وطن عزیز کا ایٹمی پروگرام اس اعتبار سے بلاشبہ منفرد اور نمایاں مقام رکھتا ہے کہ اس پر صرف ہم پاکستانی عوام ہی فخر نہیں کرتے بلکہ اس پروگرام کو عالم اسلام کی طرف سے بھی تحسین اور حمایت میسر ہے ۔ دنیا کے 57اسلامی ممالک میں سے پاکستان واحد ملک ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر بے پناہ مخالفت (بلکہ دشمنی) کے باوجود حیرت انگیز طور پر ایٹمی صلاحیت حاصل کی ۔ اس پروگرام کا آغاز 70ء کے عشرہ میں اس وقت کیا گیا جب بھارت نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے ایٹمی تجربہ کر کے خطے کے ممالک اور خاص طور پر پاکستان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ آنے والے دنوں میں بھارت کو عسکری بالادستی حاصل ہو گی۔ اس وقت کے وزیراعظم اور عوام کے مقبول لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی خشت اول رکھی ۔ اس پروگرام کو کامیابی سے جاری رکھنے میں بلاشبہ وطن عزیز کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یکساں طور پر کلیدی کردار ادا کیا ۔ بھٹو صاحب کے بعد جنرل ضیاء الحق ، غلام اسحاق خان، محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ ، جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ، جنرل (ر) جہانگیر کرامت اور جنرل (ر) آصف نواز نے بھی قابل تحسین خدمات انجام دیں۔
پاکستان کے پر امن ایٹمی پروگرام کا نہایت فیصلہ کن مرحلہ 28مئی 1998ء کو مشاہدہ کیا گیا جب وطن عزیز کے سائنسدانوں اور ہنر مندوں کی ایک ٹیم نے سیاسی قیادت کی ہدایت کے تحت ، عسکری قیادت کی نگرانی میں چاغی کے خشک اور بے آب و گیا پہاڑی سلسلہ میں یکے بعد دیگرے چھ ایٹمی دھماکے کئے ۔یہ دھماکے دراصل بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کئے گئے تھے اور ان کا مقصد دنیا کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا تھا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کی حفاظت کرنا جانتا ہے اوراس مقصد کے لئے اس کے پاس قابل اعتماد ایٹمی صلاحیت موجود ہے ۔ یہ ایٹمی دھماکے اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ہدایت اور اجازت پر کئے گئے ۔ انہوں نے بعض عالمی شخصیات اور اداروں کا سفارتی دباؤ مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا جو نہ صرف وقت کا تقاضا تھا بلکہ اپنے روایتی حریف کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لئے ناگزیر ہو چکا تھا ۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف نے قومی تاریخ کا ایک ایسا باب رقم کیا جس پر ہماری آئندہ نسلیں بجا طور پر فخر کرتی رہیں گی ۔
اب حال ہی میں (جمعہ کے روز ) وزیراعظم نے کہوٹہ میں موجود ایٹمی پلانٹ اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم کو جوہری پروگرام کی نگرانی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ڈی جی نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول نے بتایا کہ دفاعی نظام کی مضبوطی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جدید نظام کی مدد سے دفاعی تنصیبات اور اثاثوں کی نگرانی براہ راست ہوتی ہے۔ وزیراعظم کو ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کا معائنہ کروایا گیا اور انہیں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنے والے اور حفاظتی نظام کا عملی مظاہرہ بھی دکھایا گیا ۔ نواز شریف پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں جوہری اثاثوں کے اس حساس نظام کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا گیا ہے ۔ اس موقع پر جوہری اثاثوں کی غیر معمولی حفاظت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ہمارے جوہری اثاثے مکمل محفوظ ہیں اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سول ایٹمی ٹیکنالوجی ہمارا بنیادی حق ہے۔ پاکستان کسی کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں لیکن کم سے کم دفاعی صلاحیت بہرحال برقرار رکھی جائیگی۔ وزیراعظم نے دفاعی اثاثوں کی فول پروف سیکیورٹی پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر امن ایٹمی ملک ہے اور خطے میں امن چاہتے ہیں۔دریں اثناء آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کے جدید اور محفوظ ترین نیٹ ورک سینٹر نے کام شروع کر دیا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں نے حال ہی میں تعمیر کئے گئے سنٹر کا افتتاح گذشتہ دنوں کیا تھا۔
کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ کے معائنہ کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملاقات بھی ہوئی جس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ طالبان سے مذاکرات پہلی ترجیح ہونگے اور دہشت گردی کا ہرقیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ملاقات میں پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن اور تربیتی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق آرمی چیف نے وزیراعظم کو بتایا کہ کورکمانڈرز اجلاس میں بھی امن کیلئے سیاسی عمل کی مکمل حمایت کی گئی۔کور کمانڈرز کانفرنس نے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا کام جاری رکھا جائیگا۔وزیراعظم نے عسکری قیادت کو نیو یارک میں بھارتی وزیراعظم سے اپنی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات میں بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ کھل کر اٹھایا گیا اور بھارتی وزیراعظم پر واضح کر دیا گیا کہ ہم کسی کے معاملہ میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو اپنے معاملے میں کوئی مداخلت کرنے دیں گے۔
ساری مہذب دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے جن ممالک کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے یا وہ یہ صلاحیت حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں ، ان ممالک میں سے پاکستان واحد ملک ہے جس کے ایٹمی پروگرام میں کسی مرحلہ پر کسی قسم کا کوئی سقم نہیں پایا گیا ۔ امریکہ سمیت کئی ممالک جن کو اپنی صنعتی اور فنی مہارت کا بڑا زعم ہے ، وہاں بھی ایٹمی پروگرام ، اس کی تنصیبات اور فنی مراکز میں کسی نہ کسی طور ایسے حادثات رونما ہوتے رہے ہیں جن کو غفلت ، کوتاہی اور ناتجربہ کاری کے زمرہ میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ یہ امر بھی نہایت قابل ذکر ہے کہ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے جو دفاعی اور حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، وہ بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرح، دنیا بھر میں منفرد اور اپنی مثال آپ ہیں جس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں کسی ملک کا کوئی ادارہ یا شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں مکمل معلومات رکھتا ہے ۔
اہل وطن نے اپنے پر امن ایٹمی پروگرام کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ، ان کو یہ احساس بھی ہے کہ یہ پروگرام پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے چنانچہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اس ایٹمی پروگرام کے بارے میں آئے دن شر انگیز اور خود ساختہ خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ سے یہ بات تواتر سے کہی جا رہی ہے کہ دہشت گرداور انتہا پسندعناصر مذکورہ ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر سکتے ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ وطن عزیز کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی ذمہ داری نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے سپرد ہے جو اپنا فریضہ نہایت سرگرمی اور کامیابی کے ساتھ ادا کر رہی ہے۔ ایٹمی شعبہ اور خاص طور پر اس کی سیکورٹی کے امور کے ماہرین بجا طور پر خیال کرتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کسی غیر متعلقہ شخص یا ادارے کے بس کی بات نہیں ۔ ظاہر ہے کہ وسیع تر قومی مفادات کے پیش نظر ایٹمی اثاثوں کے سیکورٹی انتظامات کی تفصیلات تو منظر عام پر کبھی نہیں لائی گئیں لیکن نرم سے نرم الفاظ میں نہایت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کی جانب بری نیت سے بڑھنے والاکوئی مہم جو اپنے ارادہ میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ کبھی صحیح سلامت واپس ہی نہیں ہو سکے گا ۔

890
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...