مسئلہ کشمیر جس نے تقسیم ہند کے وقت ہی سے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر رکھا ہے اور طاقت کی کشمکش کا باعث بھی ہے کشمیر جو پاکستان اور بھارت کے شمال میں واقع انتہائی خوبصورت علاقہ ہے اورتزویراتی لحاظ سے بھی اہم ترین ہے۔ محل وقوع کے اعتبار سے مغرب اور شمالی مغرب سے پاکستان سے جڑا ہوا ہے اور ساتھ ہی ثقافت ،معاشرت اور سب سے بڑھ کر مذہب کے مضبوط رشتے میں بھی بندھا ہوا ہے۔ لیکن اسے بر صغیر کی بد قسمتی کہیے کہ تقسیم ہند کے وقت ہندو راجہ ہری سنگھ یہاں کا حکمران تھا اور اس نے باوجود مسلمان اکثریتی ریاست ہونے کے پاکستان سے الحاق نہ کیا اور بھارت میںشامل ہو کر ایک ایسے تنازعے کی بنیاد رکھ دی جو پچھلے پینسٹھ سال سے خطے کے وسائل کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کا باعث بن رہا ہے۔ راجہ ہری سنگھ نے 25 اکتوبر کو بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرکے ایک بار پھر کشمیر اور کشمیریوں کو بیچ دیا جبکہ ابھی تو کوئی بھی کشمیری اپنی تاریخ کے اُس سیاہ باب کو بھی نہ بھولا تھا جب 1846 میں اُسے مبلغ پچھترلاکھ روپے میں انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ہاتھ بیچا تھا۔ ٹھیک ایک صدی بعد پھر یہ عمل دہرایا گیا ۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے الحاق کی اس دستاویز پر 25 اکتوبر 1948 کو بطور گورنر جنرل بھارت دستخط کرکے اسے منظور کیا اور ساتھ ہی لکھا کہ جونہی ریاست کے حالات بہتر ہوں، قانون کی بالادستی قائم ہو اور مداخلت کا ریہاں سے نکل جائیں تو کشمیر کا الحاق یہاں کے لوگوں کی مرضی کے مطابق پاکستان یا بھارت سے کردیا جائے گا اور اس دستخط کے ساتھ ہی 27 اکتوبر کو بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں اور نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے برصغیر کے لوگوں کی بدقسمتی کا آغاز ہو گیا۔ بھارت نے ہندوستان کی تقسیم کو مجبوراً تسلیم تو کر لیا تھا لیکن پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی اس کے خلاف سازشوں کے کا آغاز بھی کر دیا تھا جس کے تحت 27 اکتوبر کو اس کے اپنی فوجیں کشمیر میں بھیج دیں۔ کشمیر یوں کے حالات اس سے پہلے بھی کچھ اچھے نہ تھے وہ ہری سنگھ اور اس کے آبا و اجداد کے مظا لم کے خلاف پہلے بھی سینہ َسپر تھے اور مسلسل اپنے خون سے اپنی آزادی کی تاریخ رقم کر رہے تھے اب انہوں نے اس تاریخ کو اپنی تاریخ کا وہ یوم سیاہ قرار دیا جسے وہ اب تک مناتے آرہے میں۔ کشمیری دنیا کے ہر کونے میں 27 اکتوبر کو بطور یوم سیاہ منا کر اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ بھارت کی غلامی سے آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ اگرچہ باوجود اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے نہ یہاں استصواب رائے کر ایا گیا اورنہ ہی کسی دوسرے طریقے سے کشمیریوں کے مسائل کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ نائیجیریا میں عیسائی اقلیت کے الگ ملک کے مطالبے کی تو توجیہات تلاش کی جارہی ہیں لیکن کشمیر میں 80% مسلمان اکثریت کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور اس جرم میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے جو لگتا ہے اپنا پچھلا ریکارڈ جو کشمیر کے متعلق تھا تلف ہی کر چکا ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے اخبارات بالخصوص اور دنیا بھر کے با لعموم اسے یاد دلادیں گے کہ اس نے 5 جنوری 1949 کو کشمیریوں کا یہ انسانی حق تسلیم کرلیا تھا کہ ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارسکتے ہیں اور پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک مملکت کا انتخاب کرسکتے ہیں یا آزاد ریاست کی حیشیت سے رہ سکتے ہیں لیکن وہ آج تک اپنے کہے پرعمل کرا نہ سکا اور آج کشمیر اقوام متحدہ کے کاغذات میں سب سے پرانا غیر حل شدہ مسئلہ ہے اور نہ ہی اس کے حل کی مستقبل قریب میں کوئی امید ہے بلکہ اقوام متحدہ اس کے بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔بڑی طاقتیں ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں اپنی مصنوعات کی منڈی تو کھونا نہیں چاہتی اور ساتھ ہی وہ اپنے اسلحے کی عظیم الشان منڈی بر صغیر کو کسی صورت اپنے ہاتھ سے چھوڑنے پر تیار نہیں۔ اس لیے انہیں اس سے کو ئی غرض نہیں کہ کشمیری کس کرب سے گزر رہے ہیں۔ ان کے بچے گولیوں کی بوچھاڑ میں پیدا ہوتے ہیں اور کبھی بچپن میں اور کبھی عین عالم جوانی میں انہی گولیوں کی نظر ہوجاتے ہیں۔ نہ عزتیں محفوظ ہیں نہ جانیں اور نہ ہی گھر بار۔ اور کسی بھی وقت یہ سب کچھ سپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ کی نظر ہوجاتے ہیں، ایسے لا محدود اختیارات کی نظر جن پر کسی فوجی یا پولیس والے سے بھارتی قانون کے مطابق باز پُرس نہیں کی جا سکتی اور مسلمان کشمیریوں کا قتل عام اور آبرو یزی قانوناً کرلی جاتی ہے۔کشمیر کا مسئلہ نہ صرف کشمیریوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے بلکہ پاک بھارت مسائل کی جڑ بھی ہے۔ یہی کشمیر ہے جہاں سے ہو کر پاکستان کے دریا یہاں پہنچتے ہیں اور یہیں پر بھارت ان کا پانی روک لیتا ہے۔ اپریل 1948 میں چوری کا یہ جرم پہلی بار کیا گیا ۔ سندھ طاس کا معا ہدہ ہوا تو بھی بھارت نے اس میں اپنی مرضی کی شقیں شامل کیں اور پھر بھی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رہی اور ہے کہ جب چاہا جہاں چاہا پانی روک دیا کبھی ڈیم بنا کر روکا کبھی سرنگ بنا کر موڑ دیا۔ دراصل اس مسئلے کا حل بھی تبھی ممکن ہے جب کشمیر کا مسئلہ حل ہو یہی حال اسلحے کی دوڑ کا ہے اگر یہ مسئلہ حل ہو اور بھارت اپنی نیت بدل دے تو یہ دوڑ بھی ختم ہو اور عوام پر سکون اور خوشحال زندگی گزار سکیں اور ترقی ان کا مقدر بن سکے۔ کشمیریوں کی نسلیں دراصل اس خطے کی ترقی کی جنگ لڑ رہی ہیں اور بھارت ان کی نسل کشی میں مصروف ہے ۔شہید ہونے والے اور غائب ہونے والے کشمیریوں کی تعداد ہر سال پچھلے سال سے زیادہ ہوتی جاتی ہے اگر کبھی کبھار انسانی حقوق کی کسی تنظیم کو کسی کشمیری کی چیخ سنائی دے بھی دے تو چند دنوں تک اس کی بازگشت رہتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے۔ خود مسلمان ممالک بھی کان بند کئے پڑے رہتے ہیں۔ آج بھی اگر مسلمان متحد ہوجائیں اور مغربی دنیا بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ پر دبائو ڈالیں تو نہ صرف کشمیر ، افغانستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوںکے مسائل حل ہوجائیں اور کوئی مسلمان یوم سیاہ منانے پر مجبور نہ ہو۔ کشمیری پچھلے پینسٹھ سال سے یہ دن منارہے ہیں اور نجانے ابھی کتنے سال اس سیاہ بختی کے باقی ہیں۔ اللہ تمام مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی قوت عطا کرے اور ان کی مشکلات آسان کرے۔

1,693
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...