عجیب اتفاق کی بات ہے کہ آج صبح ’’روز نیوز ‘‘ کے حالات حاضرہ کے پروگرام ’’روز کے اخبارات ‘‘ میں پاک بھارت سرحد پر بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے حوالے سے تجزیہ اور اظہار خیال کے بعد واپس گھر پہنچا اور ای میل پر موجود پیغامات چیک کئے تو لندن میں مقیم اپنے دیرینہ دوست اور وطن عزیز کے انتہائی ذہین براڈ کاسٹراور شاعر صفدر علی ہمدانی کے ایک پیغام نے چونکا دیا ۔ یاد رہے کہ صفدر ہمدانی وطن عزیز کے اس مایہ ناز بلکہ تاریخ ساز براڈ کاسٹر ، مصطفی علی ہمدانی کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے 13،14اگست کی درمیانی شب کو لاہور کے ریڈیو سٹیشن سے اللہ تعالیٰ کے پاک نام سے ’’یہ ریڈیو پاکستان ہے ‘‘ کا تاریخی اعلان کیا تھا ۔ صفدر ہمدانی کی اہلیہ محترمہ مہ پارہ صفدر نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کی نیوز کاسٹر کی حیثیت سے طویل عرصہ تک خدمات انجام دیں اور اب ان دونوں میاں بیو ی نے لندن میں مستقل سکونت اختیار کر رکھی ہے ۔ صفدر نے اپنے پیغام میں اس افسوسناک واقعہ کی نشاندہی کی کہ سڈنی (آسٹریلیا) میں مقیم ایک پاکستانی صحافی اور ادیبہ ڈاکٹر نگہت نسیم کے ساتھ بھارتی سفارتخانے نے انتہائی ناروا سلوک کا مظاہرہ کیا جس پر صرف آسٹریلیا ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانی اہل قلم اور صحافیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
میں نے 1996-2002ء کا عرصہ آسٹریلیا میں گزارا ہے اور میں ڈاکٹر نگہت نسیم کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ گذشتہ تقریباً 20سال سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں ۔ وہ نہ صرف ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے سڈنی کے مضافاتی علاقہ لیور پول کے ہسپتال میں اہم خدمات انجام دے رہی ہیں بلکہ ایک شاعرہ ، افسانہ نگار اورصحافی کی حیثیت سے بھی وہ اردو زبان و ادب سے شغف رکھنے والوں میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔ ان کی ادبی خدمات کا اعتراف صرف آسٹریلیا میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں یکساں طور پر کیا جاتا ہے۔ صفدر کی اطلاع نے مجھے حیران و ششدر کر کے رکھ دیا اور اسی ذہنی کشمکش میں،میں نے ڈاکٹر نگہت نسیم سے فون پر رابطہ کیا ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مذکورہ واقعہ کی جو تفصیلات بیان کیں ، وہ نہایت حیران کن اور ناقابل فہم حد تک توہین آمیز محسوس کی جا سکتی ہیں ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم نے جو تفصیلات ذاتی طور پر بیان کیں ان کے مطابق ڈاکٹر صاحبہ کو 2011ء میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں ریسرچ پیپر پڑھنے کے لئے گولڈن ٹیمپل، امرتسر میں مدعو کیا گیا لیکن وہ اپنی بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر وہاں نہ جا سکیں۔ اب ان کو بھارت کی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی طرف سے دعوت دی گئی کہ وہ 4تا 6ستمبر کو منعقد ہونے والی تین روزہ تقریبات میں شرکت کریں ۔ ان سے کہا گیا کہ وہ انٹرنیشنل کانفرنس میں اپنا مقالہ پیش کریں اور مشاعرہ میں اپنا کلام بھی سنائیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس مرتبہ دعوت قبول کرتے ہوئے منتظمین کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں گی۔ انہوں نے بڑی محنت سے مقالہ تیار کیا اور مشاعرہ کے لئے تازہ کلام ترتیب دیا بلکہ دوستوں کے لئے تحائف تک زادِ سفر میں شامل کر لئے ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم نے بتایا کہ ان کے سب خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب آسٹریلیا میں بھارت کے سفارت خانہ نے ان کو نہ صرف ویزہ دینے سے انکار کر دیا بلکہ ان کی راہ میں ناجائز اور بلا جواز رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں مثلاً ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے آسٹریلیا کے پاسپور ٹ کی بجائے اپنا پاکستانی پاسپورٹ لے کر آئیں ، ان سے استفسار کیا گیا کہ ان کے دادا بھارت کے کس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ بھارت میں جا کر کن کن لوگوں کے ساتھ رابطہ کریں گی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے نہایت افسوس کے ساتھ بتایا کہ مجھے Online Formپر کرنے کے لئے کہا گیا اور اس سلسلہ میں رہنمائی اور مدد فراہم کرنے کے عوض سٹاف کو ڈالرز میں ادائیگی کی ہدایت کی گئی حالانکہ وہ فارم میں ذاتی طور پر پُر کرنے کی صلاحیت اور اہلیت بھی رکھتی تھی۔ مجھ سے غیر ضروری طور پر NOCطلب کیا گیاتاہم وہ فراہم کردیا گیا ۔ اسی طرح کی حیل و حجت اور بہانہ سازی کا سلسلہ 3ستمبر تک جاری رہا جو میری روانگی کا دن تھا ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ آخری مرحلہ پر مجھ سے متعلقہ بھارتی صوبائی وزیر کی طرف سے تصدیق کا مراسلہ طلب کیا گیا جو پہلے ہی فراہم کیا جا چکا تھا۔ اسی طرح اس آخری مرحلہ پر’’ تھرڈ پارٹی سیکورٹی کلیئرنس ‘‘طلب کی گئی جس کی فراہمی میں کم از کم 45دن درکار ہوتے ہیں ۔ جب سفارتی اہلکاروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ دعوت نامہ کی اجازت اور منظوری آپ کے صوبائی وزیر داخلہ نے دے رکھی ہے تو سفارتی عملہ نے یہ غیر ذمہ دارانہ جواب دیا ’’ہم کسی وزیر کو نہیں مانتے‘‘۔
ظاہر ہے کہ بھارتی سفارتی اہلکاروں کے اس رویہ اور سلوک کے بعد ڈاکٹر نگہت نسیم کو بھارت کا سفر منسوخ کرنا پڑا چنانچہ انہوں نے کانفرنس مذکورہ کے منتظمین کو شکریہ کا خط روانہ کیا اور اپنا وہ ریسرچ پیپر بھی منسلک ہمراہ کر دیا جو ان کو کانفرنس میں پیش کرنا تھا ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے معذرت نامہ میں تحریر کیا کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہونے سے قاصر ہوں کیونکہ مجھے ویزا جاری نہیں کیا گیا لہذا میں آپ کے دعوت نامہ کے احترا م میں اپنا ریسرچ پیپر ارسال کرتی ہوں جو کانفرنس کے شرکاء کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ اسی طرح انہوں نے مشاعرہ کے منتظمین کو بھی اسی مضمون کا خط اپنے اس کلام کے ہمراہ روانہ کردیا جو وہ مشاعرہ میں پڑھنے کی متمنی تھیں ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم کی بیان کردہ باتوں کی تفصیلات کا خلاصہ یہی رہا کہ بھارتی سفارت کاروں نے جان بوجھ کر نہ صرف ان کا وقت ضائع کیا اور ہر مرحلہ پر ان سے ڈالرز کی صورت میں قیمتی زر مبادلہ وصول کیا بلکہ زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر صاحبہ کو انٹر نیشنل کانفرنس اور مشاعرہ سے دور رکھ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان خیر سگالی اور دوستی کی فضاء کے فر وغ میں انتہائی قابل مذمت رکاوٹ کھڑی کی ۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی سفارتی عملہ نے یہ حرکت کیوں اور کس کے ایماء پر کی۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کی افواج دونوں ملکوں کی سرحد پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز کارروائیوں کے نتیجہ میں امن و سکون کی کوششوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے ، آسٹریلیاء میں بھارتی سفارت خانہ کے عملہ کا کردار مشکوک اور سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔ یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت سے پاکستان آنے والی دوستی بس سروس پر حملہ کیا گیا، پاکستان اور بھارت کے مصوروں کے فن پاروں کی نمائش پر انتہا پسندوں نے یلغار کردی،نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سٹاف کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرحدی علاقہ میں اشتعال انگیز فائرنگ کر کے شہری آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ بھارتی وزیر دفاع نے یہ بیان داغ دیا کہ سرحد پر موجود بھارتی سپاہیوں کو یہ آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جوابی کارروائی کریں۔
یہ واقعات اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ بھارت میں ایسے عناصر لازمی موجود ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی فضاء کو مکدر کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ ہمیشہ اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ کشیدگی اور تصادم کا جنون حاوی رہے۔ ڈاکٹر نگہت نسیم اس اعتبار سے توبہرحال پاکستانی ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں جنم لیا لیکن وہ قانونی اور عملی اعتبار سے آسٹریلیا کی شہری ہیں اور اسی حیثیت میں وہ آسٹریلیا کا پاسپورٹ اور سفری دستاویزات رکھتی ہیں ۔ اگر بھارتی سفارتی عملہ ان جیسی خاتون اور شخصیت کے ساتھ یہ سلوک روا رکھ سکتا ہے تو ایک عام پاکستانی کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہو گا ، اس کا اندازہ کرنے کے لئے مزید کسی ریسرچ اور تحقیق کی ہر گز ضرورت نہیں ۔ ’’امن کی آشا‘‘ کا اصل چہرہ خود بخود بے نقاب ہو رہا ہے ۔

986
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...