زبان کسی بھی انسان کے دوسرے انسان سے رابطے اور تعلق کا ایک ذریعہ ہے اور ہم زباں ہو نا اس کام کو سہل اور آسان بنا دیتا ہے ۔زبان نہ صرف رابطے کا ذریعہ بلکہ قوموں کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند ایک وسیع و عریض خطہئ ارض ہے اور یہاں مختلف اوقات میں مختلف اقوام مختلف زبانوں کے ساتھ وارد ہوتے رہے۔ شاید زبانیں بھی آپس میں خلط ملط ہوتی رہیں لیکن کسی نئی بڑی زبان کے جنم لینے کے شواہد اردو سے پہلے نہیں ملتے ہیں یعنی ہر زبان اپنی انفرادی حیثیت میں ہی چلتی رہی ۔ جب پہلے پہل مسلمان یہاں آئے تو اپنے ساتھ عربی زبان اور بول چال لے کر آئے جس نے مقامی زبانوں پر اپنے اثرات مرتب کئے پھر افغان ، ترک فارسی اور جو جو فاتح یہاں آتے گئے اور اپنی اپنی زبانیں لائے گئے تھیں تو بذات خود بھی یہ بڑی زبانیں اپنا وجود برقرار رکھتی رہیں لیکن اِن کو سمجھنے والے خود انہی اقوام تک محدود رہے اور دوسری اقوام اور مقامی باشندوں تک اپنی بات پہنچانا ایک عام آدمی کے لیے ممکن نہ تھا اور یوں اپنی اپنی زبان میں ایک دوسرے سے بات کرتے کرتے ایک ایسی زبان وجود میں آگئی جس نے اردو کا نام پایا جو سب کے لیے قابل فہم تھی۔ یہ تو ایک الگ مو ضوع ہے کہ یہ زبان ارتقائی مراحل سے کیسے گزری لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان رابطے کا ایک موثر اور مقبول ترین ذریعہ رہی۔ پاکستان بنا تو اسے پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا اور ایک بار پھر یہ پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری اور مختلف علاقائی زبانیں بولنے والوں کے درمیان رابطے کا فریضہ سرانجام دیتی رہی۔اس کے اندر مختلف زبانیں جذب کرنے کی صلاحیت نے اس کے دامن کو مالامال کیے رکھا اور بہت کم الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں بولے جائیں تومس فٹ محسوس ہوتے ہیں ورنہ تو ہر لفظ اس میں یوں مدغم ہو جاتا ہے جیسے یہ اردو کا ہی ایک لفظ ہو، یوں اردو ایک زیادہ وسیع زبان بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اگر چہ عوامی سطح پر اس سے محبت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ باوجود قومی زبان کا درجہ دینے کے ہم نے سر کاری سطح پر اس سے وہ سلوک نہیں کیا جس کی یہ حقدار ہے۔ منہ زبانی تو ہم اسے قومی اور سرکاری زبان کہتے ہیں لیکن عملا ہم اسے وہ درجہ نہیں دیتے اور جہاں فوقیت اور اہمیت اس کا حق بنتا ہے وہاں بھی اس کو درجہ دوم کی زبان سمجھ کر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے مثلا صدر، وزیراعظم یا کسی بھی دوسری اہم شخصیت کے حلف کو ہی لیجئے اس تقریب اور دستاویز کو ہر پاکستانی کے لیے قابل فہم ہونا چاہیے کیونکہ ایک پی ایچ ڈی پروفیسر، ڈاکٹر ، انجئنیر جنرل ، جج یا گھریلوں خاتون سے لے کر ایک ریڑھی والے سبزی فروش، دیہاڑی کرنے والے مزدور اور ڈرائیور غرض ہر ایک کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جسے اُس نے اپنا حکمران منتخب کیا ہے وہ قسم اٹھا کر قوم سے کیا وعدہ کر رہا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وعدہ ایک ایسی زبان میں کیا جاتا ہے جسے پاکستان کی ایک معمولی سی اقلیت ہی سمجھ سکتی ہے یعنی زبان من ترکی ومن ترکی نہ می دانم۔ جس ملک میں خواندگی کی شرح ہی پچاس فیصد سے کم ہے وہاں انگریزی سمجھنے کی حد تک پڑھے لکھے لوگوں کی کیا تعداد ہوگی اور ویسے بھی ایک قومی فریضے کی ادائیگی کے لیے قومی زبان زیادہ موزوں اور حقدار ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ یہاں قومی دنوں پر انگریزی لباس پہن کر انگریزی زبان بولنے پر نہ صرف فخر محسوس کیا جاتا ہے بلکہ ایک طبقہ ایسانہ کرنے والوں کو جاہل سمجھتا ہے جس کا اکثر اوقات اظہار بھی کر دیا جاتا ہے۔ الیکشن کے دوران پاکستانیت کے بے شمار دعووں کے باوجود بھی وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کو اردو میں منعقد کرنے کی نہ ضرورت محسوس کی گئی نہ جرات کی گئی ۔صرف یہی نہیں بلکہ اکثر اوقات سرکاری تقریبات میں حکومتی شخصیات کو تضحیک کا سامنا بھی کرنا پڑجاتا ہے لیکن پھر بھی اردو کی بجائے انگریزی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ سرکاری اور تعلیمی دونوں سطح پر اردو کو نظر انداز کردینا قابل افسوس ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ انگریزی کو اہمیت نہ دی جائے،اسے بولا نہ جائے یا اسے نصاب تعلیم میں سے خارج کر دیا جائے یا جدید مضامین کو انگریزی میں نہ پڑھایا جائے یا انگریزی سکولوں پر پابندی عائد کر دی جائے ۔اس موضوع پر مختلف مکتبہء ہائے فکر کے مختلف خیالات ہیں وزن دونوں طرف برابرہی ہے اگر ایک طرف قومی زبان کی آسانی ہے تو دوسری طرف بین الاقوامی زبان میں تحقیق کی آسان فہمی ہے اور بین الاقوامی طور پر موثر اور مستند رابطوں کی صحت بھی ہے لیکن آج کسی بھی اچھے یا عام نجی تعلیمی ادارے میں اردو کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے یہ زبان کم از کم اُس ہتک کی بھی سزاوار نہیں میں خود پاکستان کے بہتریں نجی تعلیمی سسٹمز کے اداروں میں پڑھا چکی ہوں اور پڑھا رہی ہوں جہاں انگریزی کو اردو سے کہیں زیادہ پیریڈ دے دئیے جاتے ہیں اور اہمیت بھی اور پھر ہم سوال بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ آج کے بچوں کو اردو کیوں مشکل لگ رہی ہے جبکہ اگر اردو کو بطور مضمون بھی درست طریقے سے پڑھا دیا جائے تو ہمیں اپنے سوال کا جواب مل سکتا ہے ۔ اگر قومی زبان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا جائے تو اسے بین الاقوامی سطح پر بھی وہ اہمیت اور احترام ملنا شروع ہو جائے گا جو دوسری زبانوں کاہے۔ دراصل عزت کی پہلی منزل گھر سے شروع ہوتی ہے لیکن ہم نے اپنی قومی زبان کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ خالص اردو بولنے والے کو اکثرتنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے مثلا ایک بار ایک محفل میں کرسی کہنے پر میری تصحیح یا تنقید کی گئی کہ میں ہمیشہ chair کو کرسی ہی کہتی ہوں جبکہ بولی اُس محفل میں اردو ہی جا رہی تھی اور ناقد خود سب سے کم پڑھی لکھی تھی۔ یہ کہنا بھی کہ انگریزی کو ملک سے ختم کر دیا جائے ایک عمل معکوس ہوگا کیونکہ ہمیں بین الاقوامی طور پر بھی بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے جس کی براہ راست سمجھ جتنے زیادہ پاکستانیوں کو ہوگی اتنا بہتر ہوگا لیکن اردو کی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج ہے کیونکہ زبان قومی وجود کی ضامن ہوتی ہے اور اس کا وجود تب ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے جب ہم اسے خود اہمیت دیں گے اور صرف کتابوں اور کالموں میں نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے مواقع پر بھی۔ پھر اس زبان میں اتنی شیرینی اور فصاحت و بلاغت ضرور ہے کہ سننے والے کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ اِن مواقع پر اردو کا استعمال ایک عام پاکستانی کو یہ احساس بھی دلادیتا ہے کہ اُس کی حکومت اُس کو اپنے قومی معاملات سمجھنے کا حقدار سمجھتی ہے اور اس کی سمجھ اور فہم کے مطابق اُس کو بات بتائی اور سمجھائی جا رہی ہے ۔پاکستان کے معاملات جاننے کا پہلا حق ایک عام پاکستانی کا ہے پھر امریکہ، برطانیہ اور کسی دوسرے انگریزی بولنے والے ملک کا، لہٰذا حکومت اس نکتے کو سمجھنے کی کوشش کرے اور کم از کم قومی معاملات میں اس اہمیت کو برتے بھی۔ یہ رویہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہمیں اور ہماری زبان کو ایک مثبت اہمیت کا حامل بنا دے گا۔

1,855
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...