جس وقت یہ سطور آپ کے زیر مطالعہ ہوں گی ، امکان غالب ہے کہ صدرآصف علی زرداری نہایت عزت و احترام کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت ہو چکے ہوں گے ۔ یہ اعزاز بھی ان کے شخصی کوائف میں شمار کیا جا چکا ہو گا کہ وہ وطن عزیز کے پہلے منتخب صدر ہیں جنہوں نے اپنی 5سال کی آئینی مدت کامیابی کے ساتھ مکمل کی ۔ اہل وطن کو یاد ہو گا کہ جب انہوں نے ایوان صدر کا رخ کرنے کا اصولی طور پر فیصلہ کیا تھا تو ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں نے ان کے حق میں قرار دادیں منظور کی تھیں اور ان کے (صدر کی حیثیت سے ) انتخاب کو قومی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا گیا تھا ۔ اگرچہ ان کے سیاسی مخالفین نے اس تبدیلی کی اہمیت اورافادیت سے انکار کرتے ہوئے اس کو پاکستان پیپلز پارٹی کی روایتی سیاست کا انداز قرار دیا تھا لیکن آج جب صدر زرداری ایک مرتبہ پھر سیاستدان کی حیثیت سے متحرک ہونے کے لئے بڑی حد تک تیار اور آمادہ دکھائی دیتے ہیں تو ان کے مذکورہ سیاسی مخالفین انگشت بدنداں ہیں ۔ ان کے لئے یہ واقعہ ناقابل یقین ہے کہ وہ شخص جس کی کردار کشی کے لئے جملہ اخلاقی حدود عبور کی گئیں اور جس کو ’’مسٹر ٹین پرسنٹ ‘‘ ثابت کرنے کے لئے کروڑوں روپے مالیت کی پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی ، اس شخص نے اس انداز میں اپنے منصب کو خیر باد کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک پُر تکلف الوداعی دعو ت کا اہتمام کیا گیا ، مفاہمت کی سیاست کے حوالہ سے اس کو خراج تحسین پیش کیا گیا،گارڈ آف آنر کا اہتمام کیا گیا اور یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ پانچ سال کا یہ عرصہ سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
شاید یہ بات عام لوگوں کو اب بھی یاد رہ گئی ہو گی کہ جب آصف علی زرداری نے اپنی رفیقہ حیات اور وطن عزیز کی مقبول ترین سیاسی شخصیت محترمہ بے نظیر بھٹو کے جسد خاکی کو سپرد خاک کیا تو اس موقع پر بعض جذباتی سندھی نوجوانوں نے غیر ذمہ دارانہ نعرے بازی کی تھی۔ اس موقع پر زرداری صاحب نے ان نوجوانوں کو تو کوئی جواب نہ دیا البتہ انہوں نے انتہائی جوش و خروش اور بے پناہ اعتماد کے ساتھ ’’پاکستان کھپے ‘‘ کا نعرہ مستانہ بلند کیا ۔ یہ لمحہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا ۔ اس لمحہ نے غمزدہ اور سوگوار زرداری کے دل کی آواز ساری دنیا میں پھیلا دی۔ یہ محض ایک جوابی یا جذباتی نعرہ نہیں تھا بلکہ اس کی صداقت کی گواہی قریب واقع گڑھی خدا بخش کا قبرستان بھی تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو ، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے مقابر دراصل اس تسلسل کا حصہ تھے جو آصف علی زرداری سے منسوب اور منسلک ہو چکا تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اس سلسلہ کو ایک نیا اعتبار اورحوالہ فراہم کیا تھا۔ اب اس سلسلہ میں بیگم نصرت بھٹو کا نام بھی شامل ہو چکا ہے۔ قارئین کو ضرور یاد ہو گا کہ جب آصف علی زرداری نے وطن عزیز کے 11ویں صدر کی حیثیت سے ایوان صدر میں قدم رکھا تھا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ میں تاریخ بنانے کے لئے آیا ہوں، اخبارات کی سرخیوں کا حصہ بننے کے لئے نہیں۔ تب ان کا یہ بیان بڑی حد تک ’’ضرورت سے زیادہ ‘‘ خود اعتمادی پر مبنی قرار دیا گیا تھا لیکن آج وقت نے اس بیان کی صداقت ثابت کر دی۔
صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا یا جو خدمات انجام دیں،ان کے بارے میں ان کے حامی اور مخالفین،دونوں ہی کوئی فیصلہ کرنے کا یارا نہیں رکھتے۔ یہ کام بھی مستقبل کا مورخ ہی کرے گاالبتہ یہ حقیقت نہایت فکر انگیز اوراہم ہے کہ انہوں نے جس طرز سیاست کو متعارف کرایا ، اس سے قومی سیاست کے خدو خال کس سطح پر اجاگر ہوں گے۔ انہوں نے 1973ء کے متفقہ آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کے لئے جس تدبر، ایثار اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، اس کا اعتراف ابھی نہیں، چند برس کے بعد ممکن ہو گا ۔ امکان غالب ہے کہ اب زرداری صاحب اپنی پارٹی کی صفوں کو از سر نو ترتیب دیں گے اور سیاسی مسابقت کے باب میں متحرک ہوں گے۔ اس بارے کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ آصف علی زرداری خواہ دنیا میں کہیں بھی ہوں، وہ بہرحال قومی سیاست کے میدان میں ضرور موجود ہوں گے ۔ ان کے بغیر سیاست کا منظر نامہ بے رونق رہے گا اور وہ بھی سیاست کے بغیر ادھورے اور نا مکمل دکھائی دیں گے ۔
سیاسی حلقوں میں اور خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں اور ساتھیوں میں یہ سوال نہایت درد مندی کے ساتھ دریافت کیا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری صاحب اپنی پارٹی کے ان کارکنوں اور ساتھیوں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کریں گے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی اور بے وقت شہادت کے بعد سیاسی اختلافات میں اس قدر آگے نکل گئے کہ واپسی کا راستہ فراموش کر بیٹھے ۔ پیپلز پارٹی بلاشبہ وطن عزیز کی سب سے بڑی اور عوامی سیاسی جماعت ہے اور اسی باعث اس جماعت میں اختلافات کی تعداد کی شرح اور سطح بھی دوسروں کے مقابلہ میں کئی زیادہ ہے ۔ یہ سلسلہ نیا اور عجب بھی ہر گز نہیں ۔ پارٹی کے بانی چیئرمین ، ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی میں بھی کارکن اورعہدیدار اختلافات کا اظہار کرتے رہے۔ کئی ایک نے (خود یا کسی کے ایماء پر) راستے بھی تبدیل کئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے وجود اور سیاسی وسعت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد ، خود بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو بے شمار مرتبہ اپنی یہ بات دہرانا پڑی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن ایسی مچھلیاں ہیں جو اسی سمندر میں زندہ رہ سکتی ہیں۔ اگرغلام مصطفی جتوئی، مولانا کوثر نیازی، ملک غلام مصطفی کھر اور ممتاز بھٹو ایسی شخصیات بھٹو خواتین کی اس بات کی اہمیت اور افادیت کو عملی طور پر سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے تو آج قومی سیاست کی کتا ب میں ان کے نام مختلف اوراق میں منور دکھائی دیتے ۔
آصف علی زرداری یقینی طور پر اپنے سیاسی مستقبل کے حوالہ سے منصوبہ بندی کے مراحل کا آغاز کر چکے ہوں گے۔ ان کے ارد گرد نہایت لائق اور فائق مشیران ہمہ وقت موجود رہیں گے۔ دنیا بھر میں ان کے دیرینہ رفقائے کار ان کے ساتھ تعاون کے لئے بے قرار ہوں گے اوراس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ کئی صحافتی اور سیاسی جغادری ان کے مرغ دست آموز بننے کے لئے آمادہ اور تیار ہوں گے۔ ایسے میں پارٹی کارکنوں کے جذبات اور رائے عامہ سے آگاہی نہایت ضروری اور ناگزیر ہے چنانچہ اسی حوالہ سے میں زرداری صاحب کی توجہ ان امور کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
* بی بی شہید کے قاتلوں کا تعاقب جاری رکھا جائے ۔
* پی پی پی کے پرچم کو سر بلند رکھنے کی ذمہ داری کارکنوں کو سونپ دی جائے ۔
* سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرتے وقت ’’مفاہمت‘‘ کو ثانوی حیثیت دی جائے ۔
* ’’بلاول ہاؤس ‘‘ اور ’’70کلفٹن‘‘ کے درمیان فاصلے کم کئے جائیں ۔
یہ کالم مکمل کرنے کے بعد مجھے اچانک خیال آیا کہ میری ان باتوں کا فائدہ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کو زیادہ ہو گا یا ’’کسی اور‘‘ کو

818
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...