سیاست اور اہل سیاست کسی بھی ملک و قوم کی قسمت کے مالک ہوتے ہیں ملک کی ترقی اگر اہل ہنر کے ہاتھ میں ہے تو یہ ہنر مند، ان کا ہنر اور اس کے استعمال کی تمام تر منصوبہ بندی یہی اہل سیاست کرتے ہیں اور بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جس میں ذمہ دار، با وقار اور فرض شناس سیاستدان موجود ہوں جو سیاست کو ذریعہ خدمت سمجھتے ہوں نہ کہ حصول حکومت کا ذریعہ۔ پاکستان بنا تو انہی سیاستدانوں کی محنت تھی، جنہوں نے بڑے سلیقے سے یہ جنگ لڑی اور جیتی اور وجہ اس کا میا بی کی یہ تھی کہ ایک بے غرض اور ایماندار قائد ان کی رہنمائی کر رہا تھا جسے حکومت کا لالچ تھا نہ اختیارات اور شہرت کی ہوس۔ لیکن افسوس ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور انکی وفات کے بعد بہت جلد ملک سیاسی بھیڑ چال کا شکار ہوگیا ۔حکومت پر حکومتیں بدلتی رہیں اور انہی حالات نے ملک میں پہلے ما ر شل لا کا جواز فرا ہم کیا اور یوں سیاسی حکومت کا عمل خود اہل سیاست کی نا اہلی کے سبب رک گیا اور پھر مارشل لا کی حمایت میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا گیا۔ ملک ٹوٹا لیکن اقتدار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا اس بہت بڑے قومی نقصان کے بعد آئین بنایا گیا، جمہوریت کچھ ہی سال چلی ، الیکشن ہوئے ، ایک بار پھر اقتدار کی ہوس ، حکومت جانا نہ چاہیے حزب اختلاف خود حکومت کرنے کی آرزو مند، روز روز ہنگامے ، توڑ پھوڑ، گولیا ں اور ایک بار پھر جمہوریت کا باب بند کر دیا گیا تھا ۔ ما رشل لا لگا اور اب جو سیاستدان ایک دوسرے کو مارشل لا کا ساتھ دینے کا طعنہ دیتے نظر آتے ہیں سب نے اس مارشل لا کی حمایت کی اور کئی ایک نے تو اپنی سیاست شروع ہی ادھر سے کی اور آج یہی لوگ کچھ تلخ قسم کے ذاتی تجربات کے بعد اٹھتے بیٹھتے فوج کو مطعون کرتے رہتے ہیں ۔ایسا ہر گز نہیں ہے کہ فوج میں نا پسندیدہ عناصر نہیں ہونگے، یقیناً ہونگے کیونکہ کسی بھی انسان کی طرح یہاں بھی انسان ہیں اگر چہ یہ سخت ترین ٹریننگ سے گزر کر اپنی ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کرنا کافی حد تک سیکھ جاتے ہیں تاہم وقت ان میں سے بھی کچھ پر اپنا اثر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنی تربیت کا حق اس طرح ادا نہیں کر پاتے۔ لیکن یہ لو گ اتنی کم تعداد میں ہوتے ہیں کہ بہر حال یہ اپنے ادارے اور اس کے بارے میں عام تاثر پر اثر انداز نہیں ہوتے اور کسی ایک جاہ و حکومت پسند جنرل کے فعل کی وجہ سے پورے ادارے کو بدنام کرنا کسی طرح بھی قر ین انصاف نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں بہتری اور خوبی کی کوئی گنجائش نہیں ضرور ہے لیکن جگہ ہنسا ئی کروا کر نہیں۔ ہم اپنے اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے ان کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے نہ وقت سے سبق سیکھا اور نہ تاریخ سے۔ وہ صرف اپنی سیاست کو چمکانے میں لگے ہوئے ہیں ایک دوسرے پر حملے ایک دوسرے کے ادوار حکومت پر تنقید ،جب جس کا مفاد عدالت سے وابستہ ہو عدالت ، عدالتی نظام اور منصف عظیم ہو جاتے ہیں اور جب فوج کے تحفظ کی ضرورت ہو تو اس کی حمایت کر دیتے ہیں، جب کہ دوسرا فریق ان کی شدید مخالفت میں مصروف ہو جاتا ہے بغیر کسی دور اندیشی کے اور بغیر کسی معاملہ فہمی کے ۔ یہی کچھ آج کل کیا جارہا ہے۔ ایک عجیب رسہ کشی ہے جو سیاستدانوں میں چل رہی ہے اور اُس میں باعزت اداروں اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں ۔وہ توانائی، وہ سوچ ، اور فہم جو ملکی ترقی میں استعمال ہونی چاہئے الزام تراشی اور تباہی کے اسباب پیدا کرنے میں صرف ہو رہی ہے، جو مہارت دشمن کے خلاف استعمال ہونی چاہیے وہ تمام چالیں ایک دوسرے پر آزمائی جا رہی ہیں۔ اسی سیاسی لڑائی کاخمیازہ ہم ایک بار مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں بھگت چکے ہیں ،نہ اکثرت کے فیصلے کو حکومت پر قربان کیا جاتا اور نہ ملک ٹوٹتا۔ملک آج بھی کچھ اچھے حالات میں نہیں ہے دہشت گردی نے ہمارے معاشرے کو جہاں ایک طرف مادی نقصان پہنچا یا ہے دوسری طرف اسے اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ ترقی کا عمل عملا رکھا ہوا ہے اس پہیے کو چلانے کی فکر کسی کو نہیں۔ ہاں اپنے اپنے بیرونی ملک کاروبار کو زیادہ اور اندرون ملک کوکچھ کچھ ترقی دینے کی فکر ضرور ہے اور پھر اندرونی و بیرونی کاروباروں سے حاصل شدہ آمدنی کو سوئس بینکوں کا کاروبار چمکانے کے لیے وہاں رکھ دیا جاتا ہے جو پاکستانیوں کے یہ اٹھارہ ہزار ارب روپے یعنی 450 ارب ڈالر کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اس سرمائے کے زیادہ تر مالکا ن پاکستانی سیاستدان ہیں۔ اگر وہ ملک پر یہی احسان کر لیں کہ اپنا یہ سرمایہ ہی یہاں لے آئیں تو ہمارے بینک اور زرمبادلہ کہاں سے کہاں پہنچ جائیں۔ وہ خود ہی اس رقم سے کاروبار کریں لیکن سرمایہ پاکستان میں رکھیں بس یہی انکی مہربانی ہوگی لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ کیا ان کو خود بھی اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں اگر ایسا ہی ہے تو عوام کیسے ان پر اعتماد کر سکتے ہیں۔

یہی کھیل کھیلتے کھیلتے ہمیں چونسٹھ سال گزر گئے ہیں۔ اس کھیل میں ہم نے بہت کچھ کھویا ہے اور جو کچھ پا لیتے ہیں اُسے بھی بڑی آسانی سے کھو دیتے ہیں ۔چاہے قومی وقار ہو، تجارت ہو ، ترقی ہو، سائنس اور ٹیکنالوجی ہو حالانکہ دنیا بھر میں کام کرنے والے پاکستانی ہنر مند ،سائنسدان ،ڈاکٹر اور انجنئیر بہترین مانے جاتے ہیں مگر پاکستان میں یہ سارا ٹیلنٹ بھی سیاسی جھگڑوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی بر سر اقتدار آکر اپنے ووٹرز اور حامیوں کو نوکریوں اور بڑے بڑے عہدوں سے نواز دیتی ہے اور اگلی پارٹی حکومت میں آکر انہیں فارغ کر دیتی ہے ان میں ان عہدوں اور نو کریوں کے اصل حقدار دونوںبار بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ اعلیٰ عہد ے تو ایک طرف چپڑاسی، نائب قاصد اور ایل ڈی سی جیسی نوکریوں کے لیے بھی پارٹی رہنمائوں کے رقعے ساتھ ہوتے ہیں اور صاحبان حکومت سے ٹھکر لے کر تبادلہ کروا لینا کسی کسی کے ہی بس کی بات ہوتی ہے لہٰذا نوکریاں ادھرہی تقسیم ہو جاتی ہیں۔

ان ساری باتوں اور کوتاہیوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ ارباب اختیار اور ارباب سیاست کو یہ یاد دلانا ہے کہ اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اگلا قدم اٹھانا آپ کی پچھلی غلطی کا ازالہ کر سکتا ہے۔ اس وقت آپ کے پاس غلطی کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ حالات کی نزاکت کا احساس کیجیے ایک دوسرے پر الزامات کو ہی سیاست مت سمجھ لیجیے غلطیوں کی نشاندہی کریں اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اپنی پارٹی بلکہ اپنے ذاتی دور حکومت کا انتظار مت کیجیے اور مخالفت میں اس حد تک مت جائیے کہ آپ کی تنقید ذاتی دشمنی بن جائے ۔اس مٹی کا حق ہماری طرح آپ پر بھی ہے اس کی ترقی میں آپ کا حصہ عوام سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے ۔عوام تو حکومتی اور دیگر ارکان اسمبلی کے خرچے کے لیے اپنے حصے کے دو وقت کے کھانے میں سے ٹیکس پر ٹیکس دے کر نڈھال ہے ۔ہر محنت کش ہر روز اپنی کمائی اس امید پر گنتا ہے کہ شاید آ ج وہ کھانے پینے سے کچھ پس انداز کرکے کل اپنے بچوں کے لیے نئے جوتے اورکپڑے لے آئے گا لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ ہر چیز کی اصل قیمت کے ساتھ ساتھ ایک ٹھیک ٹھاک رقم بطور ٹیکس دے دیتا ہے اور وہ جنہیں کروڑوں میں ٹیکس دینا چاہیے وہ اپنے جائیداد صرف لاکھوں میں ظاہر کرتے ہیں کسی غریب کروڑ پتی ممبر اسمبلی کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہے تو کوئی پانچ لاکھ کا قرض دار ہے جبکہ ان کی ایک ایک لباس اور ایک ایک پرس اور بیگ کی قیمت لاکھوں میں ہے انہی لاکھوں کو اس نیت سے ایک چھوٹے سے کاروبار میں لگا دیجئے کہ آپ کی اپنی ہی جائیداد میں اضا فہ ہو یوں کچھ لوگوں کی ملازمت تو لگ جائے گی ۔لیکن اتنا سوچنے کا وقت کس کے پاس ہے۔

جب ملک ہاتھوں سے جائے اور ملت کی آنکھیں کھل جائیں تو کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہمارے عزت ،دولت، شہرت بلکہ حکومت بھی اس ملک سے ہے تو کچھ تو اس کی بھی فکر کیجیے ۔تنقید بلکہ خود ملک مخالف پروپیگنڈے سے باز آئیے۔ فکر آشیاں بجا لیکن فکر چمن بھی کیجیے اور ماضی قریب کے وہ سارے کردار ذہن میں رکھیئے کہ جب وطن سے نکالے گئے تو زندگی رہی نہ عزت اور نہ جاہ و حشمت ۔شاہ ایران اور مارکوس ایران اور فلپائن سے نکلے تو پھر کچھ بھی نہ تھے۔ لوگ منتظرہے کہ کوئی جناح نہ سہی کہ قائداعظم بن سکے اب ملک ویسے بھی بن چکا ہے بس اب کوئی سنبھال کر رکھنے والا مخلص رہنما ہی میسر آجائے تو مٹھی کا حق ادا ہو جائے گا۔ عوام کی زندگی آسان ہو جائے گی اور اقوام عالم میں پاکستان اور پاکستانی پھر سے با عزت مقام پر فائز ہو سکیں گے۔ اللہ ہماری حفاظت اور حمایت کرے ۔

3,639
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 6
Loading...