پاکستان برصغیر کے مسلمانوں نے ایک عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا۔ صرف ایک کلمے کی بنیاد پر اور سب نے اتفا ق کیا کہ ایک خدا ایک نبی اور ایک قرآن لہٰذا ایک ہی پاکستان۔ لیکن ظاہر ہے کہ دشمن کو یہ نظریہ قابل قبول نہ تھا کیونکہ اِس نے اُس کے بہت سارے مفادات پر ضرب لگائی تھی ایک عظیم الشان سلطنت پر حکومت کرنے اور ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کا خواب چکنا چور ہوا تھا ۔ اور صرف بھارت پر ہی کیا موقوف اسلامی ممالک کی لمبی زنجیر میں ایک اور مسلمان ملک کا اضافہ اوروں کو بھی ناگوار تھا۔ لہٰذا طاقت کے ساتھ ساتھ دوسرے بلکہ ہر قسم کے حربے آزمانے شروع کئے گئے کہ خدانخواستہ اس ملک کا شیرازہ بکھیردیا جائے۔ ان میں سے اہم ترین ثقافتی حملہ تھا سونیا گاندھی نے تو بہت صاف طور پاکستان پر کسی جنگی حملے سے زیادہ ثقافتی حملے کو اہم قرار دیا تھا اور یہ وار مسلسل کیا جا رہا ہے، دوسری طرف ہمارے اپنے لوگ ہیں جو بڑی تندہی سے بھارت اور پاکستان کی ثقافتی مماثلتیں تلاش کرتے رہتے ہیں، کبھی سُر میں یہ مماثلت تلاش کر لی جاتی ہے اورکبھی پتنگ بازی میں تو عرض ہے کہ پتنگ بازی تو جنوبی امریکہ میں بھی ہوتی ہے اور سُر تو انٹارکٹکا میں بھی الاپے جاتے ہیں اور زبان تو امریکہ اور برطانیہ کی بھی ایک ہے۔
بھارت کے ساتھ دوستی میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن اس کے لیے شرائط برابری اور نیک نیتی ہے مماثلتیں نہیں اور یہ مماثلتیں تلاش کرکے دوقومی نظریے کی نفی کرنے کی بجائے پاکستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں میں انہیں کیوں تلاش نہیں کر لیاجاتا ۔ بلکہ انہیں تو تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں مذہب نے اِن لوگوں کو ایسی ایک زنجیر میں باندھ رکھا ہے جہاں مماثلتیں خود بخود پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ جو چار صوبوں کو مختلف ثقافتوں کا مالک سمجھتے ہیں اور علاقائی طور پر پائے جائے والے رسوم و رواج کو غیر ضروری اہمیت دیتے ہیں وہ اس پر بھی اتنی تحقیق کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ٹوپی چترال سے شروع ہو کر مکران تک پہنچتی ہے صرف انداز بدلتا ہے، چترال کی ٹھنڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ بھیڑ کی اُون سے بنتی ہے تو سندھ اور بلوچستان میں یہ شیشوں سے مزین ہو جاتی ہیں ،چادر ہی کو لیجیے یہ چارسدہ میں کھدر، گلگت میں اُون کی بنتی ہے تو پنجاب میں چارخانہ اور سندھ میں اجرک ہو جاتی ہے۔ پشاور اور خیبر پختونخواہ میں خواتین سفید برقعے میں تو عام طور پر ہی نظر آتی ہیں لیکن سندھ میں سفر کرتے ہوئے مجھے یہ برقعہ یہی احساس دلاتا رہا کہ فرق تو کہیں نہیں، دیہات کا وہی انداز، وہی بچے پانی کے کسی جو ہڑ یا تالاب کے گرد کھڑے یا سڑک پر سائیکل کا پہیہ ڈنڈے کی مدد سے چلاتے ہوئے یہ احساس بالکل ختم کر دیتے ہیں کہ یہ کونسا علاقہ ہے ،چارپائی کا وہی انداز، برتن وہی جو صدیوں سے یہاں رائج ہیں۔ گھر ایک جیسے کھلے اور کشادہ چاہے کم رقبہ ہوں حتیٰ کہ زبانوں میں مماثلت اور کسی نامانوس زبان میں مانوس سا کوئی لفظ ایک خوشگوار تاثر دیتا ہے ۔ تندور کا وہی انداز جو پشاور میں ہے وہی لاہور اور سکھر میں بھی ہے۔ صرف لگنے والی روٹی کا انداز بدل جاتا ہے۔ ساگ یہاں بھی پسندیدہ وہاں بھی مقبول، ہاتھ کا پنکھا خیبر پختونخواہ سے لے کر پنجاب ، سندھ اور بلوچستان سب میں ایک جیسا سجا ہوا ہے، دلہن کا سرخ جوڑا سب کے لیے خوشی کا باعث ، پگڑی کا صرف انداز بدلتا ہے باقی تو پگڑی پگڑی ہی رہتی ہے اور یہ سب کچھ صدیوں سے ایسا ہی ہے اور تاریخی طور پر ایسا ہے، اسے زبردستی ایسا نہیں کیا گیا۔ اگر ثقافت انہی چیزوں کا نام ہے تو ہمارے مختلف علاقوں اور صوبوں میں ان مماثلتوں کو تلاش کر کے کیوں اجا گر نہیں کیا جاتا۔ میں یہ ہر گز یہ نہیں کہتی کہ یہاں مختلف روایات اور رسوم و رواج نہیں ہیں اور ضرور ہیں اور چمن میں گلہائے رنگارنگ نہ ہوں تو وہ چمن نہیں جنگل بن جاتا ہے کہ اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے ۔ لیکن رسوم و رواج تو ایک گاؤں میں بھی مختلف ہوتے ہیں میں نے تو ایک ہی پشاور میں کئی رسمیں دیکھیں ہیں جو اگر ایک خاندان کی شادی میں انجام دی جا رہی ہیں تو دوسرے میں نہیں بلکہ وہاں کچھ اور ہی کیا جا رہا ہے۔
اس مضمون کو لکھنے کا سبب میرا وہ سفر بنا جو میں نے سندھ جاتے ہوئے کیا اور راستے میں کچھ ایسا تلاش کرتی رہی جو مجھے احساس دلادے کہ اب میں ایک سے دوسرے صوبے میں داخل ہو رہی ہوں لیکن سوائے لباس کے رنگوں﴿انداز وہی﴾ یا زبان اور لہجے میں تبدیلی کے کچھ ایسا خاص نظر نہیں آیا جس کی بنا پر میں انہیں یکسر مختلف قرار دوں۔
یہاں یہ اقرار کر لینا چاہیے کہ قومی یکجہتی پیدا کرنے سے ہم نے مجرمانہ غفلت برتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کراچی میں رہتے ہوئے لسانی اور علاقائی خلیج خطرناک حد تک موجود ہے بلکہ اکثر قتل عام کا باعث بنتی ہے۔ پنجابی، پٹھان ، بلوچی ، سندھی، کشمیری ہر ایک دوسرے علاقے میں کمتر بن جاتا ہے اور اپنے علاقے میں برتر۔ ہمارا میڈیا جس باقاعدگی سے بھارتی فلم کی خبریں دیتا ہے حتّیٰ کہ ان کی کسی اداکارہ کو زُکام بھی ہو جائے تو وہ ہمارے میڈیا کی زینت بن جاتی ہے کہیں، کسی دور دراز علاقے میں سانپ کھانے جیسا بیہودہ مقابلہ بھی ہو جائے تو اُسے گلمیرائزڈ کر کے دکھا دیا جاتا ہے۔ اُن کی علاقائی رسمیں چسکا لے لے کر دکھائی جاتی ہیں تو آخر ہم خود سے اتنے بے خبر کیوں ہیں بلکہ ہم تو ان کے ڈرامے اور چینلز خود سے زیادہ تعداد میں دکھاتے ہیں اور ہمارے ہرنیوز چینل کے پاس پڑوسی سے محبت کے لیے وقت مخصوص ہے۔ دکھائیے یہ سب لیکن پہلے اپنے گھر کی خبر لیجے اور یہ بھی پتہ لگائیے کہ بھارت میں ہمارے کتنے چینلز چل رہے ہیں، ان کے کیبل آپریٹرز ہمارے ڈرامے سے کتنی امن کی پتنگیں اڑارہے ہیں، ہماری روایات اور رسوم کی وہاں کتنی اہمیت ہے۔ ہمارے تو صحافیوں کو دہلی میں ہونے والے صحا فیوں کے میلے سے بھی نکال دیا گیا اورہمارے وہی اداکار ان کی خبر میں رہتے ہیں جو پاکستان کی بدنامی کا باعث ہوں، وینا ملک جیسے لوگ، ورنہ باقی تو وہاں سے نکال بھی دئیے جاتے ہیں۔پڑوسی سے امن کے لیے کام کریں لیکن پہلے اپنے گھر کی خبر لیجیے اس میں امن، بھائی چارہ اور محبت پیدا کریں یہ آپ کا فرض ہے اور فرض کو کاروبار پر تر جیح دیجیے تو کاروبار میں بھی برکت پڑ ہی جائے گی۔

11,469
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 15
Loading...