مشرف دور میں امریکہ کو مطلوب کچھ لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا بلکہ در حقیقت بیچا گیااوراپنے اس جرم کا اعتراف جنرل مشرف نے خود اپنی کتاب اِن دی لائن آف فائر میں بھی کیا۔ ان لوگوں کے جرائم جو بھی تھے ان کی فروخت کسی بھی طرح درست نہیں تھی کیونکہ ان کے جرائم پاکستان کے خلاف نہیں امریکہ کے خلاف تھے اور انہی فروخت شدہ لوگوں میں سے ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھی۔عافیہ کا کس سے تعلق تھا یا خود وہ کون تھی، اُس کے ابتدائی جرائم کیا تھے یا نہیں تھے یہ سب سوالات اپنی جگہ لیکن اُسے جو پچاسی سال قید کی سزا سنائی گئی ، اُس کے ساتھ مقدمے کے دوران جو غیر انسانی سلوک کیا گیا اور اس سے پہلے اُس کو جس طرح نہ صرف حبس بے جا میں رکھا گیا اور بگرام جیل میں اُس کے ساتھ جو وحشیانہ رویہ رکھا گیا وہ سب اُس کو انتہائی قابل رحم بناتا ہے اور زیادہ افسوسناک عمل یہ ہے کہ اس تمام سزا کے لیے اُس کے جس جرم کو بنیاد بنایا گیا وہ یہ تھا کہ اُس نے ایک امریکی فوجی پر صرف بندوق اٹھائی تھی مارا نہیں تھا۔ عافیہ کے ساتھ پاکستان میں عمومی طور پر ہمدردی کا ایک جذبہ پایا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک مجرم ہے، جو پاکستان کا مجرم ہے، جس نے پاکستان کی عزت اور خود مختاری کا سودا کیا تھا۔ امریکہ نے 2 مئی 2011 کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مخبری پر ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں ایک گھر پر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملہ کرکے اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا یہ حملہ پاکستان کے کئی کلومیٹر اندر آکر پاکستان ملٹری اکیڈمی سے دوچار کلومیٹر کے فاصلے پر کیا گیا اور اس کا باعث خود پاکستان کا ایک شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی بنا جس نے امریکیوں کی ہر طرح سے رہنمائی کی۔ خوش قسمتی سے یہ غدارِ وطن پکڑا گیا اور تب سے اب تک امریکہ مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح اپنے اس مخبر اور ہمارے اس غدار کو رہا کرواکر اپنے ملک لے جائے اور ظاہر ہے کہ وہاں اسے جس طرح نوازا جائے گا اُس کی تفصیل بیان کئے بغیر بھی سب کو معلوم ہے۔ ابھی تک حکومتِ پاکستان نے عوامی دباؤ کے تحت اس غیر ملکی دباؤ کو برداشت کیا لیکن اب جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ ممکن ہے کہ حکومت شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے اور شائد عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس سے عافیہ صدیقی کو پاکستان کو دے دینے کامطالبہ کیا جائے تا کہ یوں پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ بات اگر دو عام قیدیوں کی ہوتی تو قابلِ قبول تھی لیکن یہاں بات ایک ایسے غدار کی ہے جس کی غداری نے پوری قوم کا سر جھکا دیا اور پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جو اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا اور جہاں دشمن جب چاہے سرحدوں کے بہت اندر آکر ہم پر وار کر سکتا ہے۔ اگر وہ جانتا تھا کہ ایبٹ آباد کے ایک عام سے گھر کے اندر دنیا کا انتہائی مطلوب شخص اُسامہ رہتا ہے تو اُسے یہ راز اپنی حکومت کو دینا چاہیئے تھا نہ کہ ایک غیر طاقت کو اور وہ بھی ایک ایسی طاقت کو جو اسلامی ملکوں پر حملہ کرنا اپنا فرض اور اپنے سُپر پاور ہونے کی تسکین سمجھتا ہے۔ شکیل آفریدی کوئی عام مجرم نہیں جسے قیدیوں کے تبادلے میں دوسرے ملک کے حوالے کیا جائے۔ امریکہ اپنے مجرموں کو تو دُنیا کے لیے عبرت بنا دیتا ہے جیسا کہ اُس نے عافیہ کے معاملے میں کیا جب کہ اپنے لیے کام کرنے والوں کو وہ دُنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا والوں پر بھی وہ ان کا ہیرو ہونا مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس بات کا بھی قائل ہے اور اس پر مُصر بھی کہ اُس کے شہریوں کو دنیا میں کچھ بھی کرنے کا اختیار حاصل ہے اور وہ کسی بھی جرم کے بعد انہیں بزور بازو چھڑالے جاتا ہے۔ دُنیا میں تو یقیناًاس کی کئی مثالیں ہونگی جب اُس نے اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک میں جرائم کے بعد چھڑا کر ہیرو بنا دیا ہوگا لیکن پاکستانیوں کے ذہنوں میں ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کا رعونت زدہ چہرہ محفوظ ہے جو لاہور کی سڑکوں پر دو پاکستانیوں کے قتل کے بعد محفوظ و ماموں امریکہ پہنچ گیا تھا۔ اب اگر چہ معاملہ اُن کے شہری کا نہیں لیکن یہ شخص یعنی شکیل آفریدی امریکہ کے لیے اُس سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ۔ حکومت پاکستان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ڈاکٹر آفریدی کی حوالگی کے اثرات کیا ہونگے، ایک ایسی قوم جس کے کچھ افراد اپنی غربت کے مارے بڑی آسانی سے غیر ملکی طاقتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کچھ اپنی اخلاقی پسماندگی اور طمع و لالچ اور حرص و ہوس سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو بیچ ڈالتے ہیں کیا شکیل آفریدی کی حوالگی کے بعد اُن میں بہت سارے شکیل آفریدی بننے پر آمادہ نہیں ہو جائیں گے اور یہ نئے غدار پرانے سے بڑھ کر ہونگے کیونکہ پرانوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں تو سزا کا خوف ہوگا لیکن نئے تو ہر قسم کے اندیشے سے آزاد ہو کر جرمِ غداری کے مرتکب ہونگے اور بڑی تسلی سے بڑے بڑے قومی جرائم کریں گے۔ لہٰذا حکومت اس قومی موقف پر جم جائے کہ ڈاکٹر آفریدی قومی مجرم ہے اور اگر پاکستان میں غداری کی سزا موت ہے تو یہی اُس کی سزا ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ یقینا پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں اور پاکستان کا ہر فرد ان کی آزادی کا خواہاں ہے اور ان کی بے حرمتی پر ہر پاکستانی تڑپا بھی ہے لیکن اُن کی رہائی کے لیے کوئی دوسری سبیل کی جائے جو پوری قوم کو قابلِ قبول ہو ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ کی رہائی بھی متنازعہ ہو جائے گی اور ایک کمزور عورت جو عرصہ دراز سے امریکیوں کے مظالم سہہ رہی ہے اپنے لیے قومی ہمدردی بھی کھو دے گی ۔یہاں جذبات نہیں بلکہ ہوش اور فکر کی ضرورت ہے اور قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب بھی ہے کہ عافیہ اور اس کے اہل خانہ ایک غدار کے ساتھ پلڑے میں تُلنے کو راضی نہیں ہونگے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ عافیہ کی رہائی کی کوششیں ترک کر دی جائیں بلکہ اس رہائی کو باوقار طریقے سے ممکن بنایا جائے اور عافیہ کو پورے عزت و احترام کے ساتھ واپس اپنے ملک لایا جائے نہ کہ ایک غدار کے بدلے میں۔
ڈاکٹر آفریدی کی امریکہ کو حوالگی ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور اسے کسی صورت عمل میں نہیں آنا چاہیے ورنہ اُسکے فعل سے تو ملک کی جو سُبکی بین الا قوامی سطح پر ہوئی تھی سو ہوئی تھی اب کا معاملہ اس سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہوگا اگر ایسا کیا گیا تو دشمن اور شیر ہوگا اور ہر ایک اپنے کارندے نہ صرف بڑی تسلی سے پاکستان بھیجے گا بلکہ یہاں سے بھی اپنے مہرے ڈھونڈ نکالے گا۔ پاکستانی حکومت ماضی میں بڑی آسانی سے امریکی دباؤ میں آتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قوم اس خوف میں مبتلاء ہے کہ ایک بار پھر قومی وقار اور عزت کا سودا کر لیا جائے گا لیکن حکومت کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یوں آسانی سے ہتھیار ڈالنے کی روش نے ہمیں ایک مضبوط قوم نہیں بننے دیا اور تاریخ اور وقت شاید دوچار بار تومعافی دے بھی دیتی ہے ہر بار نہیں ، اور وقت کی پکڑنے بڑے بڑوں کو دنیا سے بے ننگ و نام رخصت کیا ہے لہٰذا موجودہ حکومت اپنی حب الوطنی اور قائداعظم کی جانشینی کے بلندو بانگ دعوؤں کے باوجود اگر کوئی عامیانہ بلکہ غدارانہ قدم اٹھائے گی اور سستی شہرت خریدے گی تو یہ سودا اُسے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے اورپھر اُسکی داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔

1,707
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...