اسلام دنیا کا وہ عظیم مذہب ہے جس پر رب کائنات نے اپنا سب سے بڑا فضل کیا کہ اسے وہ ہستی عطا کی جس کا نہ بدل نہ ثانی نہ دنیا میں نہ دین میں ،مبلغ تو کوئی مقابل نہیں، کمانڈر تو حکمت عملی وہ کہ آج بھی مشعل راہ بنائیں، معلم تو وہ ملک جس میں علم تھا نہ حکمت اس کے لوگوں کو معلم ِ جہاں بنا دیا، باپ تو محبت کا دریا شوہر تو مہرووفاکی تصویر۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ان میں سے ہر ہر لفظ کا ثبوت مکمل طور پر موجود ہے۔حقیقتاپیغمبرِاسلامﷺکا اسوہ دنیا کے ہر فرد کے لیے ایک ایسا راستہ ہے جس میں نا کامی اور برائی کا شائبہ تک نہیں اور یہی وہ کردار تھا جس نے اُس معاشرے کو بدل کر رکھ دیا جو شقی القلبی کی اُس حد پر تھا جہاں باپ خود اپنے ہاتھ سے اپنے لخت جگر کو زندہ درگو ر کرتا تھا اور بیٹی کی التجا اور باپ سے محبت کا اظہار بھی اُسے زمین کا رزق بننے سے نہ بچاتی تھی۔ جہاں بات بات پر سا لہا سال پر محیط جنگیں لڑی جاتی تھیں اور یہ حال صرف مکہ کا نہیں ساری دنیا کا تھا۔ مدینہ میں اوس و خزرج آپس میں بر سر پیکار تھے دیگر اقوامِ عالم باہم الجھی ہو ئی تھیں ایسے میں امن اور سلامتی کی بات کرنا ایک ایسا مشکل کام تھا جس کو سر انجام دینے کے لیے وہ اخلاق و کردار اور ثابت قدمی اور محبت درکار تھی جس پر انگلی اٹھانے تک کی گنجائش نہ ہو۔ مکہ میں رحمت اللعا لمینﷺنے جو مشکلات سہیں ،جو تکالیف اٹھائیں وہ ہر ہر زاویے سے کسی بھی عام انسان کی قوت برداشت سے باہر تھیں۔ صرف شعب ابی طالب کو لیجے کہ تین سال ایسا مقاطعہ رہا کہ پتے، گھاس اور چمڑا ابال کر کھانے پر مجبور ہوئے مگر پائے استقلال میں لغزش نہ آیا نہ فخر انسانیتﷺکے نہ اُن کے ماننے والوں کے۔ تیرہ سال تبلیغ کے بعد مکہ میں کچھ ہی لوگ مسلمان ہوئے اور مکہ کے سرداروں میں اکثریت کا رویہ انتہائی سخت اور دشمنانہ رہا۔ مدینہ تشریف لے گئے تو اوس و خزرج کے جنگ بعاث کی دشمنی کے باعث ایک دوسرے کے بارے میں خیالات نیک نہ تھے یہی وجہ تھی کہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ خزرجی ،اوسیوں کے خوف سے آپ ﷺ کے استقبال کو قبانہ آسکے اور چھپتے چھپاتے آئے کیوں کہ انہوں نے جنگ بعاث میں قبیلہ اوس کے کئی اشخاص کو قتل کیا تھا لیکن بعد یہی اوس اور خزرج صرف اورصرف انصار بن گئے۔ یہودی مدینہ کی آبادی کا ایک اہم عنصر تھے آپ ﷺ نے ان کے ساتھ میثاق مدینہ فرمایا تاکہ مدینہ میں امن قائم ہو اور رہے۔ کسی کافریا مشرک کو اس کے دین کی وجہ سے نہ مارا نہ قتل کیا جب تک وہ خود آمادئہ شر اور فساد نہ ہوا۔ مکہ جس شہر کی فضا اُن مظالم کی گواہ تھی جو نبی آخر الزماںﷺ اور مسلمانوں پر کئے گئے تھے اُس نے وہ منظر بھی دیکھا جب بطور فاتح آپ ﷺ اسی شہر میں داخل ہو تو وہاں کے لوگوں کے تمام جرائم معاف کئے، تمام مظالم بھلا دیئے،شعب ابی طالب بھی،وہ پتھر بھی جو آپ ﷺ کو مارے گئے اور وہ کانٹے بھی جو آپﷺکی راہ میں بچھائے گئے ،یاد رہا توصرف عفو و درگزر اور رحمت و محبت ۔ اور صرف مکہ ہی کیا جہاں جس نے ہتھیار رکھ دیئے اور رحم مانگا یہ سر چشمہ رحمت ، رحمت و محبت ہی رہا۔ آج جب ہم اس عظیم ہستی کا میلاد منا رہے ہیں تو اِن تقاضوں کی شناخت اور پہچان بھی ضروری ہے جو ہمارا مذہب ہم سے کرتا ہے۔ آج جب مسلمان ہی مسلمان کو مار رہا ہے کبھی سیاست کے نام پر، کبھی فرقے کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر اور کبھی نسلی تعصب کے نام پر تو ہم کونسی مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس دین کے پیرو ہو کر کہ جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے لیکن افسوس کہ خود تفرقہ اس دین میں اب آکے پڑا ہے بین الاقوامی معاملات میں تو ہم غیروں کو دوش دے سکتے ہیں لیکن خود مسلمانوں کے اندر سے رواداری کہاں گئی وہ دین جو زندگی کے تمام معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اُس نبیﷺکا پیروکار ہونے کے باوجود جو عا لمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے جس نے دشمن کو بھی معاف کیا جس کے حسن اخلاق نے جانی دشمنوں کو دوست بنایا اُسی کے اُمتی ہونے کے باوجودہم کس راہ پر چل رہے ہیں۔ کوئٹہ میں مسلمان اسلام کے نام پر مارا جاتا ہے، طالبان مسلمان کا خون اسلام اور دین کے نام پر بہا رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس عشق نبیﷺکا دعویٰ کرتے ہیں ۔عشق کے تقاضے بہت مختلف ہوتے ہیں یہاں محبوب کا ایک ایک عمل، ایک قدم مشعل راہ ہو تا ہے اور اس پر قدم رکھنے میں محب فخر محسوس کرتا ہے ۔ تو آیئے اس میلاد پر اپنی راہوں کا تعین کر لیں اور بحیثیت مسلمان یہ طے کر لیں کہ وہ نبیﷺجو غیروں کے لیے،کافروں کے لیے، مشرکوں کے لیے بھی رحمت تھا اُس کے عشق کا دعویٰ ہم تب کریں گے جب ہم خود آپس میں محبت اور رحمت بن جائیں گے۔ وہ نبیﷺجس نے غیر مسلم رعایا کے قاتل کو جنت کی خوشبو سے بھی محرومی کی وعید سنائی،جس نے جنگ میں بھی عورت بوڑھے اور بچے پر ہاتھ اٹھانے سے منع کیا، جس نے جانوروں تک پر رحم کا حکم دیا اور جس نے غلاموں کے حقوق کو مالکوں کے فرائض سے بڑھ کر اہمیت دی اُس نبیﷺکے اُمتی ہونے کا اعزاز اگر خدا نے ہمیں دیا ہے تو پھر قتل و غارت چہ معنی دارد۔ اگر ہم خود کو بہت اچھا مسلمان کہتے ہیں اور اسی لیے دوسرے کے قتل کو روا سمجھتے ہیں تو یاد رکھیے سزا و جزا کا اختیار صرف اُس کو ہے جو عا لمین کا رب ہے اور جب تک کوئی خدا کی حدود کو نہیں توڑتا اُسکی زمین پر کھلم کھلا فساد برپا نہیں کرتا تو کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ اُس کی جان کو قتل کرے کہ انسانی جان کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی مقدس قرار دیا ہے۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان دعویٰ عشق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد میں اور دعویٰ پیروی نبویﷺ پہلے ہواور ایسی پیروی کہ جس میں کوئی حیلہ اور کوئی حجت نہ ہو تو پھر فخر سے خود کو غلامِ مصطفیٰ ﷺ کہلا یئے اور جسے یہ اعزاز نصیب ہو جائے تو گویا دو جہان اسکے قدموں میں ہیں۔

2,335
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 13
Loading...