۔بعض اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے حافظ محمد سعید کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور یہ عندیہ دیا کہ حافظ سعید دہشت گرد اور انتہا پسند رہنما ہیں۔امریکی صدر کے ان خیالات کا انداز اور سطح یقینی طور پر نئی دہلی کے اس مؤقف سے حیرت انگیز حد تک مماثلت رکھتے تھے جس کا اظہار 13دسمبر 2001ء میں لوک سبھا پر حملے اور نومبر 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ایک عامی کے لئے بھی یہ امر نہایت حیرت انگیز ہے کہ ان دو واقعات میں مبینہ طور پر حافظ محمد سعید کے ملوث ہونے کے الزام کے تحت ہی امریکی حکومت نے حافظ سعید کے سر کی قیمت 10ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔
دریں اثناء جماعت الدعوۃ پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ بھارت و امریکہ نے پاکستان میں تخریب کاری و دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے ۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان داخل کیا جا رہا ہے ۔ ملک بھر کے مختلف شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں براہ راست انڈیا ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے سے قبل بھارت کو خطہ کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے لیکن اس کی یہ سازشیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ بھارتی حکومت کے اکسانے پر امریکہ پاکستان پر جماعت الدعوۃ پر پابندیوں کے لئے دباؤ بڑھا رہا ہے لیکن جب تک آسمانوں سے پابندیاں نہ لگیں کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ڈرون حملوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے پر امریکہ کی طرف سے میاں نواز شریف کے دورہ کے دوران جماعت الدعوۃ کو موضوع بحث بنایا گیا۔ کل تک جو باتیں انڈیا کرتا تھا وہی آج امریکہ کر رہا ہے ۔ جماعت الدعوۃ کو بہت بڑا خطرہ قرار دے کر اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ اور پابندیاں لگانے کے مطالبات کئے جا رہے ہیں ہمارا خدمت خلق کا کام بھی انہیں برداشت نہیں ہو رہا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کا امریکہ جا کر ڈرون حملوں کا مسئلہ اٹھانا اچھی بات ہے۔ پرویز مشرف کی طرف سے نت نئے آپشنز پیش کرنے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور ہوا۔ اس عرصہ میں بھی ہم نے مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ افغانستان سے فوج نکال کر بلوچستان میں لا کر بٹھا دی جائے اور پھر جب اور جہاں چاہیں اسے استعمال کر سکیں۔ جماعت الدعوۃ نے ان سازشوں کا توڑ کرنے کے لئے بلوچستان میں کروڑوں روپے مالیت کے ریلیف کے منصوبے شروع کئے۔ بلوچستان میں بھارت سرکار کی طرف سے علیحدگی کی تحریکیں پروان چڑھائی جا رہی ہیں اور وہ ہمیں ریلیف کے کام سے روکنا چاہتے ہیں تا کہ وہ یہاں پر اپنا مذموم ایجنڈا پروان چڑھا سکیں۔
حافظ محمد سعید کی شخصیت اور ان کی جماعت (جماعت الدعوۃ ) کی سرگرمیوں کو بھارتی اور مغربی ذرائع ابلاغ غیر ضروری طور پر انتہائی پر اسرار اور قابل اعتراض تصور کرتے ہیں ۔ اس کا ایک بڑا ثبوت یہ حقیقت ہے کہ حافظ محمد سعید ایک عام شہری کی حیثیت سے پاکستان میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اسی باعث واشنگٹن میں ایک انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا کہ حافظ سعید کے خلاف ٹھوس شواہد موجود اور میسر نہیں ہیں لہذا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومت کی طرف سے حافظ محمد سعید کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار نہ کیا گیا ہو ۔
وطن عزیز میں نہ صرف میڈیا بلکہ سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی حافظ محمد سعید کے بارے میں کوئی بات خفیہ یا پراسرار ہر گز نہیں ہے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کا تعلق ایک گجر خاندان سے ہے اور وہ 1950ء میں پنجاب کے مشہور شہر سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام کمال الدین ہے جو پیشہ کے اعتبار سے ایک کاشت کار تھے اور انہوں نے 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت بھارت کے علاقہ ہریانہ سے ہجرت کر کے پاک سرزمین کا رخ کیا تھا ۔ اس سفر ہجرت کے دوران ہی ہندو بلوائیوں نے ان کے خاندان کے 36افراد شہید کر دئیے تھے ۔ حافظ محمد سعید اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اور شاہ سعود یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ وہ پہلی بار اس وقت قومی منظر نامہ پر نمایاں ہوئے جب ان کو صدر ضیاء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل میں شامل کیا ۔ وہ لاہور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی میں اسلامی تعلیمات کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور بعد ازاں انہیں 1980ء کے اوائل میں اعلیٰ تعلیم کے لئے سعودی عرب جانے کا موقع میسر آیا ۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین نے افغانستان میں عسکری مداخلت کا ارتکاب کیا تھا اور ساری مہذب دنیا ، خاص طور پر اسلامی ممالک اس پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کر رہے تھے ۔
1987ء میں حافظ محمد سعید نے عبداللہ عظام کے ساتھ مل کر مرکز دعوۃ الارشاد کی بنیاد رکھی ۔ یہ وہ گروپ تھا جس کے جمعیت اہلحدیث کے ساتھ قریبی تعلقات تھے ۔ عام تاثر ہے کہ اسی تنظیم نے 1990ء میں ایک جہادی گروپ ’’لشکر طیبہ ‘‘کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ بھارت کی طرف سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی کارروائیوں سے بھارتی انتظامیہ کو کافی پریشان کئے رکھا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حافظ محمد سعید نے 1994ء میں امریکہ کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے ہیوسٹن ، شکاگو اور بوسٹن کے اسلامی مراکز میں اجتماعات سے خطاب بھی کیا ۔ 13دسمبر 2001ء کو بھارتی لوک سبھا پر حملہ کیا گیا تو اس کے ایک ہفتہ بعد یعنی 21دسمبر 2001ءکو پاکستانی حکومت نے حافظ محمد سعید کو گرفتار کر لیا جس کا سبب نئی دہلی کی یہ الزام تراشی تھی کہ حافظ صاحب مذکورہ حملہ میں ملوث تھے۔ وہ 31مارچ 2002ء تک زیر حراست رہے اور بعد ازاں 15مئی کو ان کو دوبارہ گرفتار کر کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا تا ہم اسی برس 31اکتوبر کو انہیں رہائی میسر آئی۔ 11جولائی 2006ءکو ممبئی میں ایک ٹرین پر ہونے والے حملہ کے بعد پنجاب حکومت نے ان کو 9اگست 2006ءکو ایک مرتبہ پھر گرفتار کر کے گھر پر نظر بند کر دیا تا ہم 28اگست کو انہیں لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی حاصل ہوئی ۔ حیرت انگیز طور پر اسی شام ان کو صوبائی حکومت کے حکم پر دوبارہ گرفتار کر کے شیخو پورہ کے کینال ریسٹ ہاؤس میں قید کر دیا گیا حتیٰ کہ 17اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے ان کو حتمی طور پر رہا کر نے کے احکامات جاری کئے ۔
نومبر 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کو ان شخصیات اور اداروں کی فہرست میں شامل کیا جائے جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے باعث پابندی عائد کی گئی ہے ۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ اور الزام ہے کہ لشکر طیبہ کا نام تبدیل کر کے جماعت الدعوۃ کر دیا گیا ہے اور ان دونوں تنظیموں کے دفاتر اور کارکن بنیادی طور پر ایک ہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں نئی دہلی کی طرف سے البتہ کوئی ثبوت اور دلیل پیش نہیں کی گئی ۔ 10دسمبر 2008ء کو حافظ سعید نے بھارت کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ایک ٹی وی انٹرویو اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ وہ کبھی بھی لشکر طیبہ کے سربراہ نہیں رہے ۔ اس انٹرویو کے دوسرے روز یعنی 11دسمبر کو حافظ صاحب کو اس وقت دوبارہ گھر پر نظر بند کر دیا گیا جب اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ جماعت الدعوۃ ہی لشکر طیبہ کا ایک روپ ہے ۔ ان کو جون 2009ء میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک حکم کے تحت رہا کیا گیا ۔نئی دہلی کی طرف سے عدالت کے اس فیصلہ پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے 6جولائی 2009ء کو عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی ۔25اگست 2009ء کو انٹر پول نے حافظ سعید کے خلاف ایک ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا ۔ یہ نوٹس دراصل بھارتی حکومت کی درخواست پر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ حافظ صاحب کو بھارتی حکومت کے حوالہ کیا جائے ۔ اسی نوعیت کا نوٹس ذاکر الرحمن لکھوی کے خلاف بھی جاری کیا گیا ۔ ستمبر 2009ء میں پاکستانی حکام نے حافظ محمد سعید کو ایک مرتبہ پھر ان کے گھر پر نظر بند کر دیا لیکن 12اکتوبر 2009ء کو لاہور ہائیکورٹ نے حافظ سعید کے خلاف تمام مقدمات خارج کر کے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا ۔ عدالت نے یہ اعلان بھی کیا کہ جماعت الدعوۃ ایسی تنظیم نہیں ہے جس پر پابندی عائد کی گئی ہو لہذا وہ پاکستان میں آزادانہ طور پر کام کر سکتی ہے ۔
11مئی 2011ء کو بھارتی حکومت نے اسلام آباد پر اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے ایسے 50مطلوب افراد کی فہرست جاری کی جو پاکستان میں روپوش ہیں۔ اس فہرست میں حافظ سعید کا نام بھی شامل تھا ۔ پاکستان کی حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ محض نئی دہلی کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے حافظ سعید کو گرفتار کر کے اس کے حوالہ کر دے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ نے حافظ سعید کی رہائی اور آزادانہ نقل و حرکت پر مہر تصدیق ثبت کر رکھی تھی ۔ بھارتی حکومت کے مطالبہ اور اصرار کو یوں بھی کوئی نتیجہ خیز صورت حال میسر نہ آ سکی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مطلوب افراد کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ یا سمجھوتہ موجود نہیں ہے۔اپریل 2012ء میں امریکی حکومت نے حافظ محمد سعید کے سر کی قیمت 10ملین ڈالر مقرر کی اور اس کا یہ جواز فراہم کیا کہ حافظ سعید 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں میں ملوث رہے ۔ اس کے جواب میں حافظ محمد سعید کا دو ٹوک موقف اور اعلان یہ رہا کہ ان کا مذکورہ حملوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ انہوں نے تو ان حملوں کی مذمت کی تھی۔امریکہ کی طرف سے اپنے سر کی قیمت مقرر کئے جانے کے حوالہ سے حافظ سعید نے میڈیا کے سامنے واضح طور پر کہا ’’میں سب کے سامنے ہوں ، میں روپوش یا فرار نہیں ہوا ، امریکہ جب چاہے مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے اور میں امریکہ کی کسی بھی عدالت میں پیش ہو کر اپنی صفائی دینے کو تیار ہوں ‘‘۔
جماعت الدعوۃ کی سرگرمیوں کا عمومی جائزہ ہی اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ تنظیم اپنے نصب العین اور مقاصد کے اعتبار سے ایک فلاحی اور رفاہی تنظیم ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل ہے۔ جب بھی مقامی یا قومی سطح پر اہل وطن کسی آزمائش یا قدرتی آفات کا شکار ہوتے ہیں تو دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرح یہ جماعت بھی میدان عمل میں اترتی ہے ۔ زلزلہ اور سیلاب کے مواقع پر اس تنظیم نے جو خدمات انجام دیں ان کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھارت اور امریکہ کے نزدیک یہ تنظیم ’’مشکوک ‘‘ ہی رہی۔ ملک بھر میں اس تنظیم کے زیر اہتمام تعلیم و تربیت، صحت اور انسانی حقوق کے شعبوں میں ایسی خدمات انجام دی جا رہی ہیں جن کو رائے عامہ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔
سیاسی سطح پر رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے حافظ محمد سعید کی کوششوں کے نتیجہ میں نومبر 2011ء میں ایک تنظیم ’’دفاع پاکستان کونسل ‘‘ قائم کی گئی جس میں ملک بھر سے 40سے زائد سیاسی و مذہبی شخصیات نے شمولیت اختیار کی ۔ ان میں مولانا سمیع الحق، سید منور حسن ، مولانا محمد احمد لدھیانوی ، سردار عتیق احمد ، جنرل (ر) حمید گل، عبداللہ گل، اعجاز الحق ، شیخ رشید احمد ، علامہ طاہر محمود اشرفی اور مولانا محمد اشرف طاہر کے نام نمایاں ہیں ۔ اس کے علاوہ ہندو ، مسیحی اور دیگر اقلیتوں کے نمائندوں نے بھی اس میں شرکت کی۔ کونسل کی کوششوں کے نتیجہ میں پاکستان میں عوام کو امریکی عزائم ، خاص طور پر بلوچستان میں غیر ملکی در اندازی اور ڈرون حملوں کے نتائج اور اثرات کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی ۔ ایک مرحلہ پر عوام کی طرف سے حکومت کو یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ نیٹو سپلائی لائن کو بند کر کے امریکہ پر یہ حقیقت اجاگر کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کو تر نوالہ تصور نہ کیا جائے ۔ دفاع پاکستان کونسل اگرچہ ان دنوں خاموش مشاہدہ کی جا رہی ہے لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جب بھی قومی مفادات کو کسی طرف سے کوئی خطرہ لاحق ہوا تو یہ متحرک اور فعال ہو کر اپنا روایتی کردار ضرور ادا کرے گی ۔
حافظ محمد سعید اپنے منفرد اور حقیقت پسندانہ طرز احساس کے حوالہ سے بھی رائے عامہ کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے ایک مرتبہ دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور لندن کے میئر بورس جانسن اس اعتبار سے قابل تعریف ہیں کہ وہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ ان کے مقابلہ میں پاکستانی حکمرانوں کا انداز نہایت شاہانہ ہے۔ اسی طرح جب سال رواں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو بھارتی حکومت نے انتہائی عیاری اور مکاری کا ثبوت دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ’’ایٹمی حملہ سے بچاؤ ‘‘ بارے تدابیر پر مبنی پمفلٹ تقسیم کئے۔ اس پر حافظ محمد سعید نے یہ فکر انگیز بیان دیا کہ بھارتی حکومت کو اس قسم کے پمفلٹ مقبوضہ کشمیر کی بجائے دہلی، ممبئی اور کلکتہ میں تقسیم کرنے چاہئیں۔ اسی طرح جب گذشتہ برس 22اکتوبر کو امریکہ میں ایک سمندری طوفان (ہیری کین سینڈی ) نے تباہی مچائی تو حافظ محمد سعید نے اپنی تنظیم جماعت الدعوۃ کی طرف سے متاثرہ امریکی عوام کو ادویات ، خوراک اور رضا کار روانہ کرنے کی پیشکش کی ۔ اس پیشکش کو مہذب دنیانے تحسین کی نگاہ سے دیکھا لیکن اسلام آباد کے امریکی سفارتخانہ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس سال جنوری میں بھارتی اداکار شاہ رخ خان نے ایک جریدہ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا کہ ان کے ساتھ مسلمان ہونے کے سبب بعض اوقات تعصب پر مبنی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ شاہ رخ کے اس مضمون کو انتہا پسند بھارتی حلقوں میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا اور شاہ رخ خان پر سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اس پر حافظ محمد سعید نے ایک بیان میں شاہ رخ خان کو پیشکش کی کہ اگر وہ خود کو بھارت میں غیر محفوظ تصور کرتے ہیں تو وہ لاہور آ جائیں جہاں ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
حافظ محمد سعید کی شخصیت اور خیالات کے بارے میں یہ وہ حقائق ہیں جن سے آگاہی کے بعد ہر کوئی یہ ضرور سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کے خلاف کیا گیا پروپیگنڈہ دراصل کردار کشی اور الزام تراشی کی ایک منظم مہم ہے جس کا مقصد ان شخصیات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو اسلام اور نظریہ پاکستان کے استحکام کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک و قوم کے نظریاتی دشمن اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کیلئے حافظ محمد سعید ایسی شخصیات کو راستہ سے ہٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں لیکن وہ اس حقیقت سے اب بھی بے خبر اور غافل ہیں کہ اب حافظ محمد سعید محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ اب وہ ایک سوچ اور تحریک کا روپ اختیار کر چکے ہیںیعنی وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور مکتب فکر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ وقت اور تاریخ ہی فیصلہ کریں گے کہ وہ ایک دہشت گرد ہیں یا دہشت گردوں کے لئے ایک کھلا چیلنج ۔

1,122
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...