اہل مغرب آجکل دہشت گردی کے خلاف واویلے میں مصروف ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا ذمہ دار ہر صورت مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کو قرار دیا جارہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واویلا کنندہ ممالک اس مسئلے سے یا تو متاثر ہی نہیں ہیں یا بہت ہی کم متاثر ہیں جبکہ جن مسلمان ممالک کو بدنام کیا جارہا ہے وہی سب سے زیادہ اس مسئلے سے دوچار بھی ہیں اور متاثر بھی۔ پاکستان کو تو دہشت گردی نے ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ اہل مغرب کا پروپیگنڈا یہ ہے کہ پاکستان ہی ان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے۔ اور غیر مسلم قوتیں بڑی شد و مد کے ساتھ مسلسل اسلام اور دہشت گردی کو مربوط ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دراصل یہ سارا پروپیگنڈا اسلام سے خوف اور نفرت پر مبنی ہے۔ خود کو بہت لبرل اور روشن خیال سمجھنے والے اہل مغرب دراصل انتہائی تنگ نظر اور متعصب ہیں۔ رچرڈ شیر دل اور صلاح الدین ایوبی کی صلیبی جنگوں سے لے کر بش کی یک طرفہ صلیبی جنگوں تک اسلام کے خلاف نفرت ہی کا جذبہ کا فرما رہا اور چلتا چلاجا رہا ہے۔ اسلام کی اصل روح اور اصل شکل کو مسخ کر نے کی ایک مسلسل کوشش ہے جسے وہ صدیوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج میڈیا کی ترقی کے دور میں اس مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔

مغرب کے اہل دانش اسلام کی اصل روح سے آگاہ ہیں اور یہی آگاہی انکے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے کہ اگر بات حلقہ دانش وراں سے آگے نکل کر عام کانوں تک پہنچ گئی تو پھر اس طوفان کو روکنا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ وہ لوگ جو بے خبری میں اسلام سے نفرت کر رہے ہیں وہ اس پاک مذہب کی اصلیت جان جائیں گے جو محبت، امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے یوں بھی یورپ اور امریکہ میں تیزی سے پھیلتا ہوا اسلام اہل مغرب کے لیے پریشان کن ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز مسلمانوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ سویٹزرلینڈ میں مسجد کے میناروں پر پابندی، فرانس میں عرصہ دراز سے چلنے والی سکارف اور حجاب پر بحث اور پابندی، بیلجئیم میں سکارف کو جرم قرار دینے کی قرارداد اور ناروے کے اخباروں میں توہین آمیز خاکے تو آخری حد ہے۔ یہ سب کچھ اسلام دشمنی کے ایسے ثبوت ہیں جس سے انکار کسی صورت ممکن نہیں۔ اب اگر اس سب کچھ پر مسلمان ردعمل ظاہر کرینگے تو کیا ان کو بنیاد پرست اور دہشت گرد کہنا بجا ہوگا؟

آزادی کشمیر کی تحریک کے کارکنوں کو دہشت گرد کہنا کسی بھی طرح قرین انصاف نہیں یہی حال فلسطین اور چیچنیا کے مسلمانوں کا ہے۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ جو کھیل کھیل رہا ہے اس کا ایک قدرتی ردعمل وہی ہے جو کہ وہاں کے لوگ کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں امن کا قیام نا ممکن ہو رہا ہے۔

اہل مغرب جو خود کو انسانیت کے ٹھیکیدار سمجھتے ہیں اور تو اور جانوروں کے حقوق کے بھی علمبردار بنے رہتے ہیں اور خانہ جنگیوں کے فیصلے کرنے کے بہانے دور دراز کے ملکوں میں پہنچ جاتے ہیں جن میں اکثریت مسلمان ممالک کی ہوتی ہے اور وہاں کے مسلمانوں کا خون ان کے لیے ان جانوروں سے بھی کم بے وقعت ہوتا ہے جن کے لیے وہ ریلیاں نکالتے ہیں۔ پھر بھی وہ اسلام اور مسلمانوں کو شدت پسند کہتے ہیں

جبکہ دوسری طرف اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جو زندگی میں ایک خاص توازن کا حامل اور حامی ہے نہ تو اس میں جبر ہے اور نہ ہی وہ بے اعتدال نرمی کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا پیش کردو۔ اسلام معاشرتی زندگی کے ہر پہلو پر نظر رکھتا ہے اگر اس میں جرم کی سزا ہے تو اس سے بھی اصلاح مقصود ہے اور اس سے پہلے اصلاح کی ہر کوشش ضروری قرار دی گئی ہے ورنہ نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں ایک مضبوط حکومت بناتے ہی مکہ پر حملہ کر دیتے اور بیعت رضوان میں بظاہر کفار کے حق میں جاتی ہوئی شرائط پر صلح نہ کرتے یہاں بھی اہل مکہ کو اصلاح کا موقع دے دیا گیا اور اس کے بعد بھی جب وہ راہ راست پر نہ آئے تو ان پر حملہ آور ہوئے۔ لیکن دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح فتح کے بعد مکہ کو تاخت و تاراج نہ کیا بلکہ تاریخ میں معافی کی عظیم اور انوکھی مثال قائم کی۔

اسلام کو اس وقت جس طرح دہشت گردی سے مربوط قرار دیا جا رہا ہے وہ صرف اسکے آفاقی محبت کے اصولوں کو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کی ایک سازش ہے۔ اسلام تو ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کی جان لینے اور ایک جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قرار دیتا ہے۔ اسلام میں واضح طور پر خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے کجا کہ خود کش حملے کر کے دوسرے کی جان بھی لے لی جائے لہٰذا ایک مسلمان خود کش حملے کو نہ صرف معاشرتی برائی بلکہ مذہب سے بغاوت تصور کرتا ہے۔ مغرب کا ایک اور ہتھیار جسے وہ بڑی باقاعدگی کے ساتھ اسلام کے خلاف استعمال کرتا ہے وہ عورت اور مرد کی معاشرے میں حدود ہیں اسلام نے عورت کو جو حقوق دیئے دنیا کے تمام مذاہب کی معاشرتی ڈھانچوں کو اگر اکٹھا کر کے عورتوں کے حقوق دیکھے جائیں تو بھی اسکے برابر نہ ہوں گے یونہی اسلام معاشرے میں ہر فرد کو دوسرے کی ذمہ داری بناتے ہوئے پڑوسی تک کو دکھ سکھ میں شریک اور ایک دوسرے کا معاون قرار دیتا ہے۔اور صرف یہ بھی نہیںکہ اسلام مسلمان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے بلکہ وہ تو اسلامی حکومت میں رہنے والے غیر مسلم کو بھی مکمل مذہبی آزادی دیتا ہے۔ اور اس کا مطالبہ ان سے صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی مملکت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں جبکہ یہی مطالبہ دوسرے مذاہب کا بھی رہتا ہے۔

میں نے یہاں اسلامی معاشرے کے چند پہلو لیے ورنہ تو اسلام کی آفاقیت پر تو جلدوں کی جلدیں بھی لکھ لی جائیں تو نا کافی ہیں۔ مغرب تو ظاہر ہے صدیوں سے جاری اپنے مخاصمانہ روش کو جاری رکھے گا لیکن کچھ کام ہمیں بھی کرنا ہے اور آج کے دور کے مطابق کرنا ہے جس طرح مغربی میڈیا اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کو جاری رکھے ہوئے ہے ہمارے میڈیا کو اس کا مناسب توڑ کرنا ہوگا اور اسلام کو اس کی اصل روح اور تعلیمات کے ساتھ پیش کرنا ہوگا مجھے اپنے میڈیا سے شدید شکایت یہ ہے کہ وہ اس کوشش کو کرتے ہوئے بھونڈے پن کا شکار ہو جاتا ہے ایک مثال دونگی کہ انتہائی نازیبا اور بیہودہ لباسوں کے فیشن شوز کو اس بیان کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ ان شوز سے پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور یہ تاثر زائل ہوگا کہ پاکستانی معاشرہ شدت پسند ہے ۔ ہمیں اپنے مذہب کو اس کی مکمل روح کے ساتھ اور ندامت کے طریقے کو چھوڑ کر انتہائی مثبت اور فخریہ انداز میں پیش کرنا ہو گا اور روشن خیالی کے نام پر مغرب کو خوش کر نے کی بجائے اسلام کی اصل روشن خیالی کو اجاگر کرنا ہو گا۔

2,316
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...