عالم اسلام اس وقت مختلف قسم کے فتنوں میں مبتلا ہے کہیں خانہ جنگی ہے کہیں غیروں کی برپا کردہ شورشیں ہیں اگر اللہ پاک کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال نہ ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ہمیں کسی ایسی تباہی سے دوچار کرتا جس تباہی سے اُس نے قوم عاد و ثمود کو دو چار کیا تھا۔ شکر ہے اُس رب کا جس نے ہمیں بہترین اُمت قرار دیا اور ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت بنایا اور اس امت نے صدیوں تک خود کو جہانبانی کا حقدار ثابت کیا۔ لیکن آپس کے اختلافات نے اس امت کو شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ سے لے کر اب تک تکلیف میں مبتلائ کیے رکھا ہے۔ آج کی دنیا میں تو اسلام کے خلاف ایک ایسی صف بندی کی گئی ہے جس میں مسلمان کو مسلمان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور دکھ اس بات کا ہے کہ یہ آلہ کار اِن دشمن قوتوں کو بڑی آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان دنوں عرب دنیا بھی اسی یلغار کی زد میں ہے اور شام میں گزشتہ دنوں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک صحابی حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کو کھود ڈالا گیا اور ا ن کے جسم مبارک کو اُس میں سے نکال لیا گیا۔ حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جن کو کچھ مورخین نے تابعی بھی لکھا ہے کے زاہد و عابد ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے بلکہ ہر طبقہئ فکر کے علما و محققین نے ان کی پرہیز گاری اور پاکبازی اور زہد و تقویٰ کا اعتراف کیا ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اُن کی شہادت کن حالات میں ہوئی ،وجوہات درست تھیں یا نہیں کیونکہ میرے لیے ہر ایسی ہستی قابل احترام ہے جن کو میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوستی کی نسبت رہی ہوکیوں خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے بہترین کون ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا مفہوم یہ تھا کہ میرے زمانے کے لوگ پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد آنے والے۔۔۔۔ یو ں یہ تمام لوگ تمام اُمتِ مسلمہ کے لیے محترم ترین ہیں پھر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہ قبیح فعل کیا، کیا وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں حالانکہ ہم سب عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعویٰ کرتے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تنبیہ کی تھی اور ترمذی شریف میں مروی ہے ’’اللہ سے ڈرو‘ اللہ سے ڈرو، میرے بعد میرے صحابہ کو تنقید کا نشانہ مت بناو، جس نے اُن سے محبت رکھی اُس نے مجھ سے محبت رکھنے کی وجہ سے اُن سے محبت رکھی۔ جس نے اُن سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا جس نے اُن کو ایذادی ، اُس نے مجھ کو ایذادی جس نے مجھ کو ایذادی اُس نے اللہ کو ایذادی اور جس نے اللہ کو ایذا پہنچائی تو عنقریب ہے کہ اللہ اُس کو پکڑلے ‘‘ پھر آج جب ہم خود دراصل ایمان سے دور ہیں یہ اور بات ہے کہ ہم صرف اور صرف خود کو اور اپنے مکتبہ فکر کو مسلمان سمجھتے ہیں کیسے ہمارے مونہوں سے ان عظیم ہستیوں کے بارے میں نازیبا الفاظ نکل جاتے ہیں اور کیسے کسی ہاتھ نے اتنی ہمت کرلی کہ ایک صحابی کی قبر کھود ڈالی ۔ مسلمانی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اِن ہستیوں کا نام بھی بے ادبی سے نہ لیا جائے بلکہ ان کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ کر اِن کا حق ادا کیا جائے کہ یہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ادا کرتے ہوئے کفار سے جنگیں کیں ۔ارتداد کے فتنے کے خلاف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نہ اٹھ کھڑے ہوتے تو اسلام کو کون بچاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ہدایت نہ کرتے تویہ بکھرے ہوئے لوگ ایک بار پھر، پھر کراپنے اپنے قبلہ و کعبہ پر پہنچ جاتے اور ان کے بعد ہر صحابی رسول نے حق کو سچ اور باطل کو جھوٹ کہنے کا اپنا فرض جاری رکھا۔ ان میں اختلافات بھی ہوئے کیونکہ وہ بھی انسان تھے لیکن یہ اختلافات اپنی ذات کے لیے نہ تھے اور میں اور آپ جیسے مسلمانوں کو یہ حق ہر گز نہیں پہنچتا کہ ہم اُن عظیم ہستیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر کریں کجا کہ اُنکے بارے میں کوئی نازیبا لفظ منہ سے نکالیں ۔ یہ فرقہ واریت مفاد پرستوں کی پیدا کردہ ہے ورنہ کہاں جنگ جمل میں یا اُس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دوسرے کے بارے میں ہرزہ سرائی کی بلکہ جس عزت و احترام کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تکریم کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں ایک طرف گلوبل ویلج کا نعرہ لگا کر ہم غیروں کی ثقافت، معاشرت اور معیشت کے اصول اپنانے پر تلے ہوئے ہیں خود ہمارے درمیان فرقہ واریت کو ہوا آخر کون دے رہا ہے ہر اسلامی ملک میں کوئی نہ کوئی فتنہ کیوں اٹھا یا جا رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ جو بظاہر تو خود اپنے مذہب سے آزاد ہو چکے ہیں کم از کم ان کی اخلاقیات و معاشرہ اس سے مبرائ ہی نظر آتا ہے وہ مسلمانوں کو بھی دین کے بند سے آزاد کرنا چاہ رہے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں جب تک دین کی یہ رسی ہے ان کو زیر کرنا مشکل ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ خود اپنے دین کے کسی مسئلے کے بارے میں دورائے نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں کے بیچ ایسے مسائل کو شہ سرخی بنا کر اپنے اخبارات اور میڈیا کی زینت بنا دیتے ہیں اور دوسرے فرقے کو کچھ اس طرح اُکسا دیا جاتا ہے کہ وہ لوگ ننگی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ، مسئلہ فرقوں کا نہیں مسئلہ ان عناصر کا ہے جو اس فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں ۔ حضرت حجربن عدی رضی اللہ عنہ یا کوئی بھی صحابی اس فرقہ واریت سے بہت بلند ترہیں جو اسلامی دنیا میں پھیلائی جارہی ہے ، اور ایسے عناصر سے سختی سے نمٹنا بھی چاہیے اور خاص کرعالمِ اسلام کے علمائے کرام کو عام لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا نہ کہ خود کسی ایک کے بارے میں مثبت اور دوسرے کے بارے میں منفی رویہ رکھنا ہوگا ۔ اللہ کے اِن نیک بندوں کے بارے میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اِن سے راضی ہیں سورہ توبہ میں ارشاد باری ہے ’’اور جو مہاجرین و انصار ﴿ایمان لانے میں سب سے﴾ پہلے ہیں اور ﴿بقیہ اُمت میں﴾ جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ اِن سب سے راضی ہوا‘‘ اور جب اللہ اِن سے راضی ہوا تو ہماری ناراضی کا حق کہاں ثابت ہوا۔ اسلام تو غیر مذہب کو بھی گالی دینے سے منع کرتا ہے کہ مبادا جو ابا وہ اسلام کو گالی نہ دے تو پھر خود اپنے اندر وہ یہ تقسیم کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ تو پھر آخر یہ کون سے مذہب کے ماننے والے ہیں جو یہ سب کر رہے ہیں مسلمانوں ! خدارا اپنے اِن دشمنوں کو پہچانواور اپنے اکابرین کی تضحیک مت کرو کہیں ایسا نہ ہوا ہم پر نازل شدہ دشمن کا عذاب آگے بڑھ کر کسی خدائی قہر میں تبدیل ہو جائے جس سے کوئی جائے اماں اور جائے پناہ نہ ہو اور جب خدا کی طرف سے جائے اماں نہ ملے تو امریکہ ، یورپ، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی حتی کہ فرشتے اور جن کوئی آپ کو امان نہیں دے سکتا۔

1,212
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...