نہ محبتوں کے وہ سلسلے
نہ و فور شوق کے و لولے

نہ جنون عشق کی داستان
نہ وہ عشاق کے حو صلے

نہ صحرا نورد نہ کوہ کن
نہ ہی خاک بہ سرنہ وہ منچلے

نہ ہی عقل و دل میں وہ چپقلش
نہ وہ دل رہے نہ وہ فیصلے

کہیں بے رخی ہے کہیں بے بسی
کہیں نازک مزاجوں کے قافلے

ہو جو شوق مکین قلب و جگر
تو سہل ہیں سارے ہی مرحلے

1,353
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 7
Loading...