نو ستمبر2013 کو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت مل بیٹھے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کریں کراچی اور بلوچستان کے مسائل سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مسئلے پر بھی مشترکہ قرار داد منظور کی گئی اور حکومت اور وزیراعظم کو مسئلے کے حل کا اختیار بھی دیا گیا اور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ ڈرون حملوں کے خلاف بھی قرار داد اتفاق رائے سے منظور کی گئی اور نیٹو کی کاروائیوں کو پاکستان میں دہشت گردی اور اموات کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔ مسائل کے حل کے لیے تمام سٹیک ہولڈر سے مذاکرات کی تجویز بھی منظور ہوئی اور یہ سب کچھ ظاہر ہے کہ ملکی مفاد میں کیا گیا۔ طالبان کی طرف سے بھی مذاکرات کی پیش کش پر مذاکرات کا عندیہ دیا گیا۔ اگر چہ اس سارے عمل کے چند ہی روز بعد اپر دیر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا اور پاک فوج کے ایک میجر جنرل ، ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک لانس نائیک ایک بارودی سرنگ کی زد میں آکر شہید ہوگئے اور حسب معمول اس واقعے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے قبول کرلی۔ طالبان کا کوئی ایک گروپ نہیں ہے یہ سب ہی جانتے ہیں تو پھر شاہد اللہ شاہد کس کا ترجمان ہے یہ کون بتائے گا۔ اور کیا کوئی یہ بتائے گا کہ آخر مذاکرات پر آمادگی کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے یہ اعلان کون سا گروپ کر رہا ہے اور کس کے کہنے پر کر رہا ہے۔ کیا کچھ ایسے عناصر سرگرم عمل ہیں جو یہ مذاکرات کسی صورت نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ان مذاکرات کے اعلان کے ساتھ ہی اہل مغرب نے بھی پاکستان کے خلاف واویلا کرنا شروع کردیا ایسا ہی ایک مضمون ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہوا اور مضمون نگار نے ڈرون حملوں ، نیٹو کے کردار اور طالبان سے مذاکرات کرنے پر تنقید کی ہے۔
لیکن بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام بہتر جانتے ہیں کہ اُنہیں امن ہر صورت بحال کرنا ہے۔ اب تک ایک محتاط انداز ے کے مطابق بھی چالیس ہزار پاکستانی اس جنگ میں جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جن میں مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں نہ نمازی چھوڑے گئے نہ مریض ،وہ کچھ کیا گیا جس کا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا ،جنازہ سامنے پڑا ہو اور مزید لوگ قتل کر دئیے جائیں اس سے ہولناک صورت حال کیا ہو سکتی ہے لیکن یہ سب کچھ سالہا سال سے ہمارے ملک میں چل رہا ہے، فوجی آپریشن بھی ہوئے اور مذاکرات کے چھوٹے موٹے دور بھی چلتے رہے جس پر ایک سیاسی پارٹی ہاں اور دوسری ناں کرتی رہی اور نتیجتا مذاکرات ناکام بھی ہوتے رہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ مذاکرات کے دروازے بند کر دئیے جائیں بلکہ انہیں ایسے خطوط پر منعقد کیا جائے کہ یہ ملک میں امن قائم ہونے کا باعث بنیں۔ دنیا میں صد سالہ جنگوں کے بعد بھی فیصلے مذاکرات کی میزوں پر ہی ہوئے ہیں اور تقریبا پچاس فیصد جنگیں مذاکرات پر ہی اختتام پذیر ہوئیں ہیں ۔ یہاں تو مسئلہ بھی مختلف ہے کہ دونوں طرف اپنے ہی لوگ ہیں جنہیں لڑایا جا رہا ہے ۔ اس لیے یہ اعتراض کہ انہیں سٹیک ہولڈر کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے، مقصد مسئلے کا حل ہے ۔ یہ لوگ اگر چہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن شہری تو پاکستان کے ہی ہیں شاید اِن میں سے بہت سے کارندے یہ جانتے ہی نہ ہوں کہ انہیں کون سی غیر ملکی قوتیں استعمال کر رہی ہیں اور علاقے میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص دہشت گردی سے ان کا کون کون سا مفاد وابستہ ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ طالبان تو اب صرف ایک’’ علامت‘‘ یا’’برینڈ نیم‘‘ بن گیا ہے جس کو جرائم پیشہ گروہ بھی بڑے آرام سے استعمال کر رہے ہیں بلکہ انہیں دشمن قوتیں ایسا کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ امریکہ اپنے دوستوں یعنی بھارت اور اسرائیل کی مددِ خاص سے ایسا کرکے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ اُس کی ہوس ملک گیری کی راہ میں ایٹمی پاکستان حائل نہ ہوسکے اور اس کے عوض وہ بھارت کو علاقے کا چوہدری بناکر پیش کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُسے افغانستان میں اہم بنا دیا گیا ہے جہاں سے وہ بڑی آسانی سے دہشت گردوں کی مدد کر سکتا ہے۔
طالبان سے معاملات پیچیدہ بھی ہیں اور مشکل بھی اور یہ اعتراض بھی درست ہے کہ طالبان کی شرائط پر مذاکرات حکومت اور ریاست کے حق میں نہیں ہیں لیکن ظاہر ہے ایک درمیانی راستہ ہمیشہ موجود رہتا ہے جسے پہلے دریافت کرنا ہے اور پھر اُسے اختیار کر کے طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانا ہے اور یہ مذاکرات تمام گروپوں کے نمائندہ گروپ سے ہوں ۔ چالیس ہزار جانوں کے بعد خدانخواستہ چالیس ہزار اور جانوں کا ضیاع کسی بھی طرح عقلمندی اور حب الوطنی نہیں ہے۔ ہاں اگر طالبان حکومت کے مذاکرات کی پُر خلوص کوشش کے باوجود بھی اپنی شرائط پر اڑے رہیں تو پھر حکومت اپنی پوری قوت بلا خوف و امتیاز استعمال کرے لیکن اب اس مسئلے کو حل ہو جانا چاہیے۔ میرا آج بھی یقین ہے کہ قبائلی انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں صرف اُن کو احساس دلانا ہے کہ وہ کسی اور قوت کے کارندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یہ کام مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔ اگر دشمن ملک مذاکرات کے ذریعے اپنے معاملات حل کر سکتے ہیں، اگر مختلف مذاہب کے لوگ گفت و شنید سے دنیاوی مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں تو ہمارے تو دونوں طرف ایک ہی ملک ایک ہی مذہب کے لوگ ہیں تو آخر ہم ایسا کیوں نہ کر سکیں گے اور اعتراض کرنے والے اعتراض کس چیز پر کرتے ہیں یہ تو آپ اُن لوگوں سے پوچھیں جو اس مسلط شدہ پرائی جنگ میں خون دے چکے ہیں۔ ہمارے حو صلے یقیناًپَست نہیں ہیں اور ہم اللہ کے حکم کے مطابق اپنے شہیدوں پر فخر کرتے ہیں لیکن پُر امن زندگی بھی اللہ کی ایک نعمت ہے اور ہر انسان کا حق بھی اور ملک کی ترقی کے لیے زندہ دست و بازو بھی درکار ہیں ۔ لہٰذا اس جنگ کو اب ختم ہو جانا چاہیے تاکہ پاکستان ایک مضبوط معیشت، ایک ترقی یافتہ ملک اور ایک بڑی اسلامی قوت بن کر ابھرے اور ہر پاکستانی ایک پُرامن زندگی گزار سکے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے آمین۔

916
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...