ایسا بھی ایک وقت زمیں پر میری ہوگا
کہ اقبال کی نواسے وطن گونج اٹھے گا

پھر کسی خوشحال کے ایک نعرہ مستانہ کی لے پر
جھومے گا ہرجواں تو وطن گونج اٹھے گا

جام محبت کا پھر درنگ نے لٹا یا تو
محبت کی اس ادا سے وطن گونج اٹھے گا

صحرائوں کا دل چیر کے بولے گابھٹائی
تو دیکھنا کہ کیسے اس صدا سے وطن گونج اٹھے گا

تاریکیاں چھٹ جائیں گی گل رنگ سویرا ہوگا
اور صبح کی اذان سے وطن گونج اٹھے گا

نغمہ عشق سر عرش بھی دیکھو کہ سنا جائے گا
جذبہئ محبت ِانسان سے وطن گونج اٹھے گا


1,164
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...