اس وقت وطن عزیز کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک جانب خارجہ امور مشکلات میں ہیں تو دوسری طرف ملکی معیشت بیٹھی جا رہی ہے۔ میمو سکینڈل بھی لمحہ فکریہ پیدا کیے ہوئے ہے۔عوام گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نڈھال ہیں۔ سی این جی کی شدید قلت ہے اور صنعتوں کو گیس کی فراہمی تسلسل سے نہیں ہو رہی۔روز مرہ کی اشیائ کی قیمتیں دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھییے والے لوگ پریشانی میں گرفتار ہیں کہ جایئں تو کہاں جایئں اور کریں تو کیا کریں کراچی میں واقعہ سٹیل مل جو کسی زمانے میں سونے کی کان کی مانند تھی ،آج بے یقینی کے عالم میں کام کر رہی ہے کہ بس ابھی کام رک جائے گا اورمل بند ہو جائے گی۔ان مسائل کی طرح قومی ائیرلائن اور ریلوے بھی موشکلات سے اٹے پڑے ہیں۔ یہ دونوں ادارے اپنی نوعیت کی وجہ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اور ریلوے تو کچھ زیادہ ہی ضروری ہے کیونکہ یہ عوام کی سستی سواری ہے۔
پٹڑی پر چلنے والی یہ مشین یعنی ریل گاڑی ایک لمبے عرصے سے انسانوں کے کام آرہی ہے۔لوگوں کے علاوہ اِس پر سامان لاد کر کم خرچ پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ریل کا نظام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مخدوش ہورہا ہے۔ کبھی انجن کم پڑجاتے ہیں تو کبھی ایندھن ندارد۔ اکثر گاڑیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔ نتیجہ مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جو ذرا بہتر ا ستعداد رکھتے ہیں وہ توبسوں کے بھاری کرائے ادا کرکے کام چلالیتے ہیں لیکن جن کے پاس اتنی سکت نہیں وہ بیچارے سخت مسائل میں پڑ جاتے ہیں۔
معاملات حل کرنے کے لیے حکومت بجٹ کے علاوہ محکمہ ریلوے کو رقوم دیتی ہے مگر پھر بھی حالات مکمل طور پر سدھرتے نہیں ہیں۔ جب پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو پھر پہیہ رک جاتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے جس نے ایک منافع بخش ادارے کو اس طرح مسائل میں جکڑ دیا ہے؟ وہی ریلوے جو ایک وقت تھا کہ منافع دیتی تھی اب گھاٹے میں جارہی ہے ۔ اِن سب معاملات اور بدحالی کا باعث وہ کرپشن ہے جو اس محکمے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور اگر قابو نہ پایا گیا تو مکمل طور پر چاٹ لے گی۔ حکام عوام کی خدمت کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں سرگرم ہیں اور اپنے فرائض سے بری طرح روگردانی کر رہے ہیں۔ معاضی میں ایسے فضول معاہدے کیے گئے جن کی وجہ سے اب مسائل کا سامنا ہے۔ یہ معاہدے اِس لیے کیے گئے تا کہ ریلوے حکام اور حکومت اپنا پیٹ بھر سکیں۔ علاوہ ازیں دیگر طریقوں سے خردبرد کرکے بھاری عبن کیے گئے ہیں جو ریلوے کی زبوں حالی کا باعث بنے ہیں۔ حالات کو سدھارنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو اِس سنگین مشکلسے چھٹکارا دلایا جا سکے۔
ریلوے کی ملکیت میں بیش قیمت اراضیا ہیں جن میں سے بہت سی زمینوں پر مختلف عناصر نے قبضہ کیا ہوا ہے۔یہ ضروی ہے کہ ان قبضوں کو ختم کیا جائے اور ان پر منافع بخش پراجیکٹ شروع کیے جائیں ۔مثال کے طور پر پلازوں اور

مکانات کی تعمیرکی جائے جن کو کرعوں پر لگا یا جا سکے۔ اِس طرح کی دیگر سکیموں کے ذریعے ریلوے کو ایک multi dimensional organization بنایا جا سکتا ہے اور اِس طریقے سے ادارے کے اخراجات میں کسی حد تک خود انحصاری ممکن ہو سکے گی۔ ایسے اقدامات تب ہی کیے جا سکتے ہیں جب افسرانِ بالا ایمانداری کا مظاہرہ کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بھی ریلوے کی ربوں حالی کے خاتمے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرے۔ کاش ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام کی اس مستی سواری کو تباہ حالی سے بچا کر لوگوں کی مشکلات میں کمی کریں۔
کرپشن کی دیمک کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بدعنوان افراد کے خلاف سخت کاروائیاں کی جائیں اور اور انہیں قرار واقعی سزادی جائے۔ اِن اقدامات کی ایمرجنسی بنیادوں پر ضرورت ہے تاکہ بہتری کی طرف جایا جا سکے۔ احتساب کی تمام امیدیں لوگوں نے عدالت عظمیٰ سے وابستہ کرلی ہیں کیونکہ حکومت تو خود کرپٹ ہے وہ لہذا وہ کیا بہتری کرے گی۔ عدلیہ کے اوپر بے پناہ بوجھ ڈالا جارہا ہے مگر اِس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ۔ ریلوے کے پہئے کو مکمل طور پر رکنے سے بچانے کے لیے عدالتوں کو جلد از جلد محکمہ سے متعلق کیش نمٹانے چاہیے اور پھر فیصلوں پر عمل درامد کو یقینی بنایا جائے تاکہ حالات سد بھر جائیں!
ہمارے آبائو اجداد نے یہ وطن بے شمار قربانیاں دے کر اس لیے نہیں حاصل کیا تھا کہ لوگ مسائل میں گھر جائیں۔پاکستان کو تونجات دہندہ کے طور پر حاصل کیا گیا تھا۔ ایک ایسی جگہ جہاں مسلمانان برصغیر پاک وہند چین کی زندگی گزار سکیں۔لیکن یہاںتو ہمارے اسلاف کی امنگوں کی سراسر خلاف ورضی ہو رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو مسائل سے نکالا جائے تاکہ ادھر لوگ سکھ کا سانس لیں اور ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ ساتھ چل سکیں۔

1,980
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 5
Loading...