آج کا دور اگر الیکٹرانک میڈیا کا دور کہلائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ملکی معاملات میں یہ جو کردار ادا کررہا ہے اس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں اورمعاشرتی رویوں کے اُتار چڑھاومیں بھی یہ اہم ترین کردار کا حامل ہے ۔ایسے میں چاہتے نہ چاہتے ہوئے خود بخود معاشروں نے خود کو اس کے حوالے کردیا ہے۔ پاکستان میں آزاد نجی الیکڑانک میڈیاکی آمد نے جہاں لوگوں کو پی ٹی وی کا سرکاری خبر نامہ سننے کے جبر سے آزاد کیا وہی پرنٹ میڈیا کو بھی پیچھے دھکیل دیااوروہ لوگ جو اخبارات میں شائستہ، سنجیدہ اور شستہ زبان میں مضامین پڑھتے تھے وہ بھی ٹیلی وژن کے آگے بیٹھ گئے اور ہر روز برپا ہونے والا وہ زوردار’’ معرکہ ‘‘ دیکھنے لگ گئے جو ہوتا تو سیاسی مخالفین کے درمیان ہے لیکن محسوس دو دشمنوں کے درمیان ہوتا ہے۔ جس میں مہمان ومیزبان دونوںکسی ضابطہ ئ اخلاق کے پابند نظر نہیں آتے۔ مہمان تو خیربلائے ہی دھماکہ خیزی کے لیے جاتے ہیں میزبان بھی باقاعدہ فریق کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ان اینکرز کے تندوتیز سوالات یہ تاثر دیتے ہیں کہ اِن سے بڑھ کر نہ تو ملک کا کوئی خیرخواہ ہے اور نہ بڑا دانشور، اگرچہ یہ رویہ کچھ چینلز کے کچھ اینکرز کا ہے لیکن کچھ اس طرح سے میڈیا پر حاوی نظر آتا ہے کہ کسی معتدل مزاج چینل اور اینکر کو اس میدان میں پنپنے نہیں دیتا۔اگران اینکرزکی شان وشوکت کا موازنہ ایک عام صحافی سے کیا جائے تو زمین وآسمان کا فرق صاف نظر آتا ہے جبکہ یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ صرف دس پندرہ سال اور بعض اوقات تو صرف پانچ چھ سال پہلے بھی یہ عالی شان اینکرز موٹر سائیکل سوار تھے لیکن آج یہ شا ن دار گاڑیوں کے مالک ہیں مگر کیسے؟ارسلان افتخار، ملک ریاض کیس نے ان کے پول کھول دیئے ہیں یہ ضروری نہیں کہ ملک ریاض نے جو فہرست شائع کی ہے اور جو خطیر رقم ان نامور “محبان وطن”کے نام منسوب کی ہے وہ درست ہی ہو لیکن پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے۔ ایک نجی چینل کے ملک ریاض کے ساتھ انٹرویو نے تو اس سب کچھ کی صرف ایک جھلک دکھائی ہے۔ اس فہرست میں جو اینکرز خواتین وحضرات شامل ہیں ان سے جب اس بارے میں بات کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اثاثے ڈیکلیئر کریں تو ایک’’ حیرت انگیز ‘‘جواب ملتا ہے کہ ہم ایسا کرنے کو تیار ہیں لیکن اگر ہمارے مالکان اجازت دیں ۔سوال یہ ہے کہ کیاآپ کے مالکان آپ کی ذاتی زندگی کے بھی مالک ہیں؟ اگر آپ کا دامن صاف ہے تو فوراًعوام کے سامے خود کے پیش کیجئے اور اپنی پوری برادری کے اوپر لگا ہوا داغ دھو ڈالیے۔ عوام ملک ریاض کے ماضی کو دیکھتے ہوئے شایداس فہرست پر زیادہ اہمیت نہ دیتے لیکن خود چینلز جب ایک دوسرے کے آگے ٹھن گئے تو وہ پول بھی کھل گئے جو ملک ریاض نہیں کھول سکا تھا۔ ایک اینکر نے اس گاڑی کا نمبر تک بتایا جو تحفتاً لی گئی تھی لیکن ان صاحب کا نام لینے سے بوجوہ گریز کیا اب پیشہ ورانہ ایمانداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ یا آپ بات نہ کرتے یا پوری کرتے وسوسے ڈالنے والوں میں کیوں شامل ہوئے ہیں کہ یہ تو چاہے جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ان سے پناہ مانگی گئی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ بحریہ ٹاو،ن کی طرف سے جاری کی گئی فہرست جس کی اُن کی طرف سے تردید آچکی ہے اس کو لوگوں نے اس لیے درست مانا کہ ایک عرصہ سے وہ عین الیقین سے ان معاملات کا مشاہدہ کرتے آرہے تھے انہیں صرف ثبوت چاہیے تھے جو خود میڈیا نے مہیا کیے۔ ورنہ اس فہرست میں تو شاید کئی بے گناہ بھی شامل کئے گئے ہوں جن کے لباس اور شان و شوکت وہ نہیں جو لینے والوں کی ہوتی ہے واللہ العلم۔ لیکن ایک اور سوال یہ ہے کہ حکومت، اپوزیشن، جرنیلوں اور سرکاری افسران پر مسلسل یہ دبائو ڈالنے والے کہ وہ اپنے اثاثہ جات ظاہر کریں خود ایسا کرنے پر کیوں تیار نہیں اپنے میڈیا مالکان سے جو رقم وہ لیتے ہیں حلال تو وہی ہے کیونکہ وہ طے شدہ ہے لیکن اس کو بھی اس حد تک نہ لے جائیں کہ اس کے بدلے چاہے وہ آپ سے کوئی بھی غلط کام کروانا چاہیں اس کے لیے آپ مجبور ہوں۔ شنید کے مطابق ان اینکرزکی تنخوا ہیں لاکھوں میں ہیں، اگر ان میں سے کچھ اُن رپوٹرز کی بروقت تنخواہوں کے لیے مختص کردیے جائیں جنہوں نے ایک بار مجھ سے یہ درخواست کی تھی کہ میں ان کے مسائل کے بارے میں لکھوں کہ کس طرح ان کی چار اور چھ ہزار تنخواہ بھی اکثر مہینوں بعد ملتی ہے، تو شاید ان کا بھی کچھ بھلا ہو اور وہ زیادہ دلچسپی کے ساتھ اپنا کام کرسکیں او ر اپنے گھروں کے چولہے جلاسکیں۔آج سے تقریباً چار سال پہلے جب اس فہرست میں شامل ایک مرد اور خاتون اینکر سے میں نے بذریعہ ای میل ان کے اثاثے ظاہر کرنے کو کہا تو ایک نے تو جواب دینا ہی مناسب نہ سمجھا اور دوسرے نے کسی مناسب وقت کا وعدہ کیا جو ہنوز انہیں میسر نہیں ہوسکا ہے۔ میں ان تمام اینکرز سے یہی کہوں گی کہ یہ مت سمجھیں کہ اللہ نے صرف آپ کو صلاحیت دی ہے آپ سے زیادہ با صلاحیت لوگ برس ہا بر س کی محنت کے بعد بھی تہی دامن رہتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے اور اگر آپ میں کچھ صلاحیت بھی ہے تو اسے ملک میں انتشار نہیں محبت پھیلانے کے لیے استعمال کریں ۔پیسہ آپ کے دنیاوی مسائل کو کم ضرور کردیتا ہے لیکن اعمال کے عذاب کو نہیں ٹال سکتا۔ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے کردار کا بے داغ ہونا بے حد ضروری ہے اپنے مالک حقیقی پر یقین رکھیں وہی آپ کا رازق ہے آپ کے اصل اور مکمل اثاثہ جات آپ کا ایمان اور یہ وطن ہیں۔ برائیاں ضرور اُجاگر کریں لیکن اپنے ایمان اور اس ملک کی قیمت پر نہیں۔

3,852
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 6
Loading...