7 ستمبر 1965 پاکستان کے ایک جانباز ہوا باز نے دشمن کے پانچ طیارے ایک ہی وار میں اور ایک منٹ کے اندر اندر گرا دیئے۔ سرگودھا سے اپنے سیبر F86 طیارے میں بیٹھے سکوارڈن لیڈر محمد محمود عالم نے اُس وقت اپنے حواس کیونکر قابو میں رکھے ہونگے، آج تک سننے والا اس معجزے پر انگشت بدانداں ہے اور وہ بھی جب دشمن کے طیارے زیادہ جدید تھے ،تعداد بھی زیادہ تھی۔ ایم ایم عالم کہتے ہیں ’’جب میں یہ کارنامہ سر انجام دے کر زمین پر اترا تو ائیر بیس پر موجود لوگوں نے مجھے کاندھوں پر اٹھا لیا‘‘ میں نے اپنی ابتدائی جماعتوں کی کسی کتاب میں ایم ایم عالم کے اس کارنامے کی تفصیل پڑھی تھی اور اس مجاہد کو دل کی گہرائیوں سے ایک معصومانہ سا سلام پیش کیا تھا۔ لیکن آج جب اُن کی وفات کی خبر آئی اور میں نے اُس پر تاسف کا اظہار کیا تو ایک پوچھنے والے نے پوچھا ایم ایم عالم کون تھے۔ ۔۔۔۔
دکھ بھی ہوا اور افسوس کہ قوم کا ہیرو آج یوں عالم گمنامی میں تھا کہ اُس کی شناخت پوچھی جا رہی تھی ۔ کیا یہ ہمارے قومی رویے کی بولعجبی نہیں کہ ہم اپنے قومی محسنوں کو کچھ عرصے بعد یوں پس پشت ڈال دیتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ان کی پہچان پوچھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ 6جولائی 1935 کو کلکتہ میں پیدا ہونے والا محمد محمود عالم وہ محب وطن پاکستانی تھا جس نے دوبار پاکستان ہجرت کی۔ ایک بار مشرقی پاکستان اور جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو یہ پاکستانی پھر پاکستان آگیا اور آج پاکستان کی مٹی میں گھل مل گیا۔ سچ یہ ہے کہ انہی مبارک روحوں اور مقدس جسموں کی برکت ہے کہ دشمن کے پے در پے وار یہ ملک سہتا جا رہا ہے اور پھر بھی قائم ہے اور رہے گا انشاء اللہ۔ انڈین آرمی کے 27 ویں سکوارڈن کے پانچ طیارے ایک منٹ سے کم وقت میں زمین بوس کرنے کے علاوہ اس شاہین نے اسی جنگ میں چارمزید طیاروں کو تباہ کیا تھا۔ سوچیئے کہ اُس وقت اس کارنامے کا پاک فضائیہ کے مورال پر کیا اثر پڑا ہو گا اُس نے یقینا اسے آسمان کی بلندیوں سے بھی بلند کر دیا ہوگا ،مجاہد کے تخیل تک ، زمینی فوج کو کیسے حوصلہ بخشا ہو گا اور بحریہ کو کیسے قوت عطا کی ہو گی ۔ اس سب کچھ کے بدلے میں اس مرد مجاہد کا یہ تو حق بنتا تھا کہ ہمارا ہر دم با خبر اور ہر خبر پر نظر رکھنے والا میڈیا اس مجاہد کی بیماری سے بھی با خبر ہو تا ۔ لیکن ہر اُوٹ پٹا نگ خبر کو بریکنگ نیوز کا درجہ دینے والے میڈیا نے اِس موت کو اس قابل بھی نہ سمجھا۔ بھارتی اداکار راجیش کھنہ کی موت کی خبر کو ہر نیوز کاسٹر نے دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں زیادہ سے زیادہ چیخ کر بریک کیا تھا جس کا میڈیا کے علاوہ کسی پاکستانی کے دل سے کوئی تعلق نہ تھا ۔ اور ایم ایم عالم جیسے فرزندان وطن کا تو حق یہ ہے کہ اُن کی زندگی میں بھی گاہے بگا ہے قوم کو اُن کے کارنامے یاد کرائے جاتے رہیں تونئی نسل ان کی موت پر یہ نہ پو چھے گی کہ یہ۔۔۔ کون تھا۔ چل پڑھا اور شہزاد رائے سے روئے بننے والے جیسے ٹیلی وژن کے کاسمیٹکس میزبانوں کے لیے تو شاید وہ اہم نہ رہے ہوں اور وہ انہیں بھی جنگجو قرار دیں صلاح الدین ایوبی اور محمود غزنوی کی طرح کیونکہ انہوں نے بھارت کے طیارے مار گرائے تھے تب وہ دشمن بھی تھا تو آج تو ہماری نیوز اُن کے فلمی ستاروں سے جگمگاتی ہے اس لئے ان کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہوگی ۔ اگر چہ آج جو ایک روشن ستارہ ہم نے حوالہء خاکِ پاک کیا ہے وہ صرف پردئہ سیمیں پر روشن نہیں تھا کہ روشنیاں گل ہونگی تو چمک ختم ہو جائے گی یہ چاند تاروں کے پر چم میں لیٹے ہوئے چاند تاروں کے لاشے تو خود روشن اجسام ہیں جو قوم کو ہمیشہ روشنی دکھاتے رہیں گے انہیں کسی سورج سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کی گرد اگر صاف کی جاتی رہے تو ہمارا اپنا راستہ واضح ہوگا۔ ایم ایم عالم کے معاملے میں سوشل میڈیا نے الیکٹرانک میڈیا کو جس طرح جگانے کی کوشش کی وہ قابل تعریف ہے کہ کم از کم یہ باخبر لوگ جاگے نہیں توکسمسائے ضرور۔ روشنی کی یہ شعاعیں ہمارے قومی جسم کو ایمان اور عزم کی وہ طاقت عطا کرتی رہیں گی جو سرگودھا ائیر بیس کو ہمیشہ ہلواڑہ کے ائیر بیس پر حاوی کرتی رہے گی۔ ایم ایم عالم آپ کو ایک دفعہ میں نے اپنے بچپن میں ایک معصوم سا سلام پیش کیا تھا آج میرا ہاتھ پھر میرے ماتھے پر ہے کہ آپ جیسے سپوت مر کر بھی قوموں کی زندگی کا باعث ہوتے ہیں، پاکستان زندہ باد۔

3,182
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 7
Loading...