گاہے بگاہے امریکہ کے ایوانوں سے کچھ آوازیں پاکستان کے متعلق اٹھتی رہتی ہیں کبھی انہیں پاکستان کے ایٹمی اثاثے طالبان کے ہاتھ لگتے نظر آتے ہیں کبھی القاعدہ کے۔ کبھی ان پر پاکستان میں اسامہ کی موجودگی کا انکشاف ہوتا ہے اور کبھی تمام دہشت گرد تنظیمیں اور انکے ہیڈ کواٹرز پاکستان میں نظر آتے ہیں اور لگتا ایسا ہے کہ وہ پاکستان کے غم میں دبلا ہو رہا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش میں سب سے زیادہ مبتلا ہے بلکہ پاکستان کے لئے بے شمار مسائل کا سب سے بڑا ذمہ دار ہی امریکہ ہے اور پاکستان پر سب سے زیادہ الزام تراشی کا مجرم بھی۔ پہلے الزام تراشی کر کے اپنے لئے حالات سازگار بنانا اس کا پرانا وطیرہ ہے یہی اس نے عراق میں کیا چاہے اسے بعد کیمیائی ہتھیاروں کا کوئی نام و نشان ملا یا نہ ملا یہی اس نے افغانستان میں کیا اور اسامہ بن لادن کی موجودگی کا بہانہ بنا کر وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور پورے خطے کو ایک ایسے غیر متوازن و غیر یقینی حالات سے دو چار کر دیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انہی حالات کی آڑ لے کر اس نے اپنے کارندے یہاں پھیلا دیئے۔ سی آئی اے امریکہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ہے اور پوری دنیا میں صرف عدم توازن اور تنازعات کو ہوا دینے کی ڈیوٹی پر مامور ہے اور اسے جہاں ضرورت ہو وہ دوسری خفیہ ایجنسیوں سے مدد لیتی رہتی ہے اور اپنا مطلب نکالنے کے بعد ان سے نہ صرف قطع تعلق کر لیتی ہے بلکہ اسی ملک کے خلاف بھی سرگرم عمل ہو جاتی ہے اور مزید ایجنسیوں کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہے اس طرح اس کا یہ چکر چلتا رہتا ہے۔ آئی ایس آئی کے ساتھ بھی سی آئی اے مل کر کام کرتی رہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ سی آئی اے، آئی ایس آئی کی مدد کے بغیر کے جی بی سے ٹکر نہ لے سکتی تھی اور نہ اسے افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر سکتی تھی اور نہ ہی اب امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان جنگ جاری رکھ سکتا ہے لیکن یہ سوچنا کہ امریکہ مدد کرنے والے ملک سے بھی مخلص ہوگا سراسر حماقت ہے اور یہی کھیل امریکہ پاکستان میں کھیل رہا ہے اگرچہ ایک عام آدمی مسلسل اس بات پر مصر تھا کہ پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے میں سی آئی اے کا بہت بڑا ہاتھ ہے تا ہم وہ ایک عام آدمی تھا اس لئے اس کی آواز پر کان نہیں دھرا گیا اور اب جبکہ ریمنڈ ڈیوس جیسا جا سوس پکڑا گیا ہے تو عام آدمی کے اس خدشے کو کسی اہمیت کے قابل سمجھا جانے لگا ہے اور یہ بات سامنے آنے لگی ہے کہ نہ صرف سی آئی اے خود پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم عمل ہے بلکہ را اور موساد جیسی بدنام زمانہ ایجنسیوں کو بھی پاکستان کے خلاف مکمل امداد فراہم کر رہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا کہ سی آئی اے کسی کی مدد کے بغیر کام نہیں کر سکتی یہی کام وہ اب پاکستان میں پاکستان کے خلاف کررہی ہے اور اس کام میں اسے بھارتی ایجنسی را اور اسرائیلی موساد کا مکمل تعاون حاصل ہے یا یوں کہیے کہ سی آئی اے کو را اور موساد بلکہ کچھ رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے 6۔MI کا بھی تعاون حاصل ہے۔ بلوچستان اور سوات میں را اور موساد کی مدا خلت تو اب ایک مصدقہ اور ثابت شدہ امر ہے براہمداغ بگٹی کا کیس سب ہی کے ذہنوں میں ابھی تازہ ہے اس معاملے میں یہ تمام ایجنسیاں بشمول افغانستان کی خفیہ ایجنسی رام ملوث تھیں۔

اسی طرح بلوچستان میں دیگر کئی مقا مات و واقعات میں را کے دہشت گرد گرفتار بھی ہوئے اور انہوں نے اس بات کا اقرار بھی کیا اور یہ بات بھی صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا جانتی ہے کہ بلو چستان میں امریکہ کو انتہائی دلچسپی اس زمین میں موجود قیمتی معدنی ذخائر کی وجہ سے ہے اور اس کو اس کی بندرگاہوں کی اہمیت کے بارے میں بھی علم ہے کہ یہاں سے آبنائے ہرمز کی تیل کی گزر گاہ تک پہنچ بھی کتنی آسان ہے اور خود بلوچستان میں بھی اپنی زمینی ساخت کے لحاظ سے تیل اور گیس کے کتنے چھپے ہوئے ذخائر موجود ہیں ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر اسکے علاوہ ہیں دوسری طرف اسے پاکستان کے شمال مغربی علاقے سے وسطی ایشیا میں بحیرہ کیسپئین کے ارد گرد توانائی کے عظیم ترین ذخائر تک پہنچنے میں بھی کافی آسانی ہو سکتی ہے اور اسے توانائی کی بے انتہا ضرورت ہے نہ صرف پوری دنیا پر مسلط کی ہوئی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے بھی اور اپنے عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی اور بھارت اور اسرائیل اپنی دیگر دلچسپیوں کے ساتھ سی آئی اے کے اس ٹا سک میں صرف اسلئے شامل ہیں کہ اس سارے معاملے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہ ملک ہے اگر چہ بھارت کو بھی اپنی بھوکی ، ننگی اور بے سائباں آبادی کے لئے بھی توانائی کے لئے بے تحاشا ذرائع کی ضرورت ہے لیکن ان سب کا سب سے بڑا مقصد دنیا کے واحد ایٹمی مسلمان ملک پاکستان کو نہ صرف عدم توازن کا شکار کرنا ہے بلکہ خدانخواستہ اسے ختم کرنا ہے ۔ کیونکہ نہ صرف ان ممالک بلکہ کسی بھی غیر مسلم ملک کے حق میں ایک ایٹمی مسلمان ملک کسی طرح بھی نہیں اور یہ سب جا نتے ہیں کہ انکے ارادوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے اگر یہ ممالک کسی بھی مسلمان ملک کی طرف بڑھتے ہیں تو پاکستان دنیائے اسلام کی قیادت اور حفاظت کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر یہ اسلام کے خلاف کسی کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہیں تو پاکستان انکے مقابلے پر تن کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ یوں ان ایجنسیوں اور ان کے ممالک کے مفادات بالکل ایک ہو جاتے ہیں سالوں سے یہ پاکستانیوں کے حوصلے آزما رہے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اسطرح پاکستانی کندن بنتے جا رہے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ پاکستانی حکمران اپنے عوام سے حوصلہ سیکھ ہی لیں گے اور ’ناں ‘ کرنے کی جرات پیدا کر ہی لیں گے اور اب تک بھی پاکستان انہی حوصلوں کی وجہ سے بحکم خدا قائم ہے اور تن تنہا ان تمام سازشوں کا مقابلہ کر رہا ہے آئی ایس آئی جو ان ایجنسیوں کے مقابلے میں انتہائی کم وسائل رکھتی ہے ان سے ٹکر لئے ہو ئے ہے پاکستانی عوام اپنے حوصلے کا بے پناہ مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اب وقت ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی طرز کے سفارتی اہلکار ملک سے فوراََ بے دخل کر دیئے جا ئیں اور بلیک واٹریازی سروس کے کسی بھی کا رندے کو نکال دیا جائے بلکہ ہر مشکوک غیر ملکی چاہے وہ امریکی ہو یا کوئی اور اسکی سخت نگرانی کی جائے کیونکہ حا لات و واقعات بتا رہے ہیں کہ امریکہ اور ان دوسرے غیر ملکیوں کے خود القاعدہ اور دہشت گردوں سے رابطے ہیں جس کا ثبوت ریمنڈ ڈیوس سے ملنے والی دستاویزات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ڈرون حملوں میں بے شمار پاکستانی مارے گئے لیکن نام گرامی دہشت گرد لیڈر بچ جاتے ہیں کیونکہ ان سے خود امریکہ اور اسکے حواریوں کے مفادات وابستہ ہیں افغانستان میں امریکی فوج مو جود ہے وہاں کی نام نہاد سہی سرکاری حکومت امریکہ چلا رہا ہے اور امریکہ کا اتحادی پا کستان ہے لیکن پا کستان کی سرحدوں پر افغانستان میں ایک درجن سے زائد بھارتی قو نصیلیٹس ہیں جبکہ بھارت اور افغانستان کی کوئی سرحد بھی آپس میں نہیں مل رہی افغا نستان میں بھارت کی دلچسپی صرف اس لئے ہے کہ وہ ایک دوسری طرف سے بھی پاکستان کی سرحدوں پر موجود رہنا چاہتا ہے اسی طرح اسرائیل بھی اس خوف میں مبتلا ہے کہ اسرائیل کی عالم اسلام کے خلاف کسی بھی کھلی جنگ کی صورت میں پاکستان اسکے خلاف مضبوط ترین حریف ہو گا اور وہ کسی مسلمان ملک کو اس قدر مضبوط تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اسکے صیہونی ارادوں کے آڑے آسکے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان خود کو ایک ایٹمی طاقت اور طاقتور ملک ثابت کرے اور دنیا کو دکھا دے کہ اگر وہ ماضی میں دنیا کی سپر طاقتوں کو تہس نہس کر سکتا ہے ،گزشتہ دس گیارہ سال سے اگر آئی ایس آئی اور پاکستانی دنیا کی بڑی بڑی خفیہ ایجنسیوں اور دشمنوں سے نبرد آدما ہو سکتے ہیں اور انہوں نے ان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تو ان کو مان لینا چاہیئے کہ اس قوم کو شکست نہیں دی جا سکتی اور ہماری حکومت کو بھی یہ یقین ہونا چاہئے کہ اگر اس نے ان طاقتوں کے سامنے جرا،ت انکار کی تو یقیناً فتح انکی ہوگی کیونکہ انکی پشت پر ان طاقتوں کے ستائے ہوئے اٹھارہ کروڑ عوام کسی بہادر فوج کی طرح کھڑی ہوگی اور ان دشمن ایجنسیوں کو بھی اب اپنا بوریا بستر پاکستان سے سمیٹ لینا چاہئے کیونکہ لگتا یہی ہے کہ اب انکے پاس وقت بہت کم ہے۔

5,122
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 14
Loading...