پاکستان علاقے کے نہیں دنیا کے اہم ترین ممالک میں شامل ہوتا ہے اب اسے ہماری خوش قسمتی کہئے یا خدانخواستہ بدقسمتی ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم اس اہمیت کا فائدہ اٹھاتے، دنیا کو اس کا احساس دلاتے اور مزید آگے بڑھ کر اس کی قیمت بھی وصول کی جا سکتی تھی لیکن ہوا یہ کہ ہم نے ہمیشہ اس اہمیت کی بھاری قیمت چکائی ہے۔عالمی طاقتوں نے علاقے کو اپنی آماجگاہ بنائے رکھا ہم کبھی ایک کے حلیف اور کبھی دوسرے کے حریف بنتے رہے۔ معلوم نہیں اس میں مفاد کس کا تھا لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جو نقصان قوم کا ہوا وہ ناقابل تلافی ہے۔ امریکہ کے حلیف بننے کے لئے آخری بار جو بھونڈی توجیہہ پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ہمیں پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جاتا۔ لیکن ہوا یہ کہ ہم نے مدد بھی کی اور پتھر کے زمانے میں بھی دھکیلا گیا۔ دہشت گردی کے طوفان نے جس طرح ہمیں اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور جتنا جانی و مالی نقصان اس معاملے میں پاکستان کا ہوا ہے کسی اور ملک کا نہیں ۔ہمارے ادارے تباہ حالی تک پہنچ چکے ہیں کیونکہ حکومت کی تو ساری توجہ اس جنگ پر مرکوز ہے وہ اداروں کے معاملات کو کیسے دیکھے۔ تعلیمی ادارے آئے روز بند ہوتے ہیں دفاتر میں خوف و ہراس کے باعث کارکردگی ناقص اور حاضری کم ہے۔ کاروبار کئی کئی دن ٹھپ ہوتا ہے غریب کو جب دو وقت کھانے کو نہیں ملے گا تو وہ طالبان کی نوکری کرنے پر ہی مجبور ہوگا۔ حکومت ہے کہ کبھی down sizing اور کبھی right sizing کے نام پر مزید بے روزگاری پیدا کر رہی ہے غرض بے چینی اور بد امنی نے ہمیں واقعی پتھر کے زمانے کے قریب کر دیا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ یہ جنگ لڑے جا رہے ہیں اور اسے اپنی جنگ بھی قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ میں جب کسی مصلحت سے بالاتر ہوکر سوچوں تو یہ مجھے اپنی جنگ نہیں لگ رہی۔ لیکن ہم اس کا ایندھن بھی بنے ہوئے ہیں اور اس کو جھونکنے والے بھی۔

دراصل پاکستانی قوم کے اعصاب کو مفلوج کر دیا گیا ہے ان کے امن و امان کو اس طرح تہس نہس کر دیا گیا کہ وہ سکون سے نہ سوچ سکیں نہ عمل کر سکیں۔ اس سارے کام میں دشمنوں کو کوئی دشواری بھی پیش نہ آئی کیونکہ ان کو ان کے مطلب کے کارکن اور لیڈر یہیں سے میسر آگئے۔ اور
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

اس جنگ کی آگ تو اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے لیکن اس کو جس منصوبہ بندی سے پھیلا گیا ہے کاش ہم اس کا توڑ کرنے کی کوشش کرتے۔ جن لوگوں کو طالبان دس ہزار تنخواہ دے رہے ہیں حکومت ان کو چار چھ ہزار پر بھی ملازمت نہیں دے رہی۔ امریکہ ہم سے مطالبہ تو do more کا کر رہا ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اصرار بھی مسلسل ہے لیکن وہ خود کتنا کر رہا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہی کافی ہے امریکہ کے اعلان کے مطابق وہ اس سال عراق اور افغانستان میں 83 ارب ڈالر خرچ کرے گا لیکن اس میں پاکستان کا حصہ 1.5 یعنی ڈیڑھ ارب ڈالر ہوگا۔اور وہ بھی زیادہ تر القائدہ کے خاتمے کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔ یعنی پاکستان کے لوگ غربت میںپستے رہیں گے اور امریکی مقاصد کے لئے دہشت گردی کی نظر ہوتے رہیں گے۔ ہاں طالبان کی امداد مسلسل جاری رہے گی کیونکہ ظاہر ہے جہاں عام لوگ دو لقموں کو ترستے ہیں وہی طالبان اپنے جنگجوؤں پر کھلا خرچ کر رہے ہیں۔اور وہ کبھی تنگی معاش کا رونا روتے نظر نہ آئے۔ آخر ان کم ترقی یافتہ بلکہ غیر ترقی یافتہ علاقوں میں دولت کی یہ ریل پیل کہاں سے آئی باقی کا سارا ملک بھوک، افلاس اور بے روزگاری کی آگ میں جل رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے غیر ملکی پیسہ یہاں پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اور الزام بڑے آرام سے آئی ایس آئی اور افواج پاکستان کے سر تھوپہ جا رہا ہے۔ امریکہ بہادر مسلسل اپنی فرمائشیں جاری رکھے ہوئے ہے اوباما نے بھی بش ہی کی باتیں دوسرے الفاظ میں دہرائیں۔ جبکہ خود اس کی توقعات حد سے بڑھ کر ہیں۔ امریکہ کا بار بار یہ اصرار کہ القائدہ کے تمام لیڈر پاکستان میں ہیں اسامہ کو تو پورا پاکستان گھمایا گیا۔القائدہ! یہ تو صرف ایک بہانہ ہے ورنہ امریکہ دراصل جس القائدہ کی تلاش میں ہے اس کا نام پاکستان کے” ایٹمی اثاثہ جات “ہیں جس کا دہشت گردوں کے ہاتھوں لگنے کا ایک لایعنی سا پروپیگنڈا اس قدر زور و شور سے کیا گیا کہ دہشت گردوں کا کوئی بھی ساتھی فی الحال اس سوچ تک نہ پہنچا ہو تو وہ بھی اس کے لئے منصوبہ بندی شروع کرسکے۔اب امریکہ مسلسل اس کوشش میں ہے کہ اُسے پاکستان میں داخل ہونے کا کوئی بہانہ مل سکے وہ جانتا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ یہی ایٹمی ہتھیار اسی کے آڑے آرہے ہیں جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ملک دنیا کے اہم ترین خطے میں اہم ترین مقام پر واقع ہے تو پھر ہم اس کا فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں اﷲ نے بیش قیمت قدرتی وسائل اور بے تحاشہ افرادی قوت سے نوازا ہے لیکن بات وہی کہ خدا بھی اُن ہی قوموں کی حالت بدلتا ہے جو خود اپنی حالت بدلتے ہیں۔ ہمیں اپنے وسائل سے کام لینا ہوگا اس کے لئے جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا بجائے دوسروں کے دست نگر ہونے کے اپنے دست و بازو پر بھروسہ کرنا ہوگا اور یہ ایمان رکھنا ہوگا کہ اگر آج کدال چلانا شروع کریں گے تو آخر ایک نہ ایک دن پہاڑ کٹ جائے گا اور سورج کی کرنیں ہم تک پہنچ جائیں گی لیکن اس کے لئے ہمت کی ضرورت ہے عوام سے لیکر حکمران تک ہر ایک کی ہمت کی ضرورت۔

ہم ایک خودار قوم ہیں لیکن اس کا ثبوت دینے کے لئے زندہ رہنے کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔ امریکہ نہ خدا ہے نہ رازق نہ نگہبان پھر اُس سے اس قدر خوف کیوں مگر ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کو حالات کا ذمہ دار سمجھتا ہے ذمہ داری ہم سب کی ہے اور سب کو اس کی ذمہ داری لینی ہے۔ ہاں حکومت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے کہ وہ حالات کا کس طرح مقابلہ کرتی ہے میڈیا کو اس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا ہوگا اور اپنے کردار میں ایک مثبت تبدیلی لانی ہوگی صرف سیاستدانوں کو لڑوا کر اپنے پروگرامز کو مقبول بنانا ہی مقصد نہ ہونا چاہیئے۔روزگار کے مواقع بڑھانا ہونگے تاکہ بے روزگار نوجوان طالبان کی “فوج”میں بھرتی نہ ہوں بلکہ پاکستان کی سلامتی کے لئے کام کریں اور سب سے بڑھ کر اسلام کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنا ہوگا۔اسلام کو صرف عبادات کی حد تک محدود نہیں کرنا ہوگا بلکہ عبادات کے ساتھ ساتھ اعمال پر بھی زور دینا ہوگا۔

اپنے ذہن سے احساس کمتری نکالنی ہوگی، توانائیاں مثبت انداز میں بروئے کار لانا ہونگی اور ملک کے اندر اعتماد کی فضا قائم کرنا ہوگی۔ہمارے قبائلی ہمیشہ وطن کی حفاظت کی خاطر سروں پر کفن باندھ کر لڑے ہے ہیں اور ہمیں طالبان، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد میں تفریق کرنا ہوگی اور اداروں کی عزت کو بحال کرنا ہوگا خاص کر افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے بارے غیر ملکی منفی پروپیگنڈے کا توڑ حکومتی سطح پر ڈٹ کر اور بھرپور انداز میں کرنا ہوگا۔ یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہر ایرا غیرا امریکی عہدہ دار اور اخبار پاکستان کے ان قابل فخر اداروں پر کیچڑ اچھالے اگر دیکھا جائے تو اس طرح سے پاکستان کی کمر ہمت کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور عوام میں بھی منفی سوچ پیدا کی جارہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر قومی ادارے کو توقیر دی جائے اور میرے خیال میں فوج کو اس میں سرفہرست ہونا چاہیئے کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ افواج پاکستان ہی ملکی سلامتی اور بقا کی ضامن ہیں اگر یہ کمزور ہوجائیں تو ہماری سرحدوں پر اور سرحدوں سے دور تمام دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجائیں گے ان کے بُرے ارادوں کے سامنے یہی فوج اور اس کا خوف ہی ہماری حفاظت ہے۔

پاکستان بلاشبہ عطیہ خداوندی ہے جو اس کے نام پر حاصل کیا گیا لیکن اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں اس ذمہ داری کو ہر صورت اور بہر قیمت پورا کرنا ہے۔

1,854
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...