دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دہشت گردی امریکہ نے شروع کی، فریقین امریکہ اور طالبان تھے لیکن سب سے زیادہ اس جنگ نے پاکستان کو نقصان پہنچایا جانی بھی مالی بھی اور معاشی بھی۔ عمارتیں تباہ، سڑکیں تباہ، فوج مسلسل مصروف جنگ ،پولیس ہمہ وقت ریڈالرٹ، سیکیورٹی اہلکار ہر وقت نشانے پر ،شہریوں کی جان نہ جائے کار پر محفوظ نہ سڑکوں پر غرض ایک قیامت ہے جو ہر جگہ برپا ہے۔ اسی دہشت گردی کی جنگ کی آڑ میں فرقہ واریت ، نسلی اور صوبائی تعصب، بھتہ خوری، اُجرتی قتل سب ہی اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے اس لیے اس کا خاص کر نشانہ بن جانا کچھ زیادہ حیرت انگیز نہیں اگرچہ کراچی مختلف ادوار میںبدامنی کا شکار ہوتا رہا ہے لیکن مو جودہ حالات جن سے کراچی گزر رہا ہے شاید اس کی تاریخ کا بدترین دور ہے انسانی جان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ہر روز یوں قتل عام ہوتا ہے کہ چنگیزی دور کا گما ن گزرتا ہے ۔بے گناہ مقتول تو شناخت ہو جاتا ہے لیکن قاتل کا کوئی علم نہیں جو دندناتا پھر رہا ہے ہر ایک دوسرے پر الزام لگا رہاہے اور قاتل مصروف عمل ہیں ۔کبھی کبھار اگر اس لہر میں کمی آبھی جائے تو صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ کم لاشیں گرتی ہیں۔ کراچی کے حالات کا ہماری معیشت پر جو اثر پڑتا ہے وہ ملک کی معاشی حالت کو مزید دگرگوں کر رہا ہے حکومت چند سطحی سے اقدامات ضرور کرتی ہے لیکن مسئلے کی جڑ پکڑے کی سنجیدہ کوشش ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہمارے ملک میں یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے فوج کی طرف دیکھا جاتا ہے اور اس سے بھی خطرناک رویہ اُس وقت ہوتا ہے جب ایسے آپریشنز کے بعد فوج کو بری طرح ہدف تنقید بنایا جاتا ہے ۔ کراچی میں بھی فوجی آپریشن کی باتیں کافی عرصے سے ہو رہی تھیں جس کے بارے میں بالا آخر آرمی چیف نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بائیس نومبر کو کہہ ہی دیا کہ کراچی میں کسی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں تا ہم فوج کو جب بھی آئین کے مطابق حکومت بلائے تو وہ امن و امان برقرار رکھنے میں حکومت کے ساتھ ہوگی۔ کراچی کا مسئلہ سیاسی بھی ہے لیکن اس پہلو کو نظر اندازکرنا بھی غلط ہوگا کہ آخر کراچی میں اتنا اسلحہ کہاں سے آجاتا ہے اور کیسے استعمال ہو جاتا ہے ۔ہر سیاسی پارٹی اس بات سے انکاری ہے کہ اس کے کارکن کسی ایسی کاروائی میں شریک ہیں تو پھر یہ سب کچھ کرنے والے آخر کون ہیں اور موقع ہاتھ سے جانے کیوں نہیں دیتے اگر یہ سب کچھ سیاسی مخالفت کا شاخسانہ ہے تو محرم میں یہ فرقہ وارانہ قتل میں کیسے تبدیل ہوگیا ۔ اگر لسانی بنیادوں پر ہے تو شیعہ اور سنی کے لیے کسی زبان کی قید بھی نہیں تو پھر آخر کیوں تلاش نہیں کر لیا جاتا ان لوگوں کو جو یہ سب کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہمارے سیاستدان ’’عظیم جذبہئ خیرسگالی ‘‘کے تحت بیرونی ہاتھ کو خارج از امکان قرار دے دیتے ہیں لیکن پھر یہ سب کچھ کون کر رہا ہے اس ’’کو ن‘‘ کی تلاش بھی ضروری ہے اور سزا بھی ورنہ کرنے والا اپنی کامیابی کا جشن مناتا رہے گا اور اہلیان کراچی اپنے پیاروں کو روتے رہیں گے یہ تلاش کامیاب تبھی ہوگی جب کراچی پر دعویٰ جتانے والے اس پر پورے پاکستان کا حق تسلیم کریں گے تو مسئلے کا ایک پہلو تو حل ہو سکے گا۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو فوج اس مسئلے کو دبا تو دے گی اور مجرموں کو بھی شاید پکڑنے میں معاون ثابت ہو لیکن مسئلے کا حل یہ نہیں ،مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنا کام ایمانداری سے کرے امن و امان کا قیام پولیس کی ذمہ داری ہے اور رینجرز اُن کی مدد کے لیے موجود ہیں ۔ مزید یہ کہ اہلیان کراچی اپنے سیاسی لیڈرز کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ کراچی کا امن قائم کرنے اور رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں ایک کارکن کا بدلہ لینے کے لیے صرف نسلی اور لسانی بنیاد پرشناخت کرکے بے شمار لوگوں کو ماردینا کوئی حل اوربہادری نہیں بلکہ اصل حل یہ ہے کہ قاتل کوتلاش کیجئے۔ کیونکہ وہ ،جس کوبدلے میں کو مارا جاتا ہے وہ قاتل نہیں ہوتا اگر ایسا ہوتا تو وہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہوتا۔ حکومت کو کراچی کا امن قائم کرنے کے لیے ہر حربہ آزمانا ہو گا اس کے لیے مختلف گرپوں کے دوسرے ممالک سے رابطے بھی چیک کیے جائیں کیونکہ پاکستان کو جس طرح سے دہشت گردی کی جنگ میں جھونکا گیاہے اُس میں یہ قوتیں ضروری سمجھتی ہیں کہ پورے پاکستان کو مختلف طریقوں سے بدامنی میں مبتلا رکھا جائے تاکہ وہ علاقے میںاپنی اجارہ داری بھی قائم رکھ سکیں اور اپنی موجودگی کا جواز بھی اور پاکستان کو اتنا مجبور رکھ سکے کہ وہ ان طاقتوں کے آگے جھکا ہی رہے۔اس سارے معاملے میں قصور اور ذمہ داری سب سے زیادہ خود ہماری ہے اگر دشمن کو وار کرنے کے لیے ہم لوگ کارندے مہیا نہ کریں تو وہ کسی طرح بھی ہم پر حملہ آورنہیں ہوسکتے ہیں نہ ہی ہمارے ملک کے امن و امان سے کھیل سکتے ہیں بات صرف ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومتوں کی سیاسی جوڑ توڑ میں دلچسپی ختم ہو تو وہ امن و امان کی طرف توجہ دے سکیں گی ۔اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عوام میں دلچسپی صرف ووٹ تک ہے انتخابات کے دنوں میں جو دعوے کئے جاتے ہیں اگر ان میں آدھے بھی پورے کر دیئے جائیں تو ملک کا نقشہ بدل جائے۔ حکومت کو کراچی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اس کی اندرونی و بیرونی تمام و جوہات پر غور کرنا ہوگا اور پھر بغیر کسی خوف اور ڈرکے اس قتل عام کے ہر ذمہ دارکو سخت ترین سزا دینا ہوگی اور بیرونی عناصر کو بھی یہاں سے بہرحال نکال باہر کرنا ہوگا ورنہ انتخابات میں تو شاید آپ پھر بھی کبھی ھکومت حاصل کر سکیں لیکن تاریخ کا سلوک بہت بے رحمانہ ہے وہ اپنے الفاظ نہ واپس لیتی ہے نہ مٹاتی ہے اور نہ نورتنی حوالوں کو قبول کرتی ہے۔

4,992
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...