امن کی خواہش ہر انسان کی انسانیت کی دلیل ہوتی ہے لیکن اس خواہش کی کامیابی کا تمام تر دارومدار طرفین کی باہمی رضامندی ، عزت، احترام اور برابری پر ہے ۔ جہاں ایک کمزور اوردوسرا طاقتور ہو وہاں جبر سے لڑائی اور جنگ روکی جاتی ہے امن کی خواہش اور خوشحالی کی توقع کے لیے نہیں۔ کچھ یہی حال پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی خواہش کا ہے اگر تو یہ برابری کی بنیاد پر ہو تو اس پر ظاہر ہے کسی کو اعتراض نہیں بلکہ ہر باشعور شخص اس پر خوشی محسوس کرے گا کہ جنگی تیاریوں کی بجائے عوام کی خوشحالی، قومی ترقی اور معاشی سرگرمیوں پر توجہ دی جائے گی لیکن اگر اپنی زمینی وسعت اور زیادہ آبادی کی بنا پر بھارت خود کو ہمارا مالک و مختار رسمجھنے کی کوشش کرے تو اس میں امن کی کسی خواہش کا عمل دخل نہیں بلکہ صرف دھونس اور دھاندلی ہے اور ہماری طرف سے ایک سمجھ میں نہ آنے والی گرمجوشی بلکہ بسااوقات خوشامدانہ حد تک گرمجوشی دکھا کر اپنی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔
موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی ،بلکہ ابھی تو الیکشن ہی جیتا تھا کہ جناب نوازشریف نے اپنی بھر پور خواہش کا اظہار کیا کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اُن کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوں لیکن منموہن سنگھ نے اس تقریب اور جناب نواز شریف کو اس قابل ہی نہیں سمجھا۔ اب اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران جس طرح مذاکرات کے لیے بھارتی وزیراعظم کو درخواست دی گئی اور پھر جس طرح کااس طرف سے رویہ دکھایا گیا اور یہ درخواست مسترد کی گئی وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کو کافی ہے۔ دونوں وزراء اعظم ملیں گے ضرور لیکن یہ صرف ملاقات ہوگی ۔ منموہن سنگھ نے بتا دیا ہے کہ کشمیر پر کوئی بات نہیں ہوگی ۔ اگر پاک بھارت مذاکرات میں کشمیر پر بات نہ ہو تو مذاکرات منعقد کرنے کی ضرورت کیا ہے جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اصل وجہ نزاع ہے ہی کشمیر اور جب تک یہ تنازعہ حل نہ ہو پاک بھارت تعلقات معمول پر آہی نہیں سکتے۔ اقوام متحدہ اسے متنازعہ علاقہ تسلیم کر چکی ہے لیکن بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جبکہ وہ اقوام متحدہ کا رکن ہے اور اس کے چار ٹر پر دستخط کر چکا ہے لیکن لگتا یہ ہے اقوام متحدہ کا کام بھی امریکہ کو فوج کشیوں کی اجازت دینا اور اس کے دوستوں کے جائز اور نا جائز اقدامات کو تحفظ دینے کے علاوہ کوئی نہیں۔ جبکہ جب تک کشمیری خود اپنے حق آزادی و خود ارادیت سے دست بردار نہیں ہوتے تب تک بھارت ایسا کہنے کا حق بھی نہیں رکھتا اور میرے خیال میں کشمیری جس طرح ہر روز اپنی جانیں دے رہے ہیں آخری کشمیری بھی زندہ رہا تو کشمیر کی آزادی کی بات کرے گا وہ اپنے لاکھوں ہم وطنوں کے خون سے غداری کرہی نہیں سکے گا۔
منموہن سنگھ جو کشمیریوں کو تو خودارادیت دینے کو تیار نہیں لیکن پھر بھی سمجھتا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی نہ ہو یعنی کشمیری ظلم چُپ چاپ سہتے جائیں۔ پاکستان میں تو بھارتی دہشت گردی کے ثبوت موجود ہیں جس کے بارے میں ایک پوری فائل تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں بھارتی وزیر اعظم کو پیش کی تھی اور اس کا دوسرا اور کھلا ثبوت افغانستان میں اسکی بلا وجہ موجودگی ہے۔ وہ کرزئی کے تمام فیصلوں پر بھی اثرانداز ہے اور اپنا قومی فرض نبھاتے ہوئے فاٹا میں دہشت گرد بھیجتا بھی ہے اور بناتا بھی ہے اور بلوچستان کا تو سب سے بڑا مجرم ہی بھارت ہے۔ اگر بھارت پاکستان میں دہشت گردی بند کردے اور دہشت گرد بنانا چھوڑ دے تو تب ہی اس فساد کو روکا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے ایک مضبوط معیشت رکھنے والا خوشحال پاکستان بھارت کے حق میں بالکل بھی نہیں۔ بھارت سِسکتے بلکتے بے گھر و بے سائبان لاکھوں کروڑوں آبادی رکھنے کے باوجود ایک مضبوط معیشت گردانا جا رہا ہے اگر چہ ایسا ہے بھی لیکن اس کا چر چا ہمارا میڈیا ضرورت سے کچھ زیادہ کر کے دنیا میں اُس کے لیے مزید منڈیاں تلاش کر دیتا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف بھارت پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ کہہ کر کچھ کچھ ہونے والی معاشی سرگرمیوں کو بھی روک دیتا ہے۔ دہشت گردی ساری دنیا سے بڑھ کر پاکستان کا مسئلہ ہے، دھماکوں سے ہمارے شہر گونجتے ہیں بھارت میں تو اکادکا ہی واقعات ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری وہاں کی تنظیمیں قبول کر لیتی ہیں یہ اور بات ہے کہ اس قبولیت کے باوجود وہ ان کا سلسلہ پاکستان سے جوڑ دیتا ہے اور وہ اپنا پروپیگنڈا اس زور و شور اور کامیابی سے کرتا ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں قابل نفرت ٹھہرتا ہے۔ مذاکرات کے ایجنڈے سے کشمیر کو نکال دینا اگر بھارتی وزیراعظم کی ضد ہے تو ہماری طرف سے بھی مطالبات ہونے چاہیءں نہ کہ ہم اُن کی شرائط پر بات کریں ،جو مذاکرات بھیک کی طرح مانگے جائیں ان کی کامیابی کی تو یا امید نہیں رکھنی چاہیے اور اگرکوئی کامیابی ہوگی تو ظاہر ہے قومی مفادات اور قومی وقار کی دھجیاں اڑا کر ہونگی ۔ میاں صاحب کو منموہن سنگھ کی بوڑھی دیہاتی عورت کی طرح اوبامہ کو شکایت لگا نا اگر نظر آگیا ہے تو بھارت کو پسندید تجارتی ملک قرار دینے سے پہلے ان کا 407 بلین ڈالر کا فائدہ بھی نظر آجانا چاہیے جس کے بدلے میں پاکستان کو صرف 89 بلین ڈالر کا فائدہ ملے گا۔ جبکہ دہشت گردی میں اُس کے ہاتھ ہونے کے ثبوت جو بقول حکومت کے اُس کے پاس موجود ہیں دنیا کو دکھا دینے اور رکوا دینے میں فائدہ پاکستا ن اور پاکستان کے نکتہ نظر کا ہو۔
میاں صاحب! قوم نے آپ کو ووٹ دیا تھا کہ آپ دہشت گردی ختم کریں گے، آپ معاشی سرگرمیاں بحال کریں گے، آپ ایک خوشحال پاکستان قائم کریں گے لیکن چار پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ایک بھی کام ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اگر آپ کشمیر کے مسئلے پر بھی پیچھے ہٹ جائیں گے، آپ مذاکرات نہیں خوشامد کریں گے، آپ بھارت کی بالادستی قبول کر لیں گے، آپ امن کی آشاوالوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے قومی مفادات کا سودا کریں گے تاکہ آ پ کو میڈیا سپورٹ حاصل رہے تو آپ قومی سپورٹ کھو دیں گے۔ امن ہر پاکستانی کی خواہش ہے لیکن ان دھماکے کرنے والوں کا تو ہاتھ روکیں ۔ ملک کے چند علاقوں میں تو خدا کا شکر ہے کافی حد تک امن ہے لیکن آپ اور چوہدری نثار پورے پاکستان کے ذمہ دار ہیں اور پشاور اب بھی دھماکوں سے گونج رہا ہے اور تمام تر الزام عمران اینڈ کمپنی پر ڈال کر ذمہ داری سے سبکدوشی دکھائی جا رہی ہے۔اب جبکہ کچھ دھماکوں سے تو طا لبان نے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تو منموہن سنگھ کو بتا دیجئے گا کہ مذاکرات کی پیشکش کے باوجود دھماکوں میں ملوث ہاتھ آپ کو تھمادے اور اپنا ہاتھ روک لے تاکہ پاکستان سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ ہو۔ دہشت گردی ان کا نہیں ہمارا مسئلہ ہے اس سے نمٹنے میں ہمیں ان کا تعاون درکار ہے کہ وہ اپنے یہ کارندے پاکستان بھیجنا چھوڑدے اگرچہ ان کو یہ قبول نہ ہوگا کیونکہ ہم اس’’ ایشیئن اکنامک ٹائیگر‘‘ کے مقابلے پر آجائیں گے لیکن ہمیں اپنی بقا ء کی جنگ لڑنی ہے بھارت کے مفادات اور ترقی کی نہیں۔

1,344
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 5
Loading...