پاکستان حالت جنگ میں ہے یہ جنگ خود ہمارے حکمرانوں کی منتخب کردہ ہے جو اسے بڑے زور و شور سے اپنی جنگ قرار دیتے رہے اور آخر کار اسے اپنا لیا۔ یہ جنگ ہم گزشتہ ایک دہائی سے لڑ رہے ہیں اور مسلسل جانوں کی قربانیاں دی جارہی ہیں شہری آبادی بھی اور فوجی بھی سب جنگ کی نذر ہورہے ہیں ۔ لیکن یہ تو صرف ایک محاذ ہے۔ دشمن طاقتیں کئی محاذوں پر برسرپیکار ہیں اُس نے پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی بھرپور کوشش کی اگر چہ وقتی طور پر کامیاب بھی ہوا لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہ مذہبی خانہ جنگی نہ چھیڑ سکا ۔ کرپشن کو اُس نے یوں پھیلا یا کہ ہمارا ہر راشی جرم کرکے مغربی ممالک میں پناہ لے لیتا ہے ۔اِن طاقتوں نے امریکی چھتری تلے دہشت گردوں کی ہر قسم کی مدد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اِن ساری جنگوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی جنگ بھی زور وشور سے لڑی گئی اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے بھی پاکستان پر دبائو ڈالا گیا۔ آئی ایم ایف کے جال میں پاکستان کو جکڑا گیا اور یوں حکومت اس کی خواہشات کے عین مطابق ٹیکسز اور مہنگائی سے عوام کی کمر توڑنے میں مصروف اور مجبور ہے۔ ان تمام حملوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی حملہ بھی ایک زور دار حملہ ہے جو مسلسل جاری ہے اور ہم سب جانے انجانے میں خود ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اب جو ایک حملہ پاکستان پر کیا گیا ہے وہ امریکی سفارت خانے میں منعقدہ ایک مکروہ تقریب تھی جس میں امرد یا ہم جنس پسندوں کو مدعو کیا گیا اور اُن کو یقین دلا یا گیا کہ واشنگٹن پاکستان میں ان کے حقوق کی حفا ظت کرے گا۔ عمل قوم لوط جس پر حضرت لوط(ع) کی قوم کو شدید عذاب کے ذریعے تباہ کیا گیا کی نہ صرف اسلام اور آسمانی مذاہب بلکہ دیگر مذاہب بھی اسکی شدید مذمت کرتے ہیں اور مہذب معاشروں میں یہ ہمیشہ ایک قابل نفرت فعل اور قابل سزا جرم رہا ہے اور اسلام تو ہر بے حیائی کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ وہ جنسِ مخالف سے بھی نکاح کے رشتے کے بغیر کسی بھی ایسے تعلق کوناجائز اور قابل سزا سمجھتا ہے اور بعینیہ یہی حکم تورات نے دیا جس کو اسلام نے منسوخ نہیں کیا، بلکہ رجم کا ذکر قرآن میں نہیں ہے لیکن چونکہ تورات کے اس حکم کی تنسیخ بھی نہیں ہے لہٰذا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قائم رکھا اور عمل لواطت تو قابل سزا سے بھی آگے بڑھ کر قابل عذاب ہے ۔ مغرب کو تو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا ہی ہے لیکن امریکہ نے اب اس خطرناک ہتھیار کو استعمال کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے اوراس مکروہ فعل کو پاکستان میں کھلے عام کیا ہے اور اس گناہ میں مبتلا لوگوں کو مدد کی یقین دہانی کر وائی ہے۔ اس پر اگرچہ دفترخارجہ نے امریکی سفارت خانے کو تنبیہہ اور احتجاج ریکارڈ کروایا ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ یا کوئی دوسرا بے راہرو ملک چاہے اپنے سفارت خانے یا اپنے عملے کے کسی فرد کے گھر میں بھی ہو ایسی جسارت نہیں کرے گا اور اس تقریب کے کسی مقامی شریک کو اگر ہو؟ سزا ضرور دینی چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں اس مکروہ فعل کے مرتکب افراد نہیں ہونگے لیکن یوں سرعام انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہماری زمین پر ہمارے مذہب اور ہماری روایات دونوں کی تو ہین ہے۔ 26 جو ن کو امریکی سفارت خانے نے (GLIFAA) جوان قبیح لوگوں کی تنظیم ہے اور امور خارجہ میں موجود ان لوگوں کے لیے کام کرتی ہے نے اس تقریب کا اہتمام بلا وجہ نہیں کیا بلکہ اِس کا مقصد ہمارے معاشرے پر ایک ایسا وار ہے جو ہماری تباہی پر مہر ہو۔

امریکہ نے اپنے مذموم عزائم اور دجالی شکنجے میں ہر طرح سے ہمارے معاشرے کو جکڑنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی۔ جیسا کہ مضمون کے شروع میں ذکر کیا گیا اُس نے ہم پر ہر حربہ آزمایا لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب تک ہم اپنی بقا کی جنگ میں کامیاب رہے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کو غالب کر کے رہے گا لیکن اس غلبے کے لیے وہ یقینا انسان کی ہمت کو آزماتا ہے۔ اُس نے حق کی فتح کے لیے ہی گھوڑے تیار اور صفیں درست رکھنے کا حکم دیاہے اور اس فتح کے وعدے کے باوجود احتیاط اور تدبیر کو ضروری قراردیا ہے۔ ورنہ احد کے میدان میں حاصل شدہ فتح کو درّے پر متعین تیر اندازوں کی بے تدبیری سے آزمائش میں نہ بدلتا اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑے پر باوجود کثرت تعداد کے حنین کے میدان میں مسلمانوں کو عارضی سہی ہز یمت سے نہ آزماتا۔ اس لیے یہ سوچنا کہ یہ ایک محدود فعل تھا جو کیا گیا اور پاکستانی احتجاج کے بعد دوبارہ ایسا نہیں ہوگا ایک غلط فہمی ہے امریکہ ہر طریقہ ،ہر چال ہم پر آزمارہا ہے اس کا مقصد ہمیں ہر طرح سے تباہ کرنا ہے اور اسی لیے وہ مختلف Strategies اپنا رہا ہے، جہاں ہر دوسرا حربہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہے اور اس حالیہ حربے کو کم از کم میں ذاتی طور پر گزشتہ تمام حملوں سے زیادہ خطرناک قرار دیتی ہوں کہ اس فعل نے تاریخ میں بہت سی عظیم الشان سلطنتوں کے حلیئے بگا ڑے ہیں۔ حضرت لوط(ع) کی قوم تو صرف ایک مثال ہے۔ حکومت پاکستان اگر چہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکی ہے لیکن اب امریکی سفارت خانے پر مزید کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ہمارے معاشرے پر جس زوروشور سے ثقافتی حملہ جاری ہے اُس نے اسکے خدوخال کو پہلے بھی کچھ زیادہ محفوظ نہیں چھوڑا ہے۔ ہمارے کیبل آپریٹرز پیمرا کی اجازت سے ہر فحش انگریزی اور بھارتی چینل دکھا رہا ہے اور ہمارا نا خواندہ ، کم تعلیمیافتہ اور ماڈرن کہلانے والا،غرض ہر طبقہ بڑی حد تک اسکے اثرات قبول کر رہا ہے۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور صرف ملکی اور قومی مفاد میں کریں۔ اگر ہم دیدہ دل واکر لیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم مسلسل قدرتی ﴿سیلاب ،زلزلے، طوفان وغیرہ﴾ اور انسانی ﴿دہشت گردی، مذہبی منافرت،ا قتصادی بدحالی ﴾ عذابوں سے گزر رہے ہیں۔ اب ہمارے پاس نہ تو کسی کوتاہی کی گنجائش ہے اور نہ کوئی اور عذاب سہنے کی ہمت ،اس لیے سخت سے سخت ترین رد عمل پابندی اور حکمت عملی کی ضرورت ہے اور اس رجحان اور اس کے پھیلانے کی کوشش کرنے والے ہر دو کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا یہی ہمارے رب کا حکم بھی ہے اور ہماری بقا کی ضمانت بھی۔

1,586
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...