امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گذشتہ بارہ سال سے مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے جسے اُس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے رکھا ہے اور کسی اسلامی ملک میں کسی غیر مسلم کے خلاف ہونے والامعمولی واقعہ بھی اس قدر اچھال دیا جاتا ہے کہ بات بہت آگے چلی جاتی ہے۔ دو تین سال پہلے یورپین آرگنا ئزیشن آف پاکستان مائنارٹیزنامی این جی او نے پاکستان کواقلیتوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا اوریہی شوشہ کسی بھی مسلمان ملک کے بارے میں کسی بھی وقت چھوڑ دیا جاتا ہے ۔لیکن اگر برما یا میانمار کے بارے میں انسانی حقوق کے کچھ ادارے بولے بھی ہیں تو ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعداور اس بولنے میں بھی وہ زور نہیں جو اتنا خون بہہ جانے کے بعد ہونا چاہیئے تھا۔
برما اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع صوبہ رکھنی جو 36762مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور تاریخی طور پر اراکان کے نام سے جانا جاتا ہے یہاں رو ہنگیامسلمان ساتویں صدی سے آباد ہیں لیکن حیرت ہے کہ میا نمار کی حکومت انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے پر تیار نہیں جبکہ ان مسلمانوں کے آباو اجداد بھی اسی زمین کی پیدا وار ہیں ہاں ان کی ریاست کو انگریز نے دوسری جنگ عظیم میں علاقے سے جاتے جاتے برما کے سپرد کر دیا اور یوں تب سے روئے زمین پر یہ انوکھی مثال قائم ہوئی کہ کچھ انسان کسی بھی ملک کے شہری تسلیم نہیں کیے جا رہے اپنی زمین کے بھی نہیں اگر چہ میانمار کسی بھی اقلیت کے لیے کوئی خوشگوار جگہ نہیں۔ یہ ملک 1962سے فوجی آمریت کے زیر تسلط ہے اور 1988 سے حکومت بغیر کسی آئین اور قانون سازی کے حکومت میں ہے ۔یہاں کسی اقلیت کو مذہبی آزادی نہیں یہاں تک کہ انہیں اپنے مذہبی تہواروں کی چھٹی کے لیے بھی پہلے سے درخواست دینا اور اس کی منظوری کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے جو کہ اکثر اوقات منظور نہیں ہوتی لیکن مسلمانوں کے لیے یہ سختی کچھ زیادہ ہی ہے اور روہنگیا مسلمانوں کے لیے تو یہ پابندیاں نہ صرف زیادہ بلکہ غیر انسانی ہیں۔ انہیں نہ تو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے نہ طبی سہولیات پر ان کا کوئی حق ہے نہ ایک سے دوسرے شہر جانے کی اجازت ہے یہاں تک کہ شادی کے لیے بھی ان مسلمانوں کو حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے اور وہی حکومت جو ان مسلمانوں کو اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کرتی جب کبھی اجازت دے تب ہی شادی ہو سکتی ہے یوں کئی طریقوں سے ان کی نسل کشی جاری ہے۔کبھی ان مسلمانوں کے قتل عام سے ،کبھی ان کے بچوں کو مار کراور کبھی شادی کی اجازت نہ دے کر۔اس ملک کے بڑے شہروں مثلا ینگوں کے رہنے والے مسلمانوں کو ساحل سمندر پر جانا ہو تو بھی انہیں حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے ۔اور اسی حکومت کی ایمائ پر برمی بدھ برمی مسلمانوں کے قتل کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔اکثر اوقات ان مسلمانوں کا قتل عام اس بات پر بھی ہو جاتا ہے کہ ا نہوں نے کوئی جانور کیوں مارا کیونکہ بدھ مذہبی طور پر جانور یا جاندار کی جان لینا گناہ سمجھتے ہیں اور مسلمان ذ بیحے کی سزا میں قتل کر دیے جاتے ہیں اور حکومت اس سارے کھیل میں نہ صرف شریک بلکہ اس کی پشت پر ہوتی ہے۔اس وقت ان مسلمانوں کو انسان تو کیا جاندار کے درجے سے بھی گرا دیا جاتا ہے جن کو مارنا بدھ گناہ سمجھتے ہیں۔ موجودہ فسادات میں جس طرح ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ہے وہ سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر﴿ I﴾96کے تحت جو گیارہ دسمبر 1946کو منظورہوئی نسل کشی چاہے جنگ کے دوران ہو یا امن کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق جرم ہے اور اس قرارداد کی رُو سے اقوام متحدہ کے اراکین اس کو روکنے اورنسل انسانی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن برما میں نسل کشی پر پوری دنیا خاموش ہے جس میں انسانوں کو زندہ جلایا گیاان کی عورتوں اور بچوں کوبے دریغ قتل کیا گیا۔ان فسادات کے لیے جس واقعہ کو جواز بنایا گیا وہ ایک بدھ لڑکی کا قبول اسلام تھا جس کو بعد میں قتل کر دیا گیا اور اس کا الزام مسلمانوں کے سر ڈال دیا گیا حالانکہ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ اگر اس کو اسلام قبول کرنے کے بعد قتل کیا گیا تو مسلمان ایسا کیوں کرتے انہیں تو اس کی حفاظت کرنی چاہیے تھی لیکن دراصل مسلمانوں کو اس بات کی سزا دی گئی کہ کیوں ایک بدھ لڑکی نے ان کا مذہب قبول کیا جبکہ خود یہ لوگ جبرا مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کے مطابق انہیں بھی بدھ مت قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔برما میں مسلمانوں کے خلاف بدھوں کا مخاصمانہ رویہ کوئی نیا نہیں تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب یہاں کے بدھوں نے مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ رویہ اختیار کیا اور ان کے انہی مظالم سے تنگ آ کر یہ مظلوم مسلمان بنگلہ دیش کا رخ کرتے ہیں مگر وہاں سے بھی انہیں نکال دیا جاتا ہے یا انہیں انتہائی نا مساعد حالات میں مہاجر کیمپوں میں رکھا جاتا ہے یا یہ مظلوم روہنگیا مسلمان تھائی لینڈ کے مہاجر کیمپوں میں ایک تکلیف دہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان میں سے کچھ برمیوں ہی کے نام سے بغیر شہریت کے کراچی اور سعودی عرب میں آباد ہیں لیکن کیا ان کا یوں بکھرے رہنا مسئلے کا حل ہے یقینا نہیں بلکہ اس کا مستقل حل نکلنا چاہیے اور اس کے لیے سب سے زیادہ ذمہ داری او آئی سی کی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ان مسلمانوں کے حق میں مضبوط آواز اٹھائے۔ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1.56بلین ہے جو کہ دنیا کی کل آبادی کا تقریبا 23فیصد بنتا ہے تو کیا اتنی بڑی تعداد آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کوان کا حق نہیں دلا سکتی ۔اگر یہ سب اس چیز کا انتظار کر رہے کہ دوسرے ان کی مدد کریں گے تو ایسا ہر گز نہیں ہے غیر مسلم دنیا تو خود مسلمانوں کے در پے ہے۔ ہاں جب مسلمان حکمرانوں کو اپنے شوق حکمرانی سے فرصت ملے گی اور وہ اس مسئلے کو توجہ دیں گے تو یقینا اس کا حل نکل آئے گا۔ اس مسئلے کو اقوام متحدہ تک پہنچ جانا چاہیے اوراس پر اسی طرح کا کوئی فیصلہ آنا چاہیے جیسا کہ ایسٹ تیمورکے صرف دس گیارہ لاکھ لوگوں کے لیے الگ ملک کی صورت میں آیا۔آخربرما کے ان مسلمانوں کے لیے ان کے حقوق کی بات کیوں نہیں کی جارہی جو آزادذرائع کے مطابق اس کی آبادی کا دس فیصد ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اگرچہ معاملے کا نوٹس تو لے لیا ہے مگر سرسری سا۔ ان غیر انسانی مظالم سے ان مسلمانوں کی نجات کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آ رہا یہاں تک پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خاموش ہیں کیا بہتر نہ ہوتا کہ وہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتیں ۔ہمارا الیکٹرانک میڈیا اس معاملے پر جس مجرمانہ انداز میں خاموش رہا وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ حدیث شریف کے مطابق مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں کہ جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے تو ہمیں اس تکلیف کو محسوس کر لینا چاہیے اگر ہمارا میڈیا ان ز ندہ جلتے ہوئے مسلمانوں کے کلپس دکھاتا ان روتے بلکتے بچوںاور بے آبرو عورتوں کے کرب میں ڈوبے چہرے دکھاتا تو شاید عالمی ضمیر جاگ ہی اٹھتا اور میانمار کے مسلمانوں کو انسان سمجھتے ہوئے ان کی مدد کے لیے آگے بڑھتا تو ہزاروں مسلمان چند دنوں میں کاٹ نہ دیئے جاتے اور برمی وزیراعظم انہیں اپنی ہی زمین سے بے داخل ہونے کا حکم نہ دیتا ۔امن کی نوبل انعام یافتہ برمی آن سان سو چی اپنے نوبل انعام کی لاج رکھتے ہوئے ہی ان کے حق میں کچھ بول لیتی ۔مسلمان عوام تو پوری دنیا میں بولے اور پورے کرب کے ساتھ بولے لیکن ان کی آواز ابھی تک تو صدابصحراہی ثابت ہوئی ہے۔ خدا کرے مسلمان حکمران بولیں اور پورے زور سے بولیں، متحد ہو کر بولیں، خلوص سے بولیں تویقینا یہ سب جذبے ان کی طاقت بن جائیں گے ایک ایسی طاقت جو مخالف پر لرزہ طاری کر دے۔ نہ صرف روہنگیابلکہ برما کے دوسرے مسلمان بھی اسی جذبے کے منتظر ہیں ہمیں برمی مسلمانوں کی اخلاقی، مذہبی اور سفارتی سطح پر مدد کرنا ہو گی کیونکہ یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے اور باقی دنیا کو ایسا کرنے پر مجبور کرنا ہو گااور یہ یاد دلانا ہوگا کہ ان کی مدد بھی ان انسانی حقوق کے علمبردار وں کاانسانی فریضہ ہے۔

2,308
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...