ایک اور بڑا دھماکا ہوا اورپشاور لرز اٹھا۔ چیختی ہوئی عورتیں ،بلکتے ہوئے بچے، شوہروں اور بچوں کو ڈھونڈتی ہوئی عورتیں، ایک عورت اپنے سر کو مارتی ہوئی کانوں پر ہاتھ رکھتی ہے جیسے کہ وہ بُری خبر کو نہیں سنے گی توسب خیریت رہے گی، ایک اپنے بچے کے پیچھے چھیتی ہے کہ دیکھے گی نہیں تو لاشیں گریں گی نہیں۔ یہ منظر اب کوئی نیا نہیں لیکن دیکھ کر پھر بھی دل دہلتا ہے۔ نیا تو یہ اُس دن بھی نہیں تھا جب میں اسی طرح چیختی پھر رہی تھی کسی کو منہ کھولتا دیکھتی تو کانوں پر ہاتھ رکھ لیتی تھی کہ مبادا مجھے یہ نہ بتا دیا جائے کہ خدانخواستہ میرا بیٹا بھی ۔۔۔۔۔۔ مسجد میں دھماکا ہوا ہو تھا اور میرا بیٹا نماز پڑھنے اسی مسجد میں گیا تھا اور میرے شوہر بھائی، بہن ہم سب اُسے ڈھونڈتے پھررہے تھے۔ پھر میرے خدا کا شکر ہے کہ وہ مجھے مل گیا اُس کے دونوں پیروں کی ہڈیاں فریکچر تھیں اوراُس کا منہ سوجھا ہوا تھا اگر عام حالات میں میں اسے اس حالت میں دیکھتی تو رو رو کر بے حال ہو جاتی لیکن اُس دن میں اُسے چوم چوم کر خدا کا شکر ادا کرتی رہی۔ آج اِن ماوؤں کو دیکھ کر مجھے اپنا آپ اور وہ سب مائیں اور بیویاں یاد آرہیں تھیں جو اسی طرح چیختی چلاتی پھر رہی تھیں فرق تھا تو یہ کہ وہ دھماکا مسجد میں ہوا تھا اور یہ چرچ تھا، میں مسلمان ہوں اور یہ عورتیں عیسائی تھیں لیکن ماں تو ماں ہے، بیوی تو بیوی ہے، بیٹا تو بیٹا ہے اور باپ تو باپ ہے اور اسی لیے سب کا دُکھ ایک جیسا ہے۔ آج کوئی پاکستانی محفوظ نہیں، امام بارگاہ میں حسین اور علی مرے ،مسجد میں عمر اور ابوبکر یا گرجے میں جوزف اور برکت مسیح یا کسی مندر میں مہیش اور رمیش، پورا پاکستان زخمی ہے ہم ایک حادثے کو چار دن یاد کرتے ہیں، روتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں بھول جانے کی وجہ ایک نیا حادثہ نیا دُکھ ہوتا ہے جو پچھلے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے اور ہر پاکستانی اُسے دیکھ کر رو دیتا ہے پھر آخر کون ہے یہ جو یہ ظلم ڈھاتا ہے اگر وہ مسلمان ہے تو مسلمان کسی مسلمان کو تو کیسے مارے گا اُسے تو حکم ہے کہ وہ اپنے ملک میں رہنے والے غیر مسلم کی جان اور مال کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہے جب تک کہ کوئی اُس کے دین ملک اور ریاست کو نقصان نہ پہنچائے اور اِن حالات میں بھی یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت و سزا کا عمل سر انجام دے نہ کہ کسی فرد یا تنظیم کی پھر ایسا کرنے والے آخر کونسی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں۔22 ستمبر کو ہونے والا یہ دھماکا جو اب تک 81 افراد کی جان لے چکا ہے اور یہ سمجھنا کہ صرف مسیحی برادری سوگوار ہے بالکل غلط ہوگا آج ہر بات کرنے والا اسی دکھ کا اظہار کر رہا تھا کہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔ ہر پاکستانی اُسی طرح دکھی ہے جیسے کسی مسجد اور امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے پر ہوتا ہے یا کسی بازار اور مارکیٹ میں ہونے والی اموات پر ہوتا ہے ۔ اس سانحے کے بعد ہمارے میڈیا کے کچھ چینلز نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث سے حوالے دینا شروع کر دئیے جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ جیسے اقلیتوں کے حقوق پر حملہ کیا گیا ہو جبکہ آج تو پاکستان کا کوئی شہری محفوظ نہیں نہ مسلمان نہ غیر مسلم ۔ لہٰذا میڈیا کو نہ صر ف انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا بلکہ ایسے کسی بھی تاثر کو زائل بھی کرنا ہوگا اور اگر غیر ملکی میڈیا اور تنظیمیں ایسا کرنا چاہیں تو اُس کا بھی تدارک کرنا ہوگا۔ اقلیتوں کے حقوق یاد کروانا اپنی جگہ ضروری ہے لیکن ایسے موقعے پر جب اس کی ضرورت ہو ۔پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا منہ بولتا ثبوت تو خود وہ عظیم الشان گرجا تھا جس میں یہ دھماکا ہوا اور وہ تعداد بھی جو اتوار کو بغیر کسی روک ٹوک کے اس عبادت خانے میں موجود تھی لہٰذا اس واقعے کو اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ قرار دے کر حد سے آگے نکل جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔ ہاں اُس ہاتھ کو روکنا از حد ضروری ہے جو یہ سب کر رہا ہے۔ اگر چہ بظاہر یہ سب کرنے کی ذمہ داری جند اللہ نے قبول کرلی ہے لیکن خود یہ تنظیم کس کے زیر سایہ چل رہی ہے اصل مجرم کون ہے اور جب تک اصل مجرم نہ پکڑے جائیں تب تک معاملہ حل نہیں ہوگا ۔ طالبان، لشکر اسلام، جنداللہ کیا مسلمان صرف یہ لوگ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ذمہ داری تفویض ہوئی ہے اگر نہیں بلکہ یقیناًنہیں تو پھر کس نے انہیں انسانوں کی جانیں لینے پر معمور کیا ہے اورکہیں سرزمینِ پاکستان کا انتخاب اس خاص وجہ سے تو نہیں کیا گیا ہے کہ یہ مملکت اُن کے ارادوں کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ ہے یا یہ کہ اس کی ایٹمی قوت نا قابل برداشت ہے ۔یہ ملک جس میں ایک عام آدمی صرف اپنے مسلک سے سروکار رکھتا ہے یہاں کون فرقے کے نام پر تفریق پیدا کرتا ہے، علاقے کے نام پرنفرت پیدا کرتا ہے یا صوبائیت کا تعصب پھیلاتا ہے، ظاہر ہے کوئی تو ہے اور ہمارے حکمران اور ذمہ داران تو جانتے ہی ہیں تو کیا پھر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے یا اُس ہاتھ کے نام کا اعلان کرکے اُسے کاٹ دینا ضروری ہے۔
قوم بہت سہہ چکی ہے بہت خون نا حق بہہ چکا اب سیاست نہیں سنجیدگی کا وقت ہے ،کارندے چاہے اندرونی ہیں لیکن آقا بیرونی اور حکومت کو اب ہر صورت ، ہر راستہ اپنا کر عوام کی جانیں محفوظ بنانی ہونگی خون ناحق بہہ جانے کا یہ سلسلہ روکنا ہوگا یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دشمن ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔ سر رہیں گے تو حوصلے رہیں گے جب سر ہی ختم ہو جائیں گے تو حوصلے کس کام کے اب آخری حد تلاش کر لینی چاہیے۔

1,117
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...