سوال یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کیوں کرتا ہے کیا اُسے طاقت کا نشہ ہے یا ہمیں اپنی ضعیفی کا بہت زیادہ احساس بھی ہے اور خوف بھی، یا وجوہات کچھ اور ہیں لیکن پاک امریکہ تعلقات کی اس ہما ہمی سے بھر پور تاریخ میں اکثر اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے والی صورت حال پیدا ہوتی رہتی ہے۔ خود ہمارے اندر سے ہی اُسے ایسے کردار مل جاتے ہیں جو اُس کا کام کردیتے ہیں یا آسان کر دیتے ہیں۔ معلوم نہیں اسامہ کو دو مئی 2011 کو مارا گیا یا وہ پہلے مر چکا تھا لیکن ایک ڈرامہ سٹیج کر نے میں اُسے جو کردار ہمارے ہی درمیان سے میسر آیا وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی تھا۔ رپورٹس کے مطابق سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہوئے امریکہ کے اس ایجنٹ نے پولیو مہم کا سہارا لے کر اسامہ کے گھر سے ڈی این اے ٹیسٹ حاصل کیے اور یوں اُس کی نشاندہی ممکن ہوئی اور ساتھ ہی دو مئی کا آپریشن ممکن ہوسکا۔ خیر ڈاکٹر شکیل آفریدی پکڑا گیا اور پاکستانی قوانین کے مطا بق اُسے غدار قرار دیا گیا۔ وہ پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے میں منگل باغ کا بھی ممدومعاون رہا اور اسی مقدمے میں اُسے تینتیس سال قید کی سزا سنائی گئی، صرف تینتیس سال قید کی پچاسی سال کی نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ امریکہ نے اس سزا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا شاید اُسے یہ توقع نہ تھی کہ پاکستان کی ’’مجبور حکومت‘‘ اُس کے وفادار کو سزا دے گی۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آئی کہ اُس نے ڈاکٹر آفریدی کے لیے شور مچایا اُس کی سزا پر اعتراض کیا بلکہ حد سے آگے بڑھ کر پاکستانی امداد روکی یعنی ایک شخص کی خاطر پورے ملک سے مز ید بر سرپیکار ہوگیا لیکن حیرت ہے کہ کچھ آوازیں اپنے ملک سے بھی ایسی اٹھیں کہ جو ڈاکٹر آفریدی کا دفاع کر رہی تھیں اور اُس کی سزا پر اعتراض کہ اس طرح پاک امریکہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا اب امریکہ سے تعلقات پاکستان کو کوئی فائدہ دے رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں ممالک آپس کے تعلقات ختم نہیں کر سکتے لیکن امریکہ جیسے ملک سے اگر یہ معمول کی نوعیت کے ہوں تو زیادہ بہتر رہتے ہیں۔ یہاں ملت زیادہ ہو تو ہمیشہ نقصان اور نفرت انتہا سے بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ایک فاصلہ رہنا بہتر ہے لیکن ہمارے کچھ دانشور اس بات پر خوفزدہ رہتے ہیں کہ اگر امریکہ ہماری مدد کرنا بند کردے تو ہمارا ملک کیسے چلے گا بلکہ ایک نجی چینل پر تو ایک ’’عظیم دانشور‘‘ نے یہ تک فرما دیا کہ اگر امریکہ ہماری امداد بند کردے تو ہمیں سٹوڈیو سے گھر تک پیدل جانا پڑے گا۔ جبکہ زندہ قومیں گھاس کھا لیتی ہیں، پیدل چل لیتی ہیں لیکن اپنی خود مختاری کا سودا نہیں کرتیں۔ شکیل آفریدی کی سزا کے بعد پھر سے کئی دلوں میں یہ خدشات اُبھرے لیکن کیوں؟ اس سوال کا جواب ایک نجی چینل پر ڈاکٹر دانش کے پروگرام نشریہ ستائیس مئی سے مل جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے اس سزا کی مخالفت کروانے کے لیے مختلف لکھاریوں، اینکرز اور بزعم خود دانشوروں کے لیے پانچ سو ملین روپے جاری کر دیئے ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ کچھ بڑے نام اپنے نام کو تو کیش کرتے ہی ہیں اپنی ’’خدمات‘‘ کا معاوضہ یوں بھی وصول کرتے ہیں۔ سزا کے بعد مئی کے آخر ی ہفتے کے اخبارات جن میں زیادہ تر انگریزی اخبارات تھے نے اپنے کچھ کالم نویسوں کے کالم چھاپے اور اداریے لکھے جن میں دی نیوز اور ڈان بھی شامل تھے جنہوں نے اس سزا کی مخالفت کی۔ ہر ایک کا اپنا نکتہ نظر ہے لیکن کم از کم قومی حمیت اور غیرت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جنہیں بہر حال نبھانا ضروری ہے تبھی بین الاقوامی طور پر ہم قابل عزت گردانے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے وہ چند معتبر اور غیرت مندنام بھی موجود ہیں جنہوں نے اس شخص کو ہر صورت قابل سزا سمجھا ہے لیکن قومی معاملات پر کوئی ایک بھی مخالف آواز آپ کے لیے تکلیف اور سُبکی کا باعث بنتی ہے جبکہ اس معاملے میں تو ہماری قومی حیثیت کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ امریکی حکومتی نمائندوں نے کھلم کھلا ہمارے عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا کر ایک اور طرح سے بھی ہمارے ملکی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ ہیلری کلنٹن نے اِسے غیر منصفانہ، سینٹر کارل لیون نے اسے شاکنگ اور قابل شرم کہتے ہوئے اِسے پاکستان کے لیے امریکی امداد کی بندش کا باعث قرار دے سکنے کی دھمکی دی۔ امریکی وزیرِدفاع لیون پینٹا جو اکثر پاکستان کے خلاف اپنا غصہ نکالتے نظر آتے ہیں نے بھی اس سزا کو پریشان کن قرار دیا اور اس ڈاکٹر کو پاکستان مخالف نہیں اسامہ مخالف قرار دیا لیکن وہ یہ بھول گئے کہ امریکہ نے اُسی کی مدد سے ہماری سرحدی روندیں اور ہمارے ملک کے اندر آیا۔ اگر اُسے کچھ شواہد ملے تھے تو اُس نے اسے پاکستانی ذمہ داروں کو بتانا کیوں مناسب نہ سمجھا۔ یہ معاملات ملکوں کے درمیان ہوتے ہیں شخصیات کے نہیں۔ اور اسی طرح یہ بھی سو چا جائے کہ ہمارے عدالتی فیصلوں پر امریکی حکومت تبصرہ کس قانون کے تحت کرتی ہے کیا ہم بھی امریکہ کے خلاف اپنا یہ حق استعمال کر سکتے ہیں اور کیا امریکہ اس کو برداشت کرے گا۔ اگر نہیں تو اُسے ہمارے قوانین کا احترام کرنا ہوگا اور اس پر کسی قسم کے تبصرے سے گریز کرنا ہوگا۔ لیکن امریکہ سے بڑی ذمہ داری خود ہماری ہے کہ ہم اپنے اندرونی معاملات اور قومی سلامتی کے بارے میں کسی بھی مصالحت سے گریز کریں، چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت ادا کی جائے یا خود ہمیں ادا کرنی پڑے کیونکہ یقینا سب سے قیمتی چیز ہمارا ملک ہے اسی سے ہماری پہچان اور ہماری عزت ہے۔

1,998
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...