بنگلہ دیش ہمارا برادر اسلامی ملک ہے پاکستان کے لوگ آج بھی بنگلہ دیش سے پیار کرتے ہیں ان کی کامیابی کا جشن مناتے ہیں اور ان کی ہار پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں ۔ لیکن بنگلہ دیش حکومت کا آجکل کا رویہ کچھ عجیب و غریب ہے کہ جیسے پاکستان کو نشانے پر لے لیا گیا ہو ۔ شیخ مجیب الرَحمٰن کی بیٹی کے دورِ اقتدار میں یہ سب کچھ بہت انو کھا بھی نہیں ہے لیکن افسوس ناک ضرور ہے۔ 1971 پاکستان کی تاریخ کا سب سے سیاہ ترین سال تھا کیا ہوا یہ سب جانتے ہیں کیوں ہوا بہت سی باتیں اب بھی ایک راز ہیں۔ فوجی آپریشن کیوں ہوا ،کس نے کروایا ،بھارتی فوج کی مداخلت ، مغربی اور مشرقی پاکستان میں جغرافیائی دوری، سیاستدانوں کی خود غرضیاں اور ہوس اقتدار،فوجی قیادت کی نااہلی، مجیب ،مکتی باہنی، بھٹو، یحیٰ ہر کردار اپنی جگہ قصور وار تھا۔ لیکن مجیب نے بھارت نوازی اور پاکستان دشمنی کا جو چہرہ تب دکھایا تھا آج اُس کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کا رویہ بھی مختلف نہیں ہے پاکستان کے ساتھ اپنی مورو ثی نفرت کو وہ سنھبال کر رکھے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کے قیام میں مدد دینے والے غیر ملکی دوستوں کو ایوارڈ ز دیئے جن میں تیرہ پاکستانی ’’دوست‘‘ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس ایوارڈ کی وصولی کے لیے یہ تو جیہہ تراشی کہ ’’ہم‘‘ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی ان میں سے ایک وصول کنندہ نے اس ایوارڈ کے لیے ایک انتہائی ناقابل قبول وجہ یہ بھی تلاش کی کہ شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ واجد پاکستانیوں کے ذہن سے یہ بات نکالنا چاہتی ہیں کہ بنگلہ دیشی پاکستانیوں کو اپنا دوست نہیں سمجھتے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اِس ایوارڈ کی قیمت صرف اتنی ہے کہ خواہشمند پاک فوج کا مخالف ہواور ایک بڑے نیوز گروپ کا یہ اینکر اور کالم نویس یہ کام اپنا فریضہ سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ اُن کے والدکو اس لیے یہ ایوارڈ دیا گیا کہ بقول اُن کے وہ چار پانچ طلبا کے ایک گروپ کو پنجاب یونیورسٹی سے ڈھاکہ لے کر گئے تھے لیکن یہ نہیں بتایاکہ کیوں کیا بنگلہ دیش بنانے کے لیے یا پاکستان بچانے کے لیے اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بچانے والوں کو یہ ایوارڈ دیا جا سکتا تھا۔
اگر بقول اِن کالم نویس کے جو شیخ مجیب اور شیخ حسینہ واجد کو پاکستان کے بہترین خیر خواہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے ایوارڈ وصولی کے فعل کے لیے جواز پیش کر سکیں لیکن وہ ذرا اُن پاکستانیوں کے سوالات کے جوابات تو دیں جن کے خاندان صرف اسی جرم میں وہاں قتل کر دیئے گئے کہ وہ خود کو پاکستانی کہتے تھے اور ملک سے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے اپنی جان بھی نذر کر دیتے تھے اور آج بھی خود کو پاکستانی کہتے ہیں۔ اپنے آپ کو انسانی حقوق کے چیمپین کہنے والے اور نام کمانے کی خاطر اپنی فوج کو مجرم گرداننے والوں کو وہ بے بس بہاری کیوں نظر نہیں آئے جو 1971 میں قتل کئے گئے اوران میں سے بہت سے اب بھی مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں صرف پاکستانیت کے جُرم میں لیکن ظاہر ہے ایسا کرنے پر انہیں ایک غیر ملکی ایوارڈ تو نہیں مل سکتا تھا۔ یہ لوگ تو اسی میں فخر محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں ایک غیر ملکی ایوارڈ ملا ہے تاریخ مسخ کرنے پر ہی سہی۔ مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کے قتل عام کے ایک عینی شاہد اور میرے ایک بہت محترم قاری ڈاکٹر جمیل رضوی رمنا ریس کورس گراونڈ میں شیخ مجیب الرحمن کے ایک جلسے میں اس کے خونی لہجے کی اپنی یادشتیں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں شیخ مجیب نے کہا ’’کیوں پاکستانی ، پنجابی، بہاری اور دوسرے غیر بنگالی اب تک زندہ ہیں انہیں مار ڈالو انکے گھروں میں، اُنکی پناہ گاہوں میں، سیڑھیوں میں ، انہیں انکی خوابگاہوں میں، باورچی خانوں میں، گوداموں میں، غسلخانوں میں اور کسی بھی دوسری پناہ گاہوں میں‘‘ ڈاکٹر رضوی کا سوال ہے کہ اُن کے والد کے اغوا اور خود اُس وقت میڈیکل کے اس طالبعلم پر تین لوگوں کا حملہ کون سے قانون کے تحت تھا کیا اِن سے کسی نے معافی مانگی یا کسی نے اس کا مطالبہ کیا ۔ وقت نے یہ سب کچھ مجیب کے ساتھ بھی کیا لیکن اُس سے پہلے وہ پاکستانیوں کا قتل عام کر چکا تھا۔ صرف اسلامی نظریے کی پاسداری کے جُرم اور بھارت نوازی میں عالمی میڈیا نے جو جو الزامات پاک فوج کے خلاف تراشے ان الزامات کو کچھ مخصوص بدنیت ذہنیت کے نام نہاد لیڈروں اور میڈیا کے پیرانِ کامل نے تسلیم کیا اور بنگلہ دیش کے معافی مانگنے کے مطالبے پر ان سے زیادہ اڑ گئے لیکن مکنی باہنی ، بھارتی فوج اور مجیب کے مظالم کا نشانہ بننے والے پوچھتے ہیں کہ ان کے پیاروں کے خون کا حساب کون دے گا سلیمہ ہاشمی، حامد میر یا عاصمہ جہانگیر یا پھرشیخ حسینہ واجد۔
اگر بقول ایوارڈ کے وصول کنندہ کالم نویس کے یہ سب کچھ پاکستان کی دوستی میں کیا گیا تا کہ پاکستان کے بارے میں ایک اچھا تاثر پیدا کیا جاسکے تو بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے دورے کو اعلان کے بعد کیوں بار بار منسوخ کیا گیا۔ پاکستان سے وفاداری کا ثبوت دینے والے نوے سالہ پروفیسر غلام اعظم جیل میں کیوںپڑے ہوئے ہیں۔ کالم نویس نے ہزاروں احتجاجیوں کا ذکر تو کیا کہ جو بنگلہ دیش جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے مطالبے کے تحت دھرنا دیئے ہوئے ہیں لیکن بیسیوں مقتولین کا نہیں جو اس پارٹی سے زیادتی پر احتجاج کرتے ہوئے ہلاک کئے گئے۔ مسئلہ اِس یا اُس جماعت کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ پاکستان کا ہے اور پاک فوج کی مدد کا ہے یہ سب کچھ ہمارے کچھ میڈیا گروپس سے شاید ’’نظر انداز‘‘ ہو گیا اور کچھ اینکرز نے اسے درخور اعتنائ نہیں سمجھا ۔ دراصل وطن عزیز میں یہ عجیب رسم چلی ہے کہ فوج کے خلاف بولو اور بہت کچھ پالو، وال سٹریٹ جرنل میں ایک مضمون پاک فوج کے خلاف لکھو اور مالا مال ہو جائو۔ 1965 کی جنگ کو پاک فوج کی غلطی قرار دو اور انٹلکچوئل بن جاؤ، اُسے 1971 کے تمام تر واقعات کا ذمہ دار قرار دو اور ایوارڈ وصول کر لو،کیا لکھنے والا اور کہنے والا یہ نہیں سوچتا کہ فوج آخر وہاں گئی کیوں، مکتی باہنی کس نے بنائی، الشمس اور البدر کے مجاہدوں کے ساتھ کیا ہوا ،ڈھاکہ میں پاکستانیوں کی لاشیں بے گور وکفن کیوں پڑی رہی، چاہے وہ کوئی مزدور تھا یا کوئی سائیکل رکشا ڈرائیور اُسے پاکستانی ہونے یا چلئے غیر بنگالی ہونے کی سزا کیوں دی گئی کیا کوئی اُن سے معافی مانگے گا۔
یہ ایوارڈ لینے والے اگر اب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بہترین تعلقات کے لیے کوئی کردار ادا کرتے وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں زبردستی ڈالی گئی نفرت ختم کرنے کی کوشش کرتے اور 1971 کے واقعات میں بھارت کا کردار عیاں کرنے کی سعی کرتے اور پھر کوئی ایوارڈ وصول کرتے تو ہم سب ان پر فخر کرتے لیکن کاش کہ ایسے مخلص لوگ سامنے آئیں اور ملک کی نیک نامی کے لیے کام کریں تو ایوارڈز کی وصولی کا جشن پوری قوم منائے اور خود انہیں بھی اپنی صفائی پیش کرنے کا تر دُد نہ کرنا پڑے۔

1,494
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...