اللہ ہمارے ملک پر رحم اور کرم کرے اب تو بس دعا کی جا سکتی ہے کہ ہر طرف خود غرضی کی ایک ایسی ہوا اڑی ہوئی ہے جس میں ملک اور قوم کا چہرہ کہیں نظر نہیں آتا اور آئے بھی تو دھند میں لپٹا ہوا۔ صاف نظر آتے اور ثابت شدہ مجرم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ صاحبِ اختیار اور نوازے ہوئے ہیں۔ اگر یہ فہرست مرتب کی جائے تو بہت سے پردہ نشینوں کے بھی نام آئیں لیکن آج کل نہ معلوم امریکہ میں سفیر برائے پاکستان یا امریکہ کا سفیر برائے پاکستان حسین حقانی صاحب باوجود مجرم ثابت ہونے کے نہ صرف آزاد ہیں بلکہ اب تو کھل کر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ 13 جون 2012 کو واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں وہ حسب ِمعمول امریکی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی امریکہ کے خلاف جو جذبات رکھتا ہے رکھے، یہ اُس کا حق ہے لیکن ایک سفیر کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے ملک کی پالیسیوں اور عوام کا دفاع کرے جو حسین حقانی نے اپنے دورِ سفارت میں بھی نہیں کیا اور اب تو بالکل ہی نہیں کر رہے۔ اپنے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ کسی ایک ملک کی کسی دوسرے ملک کی مخالفت اس کے لوگوں اور آب و ہوا سے نہیں ہوتی بلکہ اُن پالیسیوں سے ہوتی ہے جو اس کے لیے نقصان کا باعث ہوں۔ حسین حقانی بجائے پاکستان کا مقدمہ لڑنے کے امریکہ میں پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکا رہے ہیں جو کسی طرح درست نہیں اگر وہ بقول اُن کے پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کے لیے کام کرنے کے جرم میں پکڑے گئے ہیں تو یہ یاد رہے کہ یہ تعلقات صرف اس صورت میں بہتر رہتے ہیں جب پاکستان تابعداری کا مظاہرہ کرتا رہے اور حسین حقانی کے دور میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا۔ مسٹر حقانی نے نہ صرف عدالتی فیصلے کو جانبدار انہ قرار دیا بلکہ اس فیصلے کو ملک ریاض، ارسلان افتخار کیس سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ بھی لکھا۔ واقعی ایسا ہے یا نہیں مجھے اس سے بحث نہیں لیکن یوں دوسرے ملک میں اپنے ملک اور اس کے اداروں کی تذلیل کرنا قرین انصاف نہیں ،یہ فیصلہ یا وہ فیصلہ یا چاہے جو بھی فیصلہ ہو، اسے صرف ملکی مفاد میں ہونا چاہیے۔ بقول حقانی کے جہادی انہیں امریکہ نواز سمجھ کر ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں یہ امریکہ کی ہمدردی کے حصول کی چال تو ہو سکتی ہے حُب الوطنی کی کوئی مثال نہیں۔ حسین حقانی اس بات کے دعویدار ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ دونوں ملکوں کے بہتر تعلقات کے لیے کام کیا تو انہیں اس کام کے نتائج بھی بتانے چاہیں کہ اِن سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا، کیا یہاں دہشت گردی کو قابو کیا گیایا انسانی جان اور مال کو محفوظ بنایا جا سکا؟ پاکستان کے عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ملک میں امن ہو، وہ غم روزگار سے کہاں اتنا وقت نکالیں کہ امریکہ کے خلاف منصوبے بنائیں اِن کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ان کے ملک کے خلاف پالیسیاں نہ بنائی جائیں اور کاروائیاں روک دی جائیں تو اگر حسین حقانی اتنے بااثر تھے کہ وہ کہتے ہیں کہ میمو کی حوالگی کے لیے انہیں منصور اعجاذ کی مدد کی ضرورت نہیں تھی بلکہ وہ بلاواسطہ بھی یہ کام کرسکتے تھے تو انہوں نے وہی اثر و رسوخ ڈرون حملے، دو مئی اور دہشت گردی روکنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا۔ بلکہ وہ تو بجائے یہ سب کرنے کے امریکہ کو مزید برانگیختہ کرنے کی کوشش میں مبتلائ ہیں۔ مسٹر حقانی اگر واقعی امریکہ میں اتنے ہی ہر دلعزیز ہیں تو امریکیوں کو یہ احساس دلائیں کہ پاکستانیوں کے دل جیتنے کے لیے آٹے، دال اور گھی کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی پالیسیا ں پاکستان دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ یو ایس ایڈ نہ دی جائے لیکن دہشت گردی ختم کی جائے اورڈرون حملے روکے جائیں۔ وہ امریکیوں کو یہ باور کرائیں کہ پاکستانی امریکی عوام سے نہیں امریکی حکومت کی ہٹ دھرمی سے نالاں ہیں۔ یہ امن کو ترسے ہوئے لوگ امن سے محبت کرتے ہیں امریکہ اگر اِن کے مسائل کی وجہ بننا چھوڑ دے تو انہیں اُس سے کوئی پر خاش نہیں۔ یعنی حسین حقانی اور امریکہ دونوں کو پاکستانیوں کے دل جیتنے کے لیے اپنے احسانات یاد دلانے کی نہیں اپنا کردار اور رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

1,848
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 7
Loading...