سال2008 اگرچہ پاکستان کی تاریخ میں ایک خوشگوار تبدیلی لیکر طلوع ہوا اور عام انتخابات کے نتیجے میں قوم ایک بار پھر جمہوریت کی راہ پر چل پڑی .’’صد شکر پھر سے گرم سفر اپنا کارواں‘‘. اﷲ کرے اب کے یہ قوم اپنے رہنمائوں کو سیدھے راستے پر رکھنے میں کامیاب رہے اور انہیں پٹری سے اترنے نہ دیں. جمہوریت کی گاڑی رواں دواں رہے اور پاکستان محبت کرنے والے لوگوں کا دیس دنیا بھر میں امن اور محبت کا نشان بن جائے اور بنا رہے۔
یہ دعا مانگتے ہوئے دل میں درد کی ایک لہرسی اٹھ جاتی ہے اور اس سال کو خوشگوار تبدیلی کا سال قرار دیتے ہوئے وہ بے شمار قیمتی زندگیاں نظروں کے سامنے آجاتی ہیں جو دہشت گردی کی نظر ہوئیں خاک وخوں میں ملیں اور فنا ہوگئیں. دہشت گردی کی اس لہر نے قوم سے خوشیاں منانے کا ڈھنگ بھی چھین لیا ہے. الیکشن والے دن بھی ہر ایک سراسیمہ اور ہراساں تھا کہ خدانخواستہ پھر خون کی کوئی ہولی نہ کھیلی جائے اور اس دن کے سکون سے گذرجانے پر عوام نے سکون کا سانس لیا. لیکن سکون کا سانس لینا تو اب ایک نرالا انہونا سا کام لگتا ہے. دھماکوں بلکہ خودکش دھماکوں نے ہر شخص ہر شہری کا سکون چھین لیا ہے. گھر سے باہر قدم نکالتے ہوئے سوبار سوچنا پڑتا ہے. زندہ رہنے کے لیے ضروریات بازار سے ہی دستیاب ہیں لیکن بازار محفوظ نہیں. سڑکوں پر ٹریفک کے اشارے ٹریفک کو منظم اور مرتب رکھنے کے لیے نصب ہیں لیکن کسی اشارے پر رکیں تو دل کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ خدانخواستہ ابھی کوئی خودکش آکر اپنے آپ کو کسی گاڑی سے ٹکرادے گا. قانون کی مدد تھانوں پر ہی میسر ہے لیکن وہ انتہائی غیر محفوظ ہو چکے ہیں. فوج جو ملکی سرحدوں کی محافظ ہے خود حملوں کی زد میں ہے. عدالتیں انصاف کی بہم رساں ہیں لیکن دھماکوں کی وجہ سے عوام وہاں کا رخ کرتے ہوئے خوفزدہ ہیں اور تواور جرگے اور جنازے جیسے اجتماعات میں خودکش دھماکے کیے گئے. نماز جنازہ جو مسلمان معاشرے کا اہم رکن ہے اور اس موقع پر ہر شخص اپنے دل میں خوف خدا محسوس کرتا ہے. سخت دل خودکش حملہ آور وہاں بھی اپنی کاروائی سے باز نہ آئے. جرگہ جیسے پر امن اجتماع کو جہاں دشمن بھی پرامن رہنے کے پابند ہوتے ہیں کو بھی نشانہ بنایا گیا. غرض کوئی جگہ محفوظ نہیں اور پورا ملک پریشان ہے چھوٹے بڑے تمام شہر اِن حملہ آوروں کی زد میں ہیں۔

اگرچہ کئی لوگ Êن حملوں کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرنے پر حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مجبور ہوئے ہیں. یہ بات درست بھی ہے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ نے ہمیں ان حالات تک پہنچایا. حکومت کی غلط
پالیسیوںنے واقعتا لوگوں کو شدید مخالفت پر مجبور کیا لیکن حکومت کی مخالفت میں اﷲ کی رسی کو ہاتھ سے چھوڑدینا کسی طور پر بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا . خودکشی اسلام میں حرام ہے اور ہر مسلمان کی جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے. جان کے بدلے جان اور ملک میں فساد کرنے کے علاوہ اﷲ نے ایک شخص کی قتل کرنے والے کو پوری انسانیت کا قاتل قرار دیا ہے. یہ حکم ہر ایک کے لیے ہے ۔
میں نے اپنے پچھلے مضمون میں خودکشی کی اسلام میں حرمت اور اس کی سخت سزا کے بارے میں لکھا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ عوام کو اس بارے میں ایجوکیٹ کرنے میں علمائ اور میڈیا اپنا کردار ادا کریں. دراصل خودکشی ایک ایسا قبیح فعل ہے کہ ایسا کرنے والے کو نہ تو خدا معاف کرتا ہے اور نہ ہی کسی بھی معاشرے میں انہیں باعزت سمجھا جاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں تو خاص کر ایسا کرنے والے کی موت کو باعزت موت سمجھنے کا تصور بھی نہیں ہے اور یہ شدید رویہ صرف اور صرف ہمارے مذہب کی تعلیمات کی وجہ سے ہے. اگر چہ عوام میں یہ رویہ پہلے بھی شدت کے ساتھ موجود ہے لیکن اس کو مزید ابھارنے میں حکومت اور معاشرے کے ہر طبقے کو انتہائی محنت کرنا ہوگی۔

یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی اور وزارت خارجہ کے ترجمان، وزارت داخلہ اور دیگر حکومتی عہدہ دار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ Êن حالات کے پیدا کرنے میں بھارت اور امریکہ ملوث ہیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اس گھنائونے اور مذموم فعل کے لیے ًکارکنان ً انہیں پاکستان سے ہی میسر ہیں اور مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف بڑے سکون سے استعمال کیا جا رہا ہے. یوں ہمیں ان حملوں کو رکوانے کے لیے دونوں طرف لڑنا ہوگا اور ا س ’’جہاد‘‘ میں حکومت، علمائ اور عوام سب کو شامل ہونا پڑے گا تا کہ ملک میں عام آدمی چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا تاجر یا مزدور سب کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے. یہ جہاد بھی دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خلاف ہو لیکن اس میں کسی کا خون بہے نہ زخم آئے. حکومت اس سلسلے میں خلوص دل سے اپنے وسائل بروئے کار لائے اور موجودہ اور آنے والی حکومت دونوں تمام نمایاں مقامات پر ہلاکت فساد اور خودکشی کے بارے میں بالخصوص اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں بالعموم نمایاں قسم کے بورڈ لگائے ٹریفک سگنل پر ان آیات و احادیث کیScroll چلائے جا سکتے ہیں. سکولز اور کالجز میں خصوصی لیکچرز کے ذریعے بچوں کے شعور کو اجاگر کیا جا سکتا ہے خاص کر قبائلی علاقوں کے سکولوں میں ایسا کیا جائے تاکہ پاکستان کا یہ بازوئے شمشیرزن پاکستان کے خلاف نہیں اس کے حق میں اٹھتا رہے اور افغانستان میں قائم غیر ملکی تربیتی مراکز کی ان تک پہنچ سے پہلے ہی اسلام کی صحیح روح سے انہیں آشنا کیا جائے جہاد کے تصور کو قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق اور مکمل سیاق وسباق کے ساتھ سکولوں میں پڑھایاجائے اسے خارج از نصاب نہ کیا جائے ورنہ رد عمل مزید سخت ہوسکتا ہے۔
حکومت کے ساتھ بلکہ سب سے زیادہ اہم کردار علمائ کا ہے جو اس منفی رجحان کو روکنے میں انتہائی مددگار ہوگا اگر علمائ اپنے ہر اجتماع میں چاہے وہ سیاسی ہو، عوامی ہو یا مذہبی ہر موقع پر اُن تعلیمات کو عام کریں جو اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بارے میں ہیں. علمائ کو اس کام کو مشن سمجھ کر کرنا ہے. مدارس یقیناً علمائ کے اثر کو شدت سے قبول کرتے ہیں.

علمائ مدرسین کو اس کام کے لیے آمادہ کریں کہ وہ خودکشی کے قبیح فعل کے بارے قرآن و حدیث کی تعلیمات اپنے طلبائ تک پہنچائیں انہیں اپنی اور دوسرے انسانوں کی زندگی کی حرمت کے بارے میں آگاہ کریں. بچے کسی بھی بات کا اثر بہت جلد قبول کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خودکش حملوں کے لیے اکثر کم عمر نوجوان کو استعمال کیا جاتا ہے. ان نوجوانوں کو جس سانچے میں دھالا جائے یہ ڈھل جاتے ہیں اس لیے ان کے غلط ہاتھوںمیں جانے سے پہلے انہیں صراط مستقیم دکھائی جائے تو اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں. مدارس کے ساتھ ساتھ مساجد میں بھی اس رجحان کے خلاف کام کیا جا سکتا ہے ظاہر ہے کہ مساجد کی ہمارے معاشرے میں بہت اہمیت ہے اور یہ تعلیم کے لیے ہمیشہ ہی موثر طور پر استعمال ہوتی ہیں. مولوی اور پیش امام حضرات ایک دونمازوں کے بعدضرور خودکشی کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مذمت کریں ساتھ ہی ساتھ خطیب حضرات نماز جمعہ کے خطبے میں مسجد کے موثر ترین فورم کو اس حرام فعل کے خلاف استعمال کریں اور اپنے خطبوں میں اسے شامل کرتے رہیں۔
ایک اور اہم بلکہ موثر ترین ذریعہ اِن حملوں سے بچائو میں میڈیا کا کردار ہے. آج کی دنیا میں میڈیا وہ طاقتور ترین ذریعہ ہے جو اگر دوستوں کے حق میں استعمال ہو تو ان کی طاقت کا باعث بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر دشمنوں کے خلاف استعمال ہو تو ان کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے. پاکستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج کا کریڈٹ بھی زیادہ تر میڈیا کو دیا گیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نا صرف اِن نتائج میں میڈیا نے اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ دیگر کئی ایشوز پر میڈیا کا کردار نمایاں ترین رہا.اسی لیے میڈیا سے بھی یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ ملک میں خودکش حملوں کے خلاف بھی اپنا کردار چابکدستی سے ادا کرے. لیکن اس حقیقت کا افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ میڈیا دھماکے کی خبر دینے میں توجلدی کرتا ہے اور چند منٹ کے اندر خبر پورے ملک میں پھیل جاتی ہے اور ہر چینل اسے اپنا اعزاز قرار دیتا ہے کہ اُس نے سب سے پہلے یہ خبر نشرکی لیکن ان دھماکوں کے خلاف کوئی مہم میڈیا پر نظر نہیں آتی. جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکٹرانک میڈیاخصوصاً نیوز چینلز ہر گھنٹے دو گھنٹے میں چندمنٹ بعد خودکشی اور قتل کے بارے میں کوئی آیت کوئی حدیث نشرکرے اپنی روزانہ کی نشریات میں کچھ وقت اس مذموم فعل کی مذمت کے بارے میں کسی عالم دین اور کسی رہنما کے خیالات نشر کرکے دے مذاکرے منعقد
کرے اپنے مقبول پروگراموں میں مہمان بلائے جو اس فعل کی مذمت کریں اور یہ سب کچھ دین کے حوالے سے کیا جائے کیونکہ خودکش دھماکے کرنے والوں کو دین کے نام پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹی وی چینلز کے ساتھ ایف ایم بھی اپنا کردار ادا کرے کیونکہ دوردراز کے علاقوں میں یہ ایک پسندیدہ ذریعہ ابلاغ ہے. اخبارات اور تمام پرنٹ میڈیا کچھ جگہ برائے خدا وقف کرکے خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات شائع کریں اور بار بار شائع کریں.
ایک اور اہم ذریعہ موبائل فون ہوسکتے ہیں شاید بہت سے لوگ اسے خاص توجہ نہ دیں لیکن میری نظر میں یہ بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ آج کل ہر شخص کے پاس اور ہر گھر میں موبائل موجود ہے. بڑے سیاستدان، بزنس مین، بیوروکریٹ سے لیکر تانگے بان، ریڑھی فروش اور مزدور تک موبائل استعمال کرتے ہیں. موبائل کمپنیز اپنے کسٹمرز کو مختلف پیغامات بھیجتی رہتی ہیں انہی میں خودکشی اور قتل اور انسانی زندگی کی حرمت کے بارے میں پیغامات کو شامل کرے اور یہ پیغامات زیادہ تر اردو میں ہوں تاکہ عام لوگ انہیں پڑہ سکیں اور اﷲ کے احکامات سے آگاہ ہو سکیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ملک سے فساد کو دور کرنے کے لیے خلوص دل سے اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور ہم میں سے ہر شخص کو خود کو حالات کے سدھارنے کا ذمہ دار سمجھنا ہوگاکیونکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اگر قوم کے افراد چاہیں کہ پوری قوم کی حالت بدل جائے تو ہی ایسا ممکن ہے ورنہ اگر ہم انتظار میں بیٹھ جائیںکہ ہماری مدد کوئی اور کرے گا تو ہم کبھی اپنی حالت بدلی ہوئی نہ پائیں گے کیونکہ جو قومیں اپنی تقدیر دوسروں کے حوالے کردیتی ہیں وہ رحمت خداوندی سے محروم ہوجاتی ہیں. اس لیے یقین کیجیے کہ ہم نے اپنی حالت خود بدلنی ہے پاکستان اسلام کے نام پر قائم رہنے کے لئے بنا تھا اور اسے قائم رہنا ہے ہمیں اس یقین کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ہے اور خدا پر یقین رکھنا ہے کہ وہ ہماری محنت سے ہماری حالت بدل دے گا اور یہ بھی یقین پیدا کرنا ہے اور کروانا ہے کہ ہمارے مسائل کا حل خودکشی نہیں اپنی اور دوسرے کی جان کی حفاظت ہے۔

1,751
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...