یوں تو کرہ ارض کا تین تہائی حصہ پانی اور صرف ایک تہائی خشکی پر مشتمل ہے لیکن قابل استعمال پانی کا تناسب صرف تین فیصد ہے اور یہی تین فیصد انسان اور خشکی کے جانداروں کی زندگی کا ضامن ہے۔ بالائے زمین اس قابل استعمال پانی کا سب سے بڑا ذریعہ دریا ہیں اور ابتدائ ہی سے انسان نے اپنی بستیاں انہی دریاوئں کے کنارے بسائیں ۔ دجلہ ، فرات ، نیل اور سندھ ابتدائی آبادیوں اور تہذیبوں کا منبع رہیں۔ سندھ کے پانیوں نے ہمیشہ اپنے کناروں پر عظیم تہذیبوں کو پھلتے پھولتے دیکھا اور اس کے معاون دریاوئں نے ہی پنجاب کے زرخیز میدانوں کو غلے کا گھر بنائے رکھا۔ تقسیم ہند کے وقت جب کشمیر کو حیلے بہانوں سے بھارت کے حوالے کیا گیا تو دیگر مسائل کے ساتھ بھارت نے پاکستان کے پانی کو روک کر اپنی بدنیتی کا ثبوت دیا۔ یکم اپریل 1948کو جب اس نو زائیدہ مملکت کی عمر صرف سات آٹھ ماہ تھی بھارت نے اُن نہروں کا پانی بند کر دیا جن کے ہیڈ ورکس تقسیم کے وقت بھارت میں رہ گئے تھے جس کے بعد مختلف اوقات میں یہ عمل دہرا یا جاتا رہا ۔مذاکرات در مذاکرات کے نتیجے میں 1960 میں سندھ طاس کا معاہدہ طے پایا لیکن بھارت نے اسے بھی وہ اہمیت نہ دی جو ایک بین الاقوامی معاہدے کی ہوتی ہے جب اور جہاں اس کی مرضی ہوئی اس نے معاہدے کو توڑنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کشمیر میں اس نے مختلف دریاوئں اور نالوں پر پن بجلی کے بہتر ﴿72 ﴾ منصوبوں کی تکمیل کا منصوبہ بنایا ہے جن میں سے کئی ایک مکمل بھی کر لیے گئے ہیں ان میں سے بگلیہار اور کشن گنگا بڑے منصوبے ہیں اور ان پر پاکستان نے شدید اعتراض اور احتجاج بھی کیا ہے۔ بگلیہار پر عالمی عدالت انصاف نے بھی پاکستان کے چار میں سے تین اعتراضات قبول کیے اور بھارت سے یکم ستمبر 2012 کو انہیں دور کرنے کو کہا ہے جبکہ کشن گنگا پر بھی کام روک دینے کا کہا گیا ہے لیکن بھارت ہر طریقے سے اس آبی دہشت گردی پر آمادہ ہے ۔ اب بھارت کی سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ بھارت کے مغربی دریاوئں کو جنوبی جزیرہ نمائی دریاوئں سے ملا دیا جائے تاکہ پورے ملک میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ بھارت کے جنوب میں صرف تین بڑے دریا ہیں جن میں مہا ندی ، نرمادا اور تپی شامل ہیں۔ مہا ندی اور کچھ چھوٹے دریا گودواری ،کرشنا اور کاویری خلیج بنگال میں گر جاتے ہیں جب کہ مغربی دریاوئں میں سے دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا بھارت سے ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جن پر بھارت پہلے ہی کئی منصوبے بنا رہا ہے اور یہ منصوبے پاکستان کے حصے کے دریاوئں پر بھی بنائے جا رہے ہیں۔ دریائے جہلم جو بھارت میں دریائے کشن گنگا کہلاتا ہے پر کشن گنگا ڈیم بن رہا ہے اورساتھ ہی مغربی دریاوئں کا پانی خشک ریگستانی جنوبی حصے کے دریاوئں سے ملایا جا رہا ہے اس منصوبے پر چھپن ﴿56 ﴾  لاکھ ملین روپے خرچ ہونگے لیکن بھارت کے اس منصوبے سے ماحول پر جو اثرات مرتب ہونگے وہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔ چالیس ہزار کلو میٹرنہروں کی تعمیر سے پانی کی ایک بہت بڑی مقدار جب صحرائی ، نیم صحرائی اور خشک علاقوں تک پہنچا ئی جائے گی تو پورے علاقے کے موسم پر اثر پڑے گا۔ قدرتی ماحول میں تبدیلی کئی مسائل کو جنم دے گی اور اگر یہ اثرات بھارت تک محدود ہوتے تو اُن کا انددرونی معاملہ ہوتا لیکن ماحولیاتی اثرات ایک علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس منصوبے پر نہ صرف پاکستان کو اعتراض ہے بلکہ نیپال اور بنگلہ دیش بھی اس کے مخالف ہیں اور خود بھاارت کے اندر سے بھی اس کے خلاف کافی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ دوسری طرف اس منصوبے سے پاکستان کے دریاوئں میں بھی پانی کی مقدار پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور پاکستان جو پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اس کے حالات مزید نازک ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے مطابق ان دریاوئں کو 2016 تک جوڑا جائیگا جو کہ بظاہرایک ناقابل عمل منصوبہ ہے یعنی چار سال میں چالیس ہزار کلو میٹر لمبی نہروں کی تعمیر ۔ جبکہ اس منصوبے کے لیے نہ تو Feasibility Study کی گئی ہے اور نہ ہی ماحولیاتی مطالعہ ۔ مگر بھارت ہر صورت اپنی من مانی پر تلا ہوا ہے چاہے اس سے دوسرے ممالک بنجر اور صحرا بن جائیں یا سیلابوں کی نظر ہو جائیں اس سے بھارت کو کوئی سروکار نہیں اور پاکستان کے خلاف تو وہ پانی کی بندش کو روز اول سے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہیے ورنہ پاکستان جو پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اس کے لہلہاتے کھیت بنجر ہو جائیں گے اور اس وقت اگر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ بہت بھی شور مچائے تو کچھ بھی ممکن نہ رہے گا ۔حکومت پاکستان بھی اس مسئلے پر بیرونی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے تا کہ نہ صرف عالمی طاقتیں بھارت کو اس بد ترین دہشت گردی سے روکیںبلکہ اُسے سر زنش بھی کریں اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری پر مجبور بھی کریں ورنہ یہ تنازعہ کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اور دونوں ایٹمی ممالک کسی بھی ایسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

3,594
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...