حال ہی میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لندن میں اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس میں پاکستان اور یمن میں ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے فوری بند کرے کیونکہ ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈرون حملوں کی آڑ میں امریکی انتظامیہ کو عدالتوں اور عالمی قوانین کے دائرہ کار سے آزاد ہوکر قتل کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا اپنے ڈرون پروگرام کے بارے میں حقائق سامنے لائے اور ان لوگوں کو جو اس کے ذمہ دار ہیں سزا دے۔ رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ برطانیہ امریکا کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ نہ کرے کیونکہ خفیہ معلومات ڈرون حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔2004 ء سے امریکا نے پاکستان میں 400 ڈرون حملے کئے جن میں 2500 سے 3600 معصوم شہری مارے گئے۔ شمالی وزیرستان میں 2012 ء سے 2013 ء کے درمیان 45 ڈرون حملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایک حملے میں کھیتوں میں کام کرتی ہوئی 68 سالہ بوڑھی خاتون جاں بحق ہوئی جبکہ ایک اور حملے میں 18 کسان مارے گئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ڈرون حملوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر لوگوں کو ہلاک کیا۔ ڈرون حملوں کی بڑے پیمانے پر چھان بین کرنی چاہیے، صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ یمن میں بھی ڈرون حملے کرکے امریکا جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پاکستان بارے ریسرچ سکالر مصطفیٰ قادری نے کہا کہ ہمیں ان ہلاکتوں کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خطے میں حقیقی خطرات لاحق ہیں اور ڈرون حملے بعض صورتوں میں قانونی بھی ہو سکتے ہیں مگر یہ یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ ایک مزدوروں کا گروپ یا بچوں کے درمیان بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟۔ایمنسٹی نے ایسے واقعات کی بھی تفصیلات جمع کیں جب ایک حملے کے نتیجے میں زخمی یا ہلاک ہونے والے افراد کی مدد کے لیے جب دوسرے افرادآئے تو انھیں ایک اور حملے کا نشانہ بنایا گیا۔اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ امداد کے لیے پہنچنے والے بھی اسی گروہ کا حصہ ہو سکتے ہیں مگر ایک حملے کے بعد کی افراتفری میں کیسے اس نوعیت کی تفریق کی جا سکتی ہے۔ان حملوں کے حوالے سے رازداری نے امریکا کو چھوٹ دے رکھی ہے اور ان حملوں کے متاثرین کی جانب سے ہرجانے یا انصاف کی کوششوں کو روکنے کی صلاحیت بھی دی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والے نئے ثبوت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ امریکا نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر شہریوں کو ہلاک کیا جس میں سے بعض جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ایمنٹسی کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی ڈرون منصوبے پر اب تک کی جامع ترین رپورٹ ہے جسے انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے تیار کیا گیا ہے۔ قادری نے کہا پاکستان کو چاہیے کہ وہ ڈرون حملوں کے متاثرین کی داد رسی کرے اور انصاف دلائے۔ پاکستان، آسٹریلیا، جرمنی اور برطانیہ کے حکام کو چاہیے کہ ان تمام حکام اور اداروں کی ضرور جانچ کریں جن پر امریکا کو ڈرون حملے میں تعاون فراہم کرنے اور قبائیلی علاقوں میں دوسرے ناجائز کام انجام دینے کا شبہ ہے۔ انھوں نے کہا پاکستانی حکام ان تمام امریکی ڈرون حملوں کی معلومات ضرور ظاہر کرے جنھیں وہ ضبط تحریر میں لائے ہیں اور ان پر انھوں نے کیا کارروائی کی ہے یا وہ ان حملوں کے متاثرین کی امداد کے لیے کیا کرنے والے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے مشترکہ طور پر امریکی کانگریس سے کہا ہے کہ وہ ان امور کی جانچ کرے جن کو ان دونوں تنظیموں نے دستاویزی شکل دی ہے اس کے ساتھ دوسری غیر قانونی اموات کی بھی جانچ کرے اور اگر انسانی حقوق کی پامالی کے کوئی شواہد ہیں تو انہیں عام کرے۔
اسلام آبادمیں دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے مذکورہ رپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ ڈرون حملوں سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ بروقت ہے جس سے امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تصدیق ہوگئی۔اس رپورٹ میں غیر مبہم الفاظ میں ڈرون حملوں کے خلاف جس طرح پاکستان کے موقف کی حمایت کی گئی ہے اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈرون حملوں کو بند کرانے کے لئے پاکستان کی کوششوں میں عالمی برادری بھی اس کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں معصوم شہری جاں بحق ہو رہے ہیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی وہی بات کی جو پاکستان ایک عرصے سے کر رہا ہے۔ پاکستان کئی بار امریکا پر یہ واضح کر چکا ہے کہ ڈرون حملے اس کی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں سے امن کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے،ڈرون حملوں پر متعدد بار امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذکورہ رپورٹ کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ لیکن کئی بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے پہلے ہی امریکی اقدامات کی مذمت کر چکے ہیں۔ امریکا کے دو سرکردہ ادارے، اسٹین فورڈ لا اسکول اور نیویارک یونیورسٹی اسکول آف لا، ستمبر2012ء میں پاکستان میں ڈرون حملوں کے استعمال پر امریکا کے موقف کو مسترد کرکے یہ نتیجہ اخذ کرچکے ہیں کہ یہ حملے غیر نتیجہ خیز اور تباہ کن ہیں۔ ان سے معصوم افراد ہلاک ہوئے ہیں، یہ حملے قبائلی علاقوں کے لوگوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں، بچوں کو تعلیم سے محروم کر رہے ہیں حتیٰ کہ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسٹین فورڈ لا اسکول (اسٹین فورڈ کلینک) کے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس اینڈ کانفلکٹ ریزولیوشن کلینک اور نیویارک یونیورسٹی اسکول آف لا کے گلوبل جسٹس کلینک کی جانب سے کی جانے والی 9 ماہ کی تحقیق کے نتیجے میں تیار کی گئی رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈرون پالیسی کا جائزہ لیا جائے۔ اگرچہ واشنگٹن سے اس رپورٹ کو نظرانداز کردیا تھا لیکن اس میں بتایا گیا تھا کہ مجموعی ہلاکتوں کو دیکھا جائے تو انتہائی مطلوب افراد کی ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہے اور اسے اندازاً صرف 2 فیصد کہا جاسکتا ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں غیر ریاستی مسلح گروپوں میں بھرتیوں کا عمل بڑھ گیا ہے اور ان کے نتیجے میں یہ گروہ پرتشدد حملوں پر آمادہ ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکا اس بات کی وضاحت کرے کہ وہ کس قانون کے تحت ڈرون حملے کر رہا ہے، ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرائی جانا چاہئے، حقوق انسانی کا احترام ہونا چاہئے اور طاقت کے استعمال کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہئے۔ رپورٹ میں صحافیوں اور میڈیا کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے حوالے دینا ترک کردیں لیکن میڈیا نے غیر مصدقہ ذرائع سے موصول ہونے والی خبریں شائع اور نشر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان ڈرون حملے سرجیکل اور بالکل درست انداز سے کیے جانے والے موثر حملے ہیں اور اس سے امریکا کو محفوظ انداز سے موقع ملتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو ہلاک کرسکے۔ یہ موقف غلط ہے۔ یہ رپورٹ مرتب کرنے کیلئے پاکستان میں 2 مرتبہ تحقیقات کی گئی ہیں، 130 متاثرین، گواہوں اور ماہرین کا انٹرویو کیا گیا ہے جبکہ میڈیا رپورٹس اور کئی دستاویزات کے ہزاروں صفحات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ امریکا کو چاہئے کہ وہ خود کو دہشت گردوں سے لاحق خطرات سے بچائے جبکہ اس بات پر بھی روشنی ڈالی جانی چاہئے کہ دہشت گردوں کی جانب سے پاکستانی عوام کو کتنا نقصان پہنچا ہے، امریکا کی ڈرون پالیسی پر نظرثانی کی جائے کیونکہ اس سے پاکستانی سویلین اور امریکی مفادات کو بھی خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے عام سویلین ہلاکتوں کا اعتراف شاید ہی کبھی کیا جاتا ہے اور اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ان حملوں میں عام لوگ بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ اصرار کرتا ہے کہ ڈرون حملوں سے القاعدہ کے دہشت گرد حیران و پریشان ہوجاتے ہیں اور یہ سرجیکل حملے کے ساتھ انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو میزائل سے نشانہ بناتے ہیں لیکن جون 2004ء سے ستمبر 2012ء کے وسط تک کے دستیاب ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں 2562 سے 3325 کے درمیان افراد مارے گئے جن میں سے 881 عام شہری تھے اور ان میں 176 بچے بھی شامل تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 1362 لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اگر صرف ایک واقعہ میں دیکھا جائے تو جون 2011ء میں قبائلی عمائدین کے ایک جرگے پر کیے گئے حملے میں 40 عام افراد ہلاک ہوئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کے جانی نقصان کے علاوہ ان کے طرز زندگی پر بھی زبردست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ شمال مغربی علاقوں پر چوبیس گھنٹے ڈرون مختلف علاقوں پر پروازیں کرتے رہتے ہیں جو گھروں، گاڑیوں اور عوامی مقامات کو کسی بھی طرح کی وارننگ کے بغیر نشانہ بناتے ہیں۔ ڈرون کی موجودگی سے خواتین، مرد اور بچے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور اس سے نفسیاتی کرب، تکلیف اور پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ڈرون کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں انہیں ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان پر حملہ نہ ہوجائے اور وہ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ خود کو بچانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ ایک ہی جگہ پر متعدد مرتبہ حملے کرنے کے امریکی عمل اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں امدادی کارکن بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ علاقہ کے لوگوں نے مل جل کر بیٹھنا چھوڑ دیا ہے جس میں جرگے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈرون حملوں نے تدفین کے حوالے سے پائی جانے والی ثقافت اور مذہبی طریقہ کار کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور علاقے کے لوگ تدفین کے عمل میں شرکت کرنے سے ڈرتے ہیں۔ مزید یہ کہ جو لوگ اپنے عزیز و اقارب کو ان حملوں میں کھو چکے ہیں وہ اب زندگی گزارنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں امریکا کے اس بیان کو مسترد کیا گیا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں امریکا محفوظ ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک بہترین حیلہ اور بہانہ ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں یقیناً مبینہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور دہشت گرد نیٹ ورک منتشر ہوگئے ہیں لیکن ڈرون حملوں کے نتیجہ خیز ہونے کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں کیونکہ ہائی لیول ٹارگٹس کی ہلاکت کا تناسب صرف 2 فیصد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کی جانے والی موجودہ ٹارگٹ کلنگ اور ڈرون حملوں کی پالیسی سے بین الاقوامی قوانین اور ان کی بالادستی نظر انداز ہو رہی ہے اور اس سے خطرناک مثالیں وجود میں آسکتی ہیں۔ رپورٹ میں 11ستمبر 2011ء کے حملوں سے غیر وابستہ افراد اور گروپوں اور ایسے گروپس پر حملوں کے جائز ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں جو امریکا کیلئے ناگزیر خطرہ نہیں ہیں۔ ایسی تشویش کی روشنی میں، رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کہ امریکا ڈرون حملوں کی اس پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے خدشات اور اپنے طویل مدت مفادات بارے نظر ثانی کرے لیکن ان سب باتوں کے باوجود واشنگٹن کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری رپورٹ میں ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم قرار دینے کے باوجود امریکہ نے ڈرون حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا کہ فوجیوں کو بھیجنے اور دیگر ہتھیار استعمال کرنے کے بجائے ڈرون طیاروں کا آپشن کم سے کم معصوم جانوں کے ضیاع کی وجہ سے اپنایا گیا ۔ ہم پاکستان اور یمن میں ڈرون حملوں سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کو امریکہ انتہائی سنجیدگی سے دیکھتا ہے اور اسے محدود کرنے کے لئے حتی الامکان کوششیں کی جاتی ہیں ۔ شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنے کے لئے انتظامیہ اور فوج مل کر سخت محنت کر رہے ہیں ۔اب واشنگٹن کے سرکاری ترجمان جو چاہیں کہتے جائیں سچی بات یہی ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکی جارحیت کا چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے ۔

802
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...