امریکہ پاکستان کے ساتھ دوستی اور اتحادی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن خود بقول امریکی اخبار واشگن پوسٹ کے، دوست کے دشمن کے سامنے دوست کا مذاق اڑانے سے دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔اس اخبار نے یہ بات امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا کے دورہ بھارت کے تناظر میں لکھی۔ خبر میں بتایا گیا کہ بھارت میں ایک جگہ خطاب کے دوران انہوں نے تمسخر آمیز انداز میں دو مئی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو اس لیے بے خبر رکھا کہ ہم یعنی امریکہ آپریشن کرے گا اور پاکستان کی بہادر افواج بس تماشا دیکھیں گی۔ مسٹر پینیٹاظاہر ہے طاقت کے نشے میں مست پاکستان جیسے چھوٹے ملک کا مذاق اُڑانااپنا حق سمجھتے ہیں لیکن یہ سارا غصہ اِس چھوٹے ملک کی اُس جرات کی سزا ہے جو اُس نے کی یعنی دس سال تک امریکہ کے ہر حکم کی بجاآوری کے بعد جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور حکومت کو اُن کی خواہش کے عین مطابق افغانستان کو نیٹو سپلائی منقطع کرناپڑی اور امریکہ کی پوری کوشش کے باوجود اکتوبر سے بند یہ سپلائی دوبارہ نہیں کھولی گئی اور کھلنے کی صورت میں بھاری معاوضہ طلب کیا گیا جس پر امریکہ راضی نہیں تو اس نے اپنا انداز اور لہجہ دونوں بدل دئیے۔ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زمین کسی کو استعمال نہ کر نے دے لیکن انسانی حقوق کا دعویدار اور ٹھیکدار امریکہ ایسا کرنے سے انکاری ہے اوراُس کی طرف سے مسلسل پاکستان پر دباو ڈالا جارہا ہے بلکہ اب تو یہ دبائو بھارت کے ذریعے بھی بڑھایاجارہا ہے جسے وہ بڑے شوق سے پورا کرنے پر تیار ہے کیونکہ ظاہر ہے اُسے تو پاکستان کے خلاف ایک موقع چاہیے۔
امریکی وزیردفاع کے بقول پاکستان کے رویے سے اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے یعنی جب تک کوئی ملک امریکہ کی جی حضوری کرے اُس وقت تک وہ اس کا دوست ہے جونہی اپنے حقوق کی بات کر ے وہی دوست دشمن میں تبدیل ہوجاتا ہے۔امریکہ کے لیے اولین ترجیح دنیامیں صرف اسکا مفاد ہے چاہے اس کے لیے اُسے دوسرے ممالک اور اسکے عوام کی قربانی دینی پڑے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں ڈورن حملوں کو وہ اپنا حق قرار دیتا ہے جس میں سینکڑوں لوگوں کو مارا گیا۔ اب یہ امریکہ بھی یقینا نہیں جانتا کہ اُن میں کتنے دہشت گرد تھے، تھے بھی یا نہیں۔ نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد تو اِن حملوں میں اعلانیہ غیرمعمولی اضافہ کیاگیاتاکہ اس طرح پاکستان پر دبائو ڈالاجاسکے۔ اس بندش سے امریکہ جو خسارہ اُٹھارہا ہے اُسی سے اُسے یہ حساب لگا لینا چاہیے کہ ابھی تک حکومتِ پاکستان اُسے اپنے عوام کی مرضی کے عین خلاف کتنی بڑی مدد دیتی رہی اورافسوس کہ اپنے جان ومال، اقتصادیات، معیشت، ترقی اورہر چیز کی قربانی دے کر امریکہ کی جنگ لڑتی رہی، یقینا اس میں عوام کی ایک فیصد بھی مرضی نہیں تھی بلکہ میں اور میرے جیسے دوسرے درد مند پاکستانی چیختے رہے، اپنوں کے خون پر اور قومی نقصان پر روتے رہے مگر ہماری حکومتیں امریکی دفاع پر مامور رہیں لیکن اُس کا انجام یہ ہوا کہ امریکہ نے نہ تو پاکستانی عوام، نہ پاکستانی حکومت اور نہ ہی سرحدوں کی پاسداری کی۔ دو مئی اور پھر چھبیس نومبر2011 کو وہ ہمارے ملک میں جوکرکے گیا وہ اس کے خبیث باطن کی نشانی ہے جس کا اظہار لیون پینیٹا نے انتہائی بھونڈے انداز میں جاکر عین دشمن کی چوکھٹ پر کیاکیونکہ وہ جانتا تھاکہ یہاں اُسے اس کی اس بدگوئی کی انتہائی داد ملے گی۔ ہمدردی اُسے بھارت سے بھی نہیں ہے لیکن اُسے پاکستان کے خلاف ایک موثر مہرہ چاہیے جو اُسکے مقاصد کے حصول میں اُسکی مدد کرے اس کے لیے امریکہ اُسے کھلے دل سے رشوت بھی دے رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں امریکی وسلنگ الیکٹرک کمپنی نے بھارت سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ بھارت کے صوبہ گجرات میں ایٹمی ری ایکٹر لگائے گی جبکہ پاکستان کو کوئی دوسرا ملک بھی اس طرح کی پیشکش کرے تو امریکہ اُسکی کھل کر مخالفت شروع کر دیتا ہے۔ اس وقت تو اسے اپنے فرنٹ لائن اتحادی یعنی پاکستان کی تمام خدمات بھول چکی ہیں اگرچہ یہ خدمات عام پاکستانیوں کے لیے انتہائی ناخوشگوار ہیں۔ جبکہ ہیلری کلنٹن نے اس تعاون کو جو حکومت پاکستان نے اُس سے کیا کو فراموش کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشناسے بات کر تے ہوئے اور ایک خاص مقصد کے لیے بھارت کی خوشامد کرتے ہوے اس خوشی کا اظہار فرمایاکہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف یہ دونوں ممالک آج ہمیشہ سے ز یادہ کھل کر کام کررہے ہیں۔ یقینا ایسا ہی ہورہاہے مگر دہشت گردی کے خلاف نہیں پاکستان کے خلاف۔ امریکہ اگر اِن اوچھے ہتکنڈوںکی بجائے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوںسے اپنا بور یا بستر گول کرلے تو پاکستان اور افغانستان کے عوام سکھ کا سا نس لے سکیں گے اور اُسے بھی روز روز اپنے دوست، اتحادی اور حواری تبدیل نہ کرنا پٹریں گے۔ ساتھ ہی وہ ہماری سرحدوں کی پاسداری کرے، ڈرون حملوں کا غیر انسانی سلسلہ بند کردے اورپاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑدے کیونکہ یہ تو طے ہے کہ یہ دہشت گرد اتنے وسائل کا سوچ بھی نہیں سکتے جتنے ان کے پاس ہیں اور ہاں یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جان کی اہمیت جان کی ہے چاہے وہ امریکی ہو یا پاکستانی۔ اگر آئندہ وہ پاکستانی سرحدوں کی کسی بھی پامالی سے گریز کرے اور یہ بھی یاد رکھے کہ اس ملک کی عوام میں نیٹو سپلائی بند رکھنے کے لیے دباو برداشت کرنے کی ہمت ہے تو شاید پاک امریکہ تعلقات میں کسی بہتری کی اُمید پیدا ہو سکے۔

2,680
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...